Thursday, March 3, 2022

The Ottoman Empire ( part 7) سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال ساتواں حصہ

  سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال ساتواں حصہ

  اردو سے ملتی جلتی ایک ترکی کہاوت ہے کہ جس جگہ سرخ سیب ہو گا وہاں پتھر تو آئیں گے۔ لیکن رومیوں نے کبھی سوچا تک نہ ہو گا خیال تک نہیں کیا ہو گا کہ سرخ سیب کیلئے آنے والے پتھر چھے، چھے سو کلوگرام وزنی ہوں گے۔

گرینائٹ سے بنے ہوں گے اور شہر کی دیواریں تنکوں کی طرح اڑا کر رکھ دیں گے۔ چودہ سو تریپن میں عثمانی فوج قسطنطنیہ پر ایسے ہی پتھر برسا رہی تھی تاکہ یہ سرخ سیب اس کی جھولی میں آن گرے۔ مگر پھر اچانک سب کچھ پلٹ گیا۔

عثمانیوں کی سپرگن ٹوٹ گئی۔ اٹلی سے آنے والے ایک جہاز نے عثمانیوں کے چھکے چھڑا دیئے اور افراتفری میں انہوں نے ایسا قدم اٹھا لیا جس نے انھیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ قسطنطنیہ کی چار میل لمبی حفاظتی دیوار کے تین حصے تھے۔ سلطان نے اپنی فوج کو بھی اسی ترتیب سے کھڑا کیا۔

سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال ساتواں حصہ

ان تین حصوں میں سب سے اہم دیوار کا درمیانی حصہ تھا۔ جو لائیکس ویلی کہلاتا تھا اور اصل میں یہی وہ حصہ تھا جس کی دیوار سب سے کمزور تھی۔ اس حصے کے دونوں کناروں پر ایک ایک گیٹ تھا۔ سلطان کے خیمے کے دائیں ہاتھ پر جو گیٹ تھا وہ سینٹ رومانوس گیٹ بھی کہلاتا تھا جبکہ بائیں ہاتھ والا گیٹ ہیڈریا۔نوپل تھا۔ دیوار لائیکس ویلی کے بالکل سامنے سلطان نے اپنی نگرانی میں پچاس ہزار سپاہی تعینات کیے تھے۔ جن میں بارہ ہزار جنیسریز بھی شامل تھے۔ سلطان کے دائیں ہاتھ یعنی سینٹ رومانوس گیٹ سے آگے مارمرا کے سمندر تک مزید پچاس ہزار فوج تعینات تھی۔ یہ اناطولیہ سے آئی ہوئی مسلمان پیدل فوج تھی۔

یہ تربیت یافتہ، بہترین ہتھیاروں اور زرہ بکتروں سے لیس سپاہی تھے۔ جبکہ سلطان کے بائیں ہاتھ یعنی ہیڈریانوپل گیٹ سے لے کر گولڈن ہارن تک کوئی ایک لاکھ فوج تعینات تھی۔ یہ انتہائی غیرمنظم اور کم تربیت یافتہ سپاہی تھے جنہیں ۔باشی بزوکس۔ کہا جاتا تھا۔ ان میں یورپ سے آئی ہوئی عیسائی فوج بھی شامل تھی۔ عثمانی فوج کے بالکل آگے شہر کی حفاظتی دیوار سے اڑھائی سو گز کے فاصلے پر ترک انجینئرز نے ایک خندق کھود رکھی تھی۔ جو پوری حفاظتی دیوار کی لمبائی کے برابر تھی یعنی چار میل لمبی ۔


اس خندق کے پیچھے ایک چھوٹی سی دیوار بنا دی گئی تھی جس کے پیچھے گڑھے کھود کر ان میں توپیں فٹ کی جا چکی تھیں۔ سپرگن کو سلطان کے خیمے کے بالکل سامنے نصب کیا گیا تھا جہاں سے وہ حفاظتی دیوار کے سب سے کمزور حصے کو باآسانی نشانہ بنا سکتی تھی۔ سلطانی فوج کے مقابلے میں کونسٹینٹائن نے اپنی تقریباً پوری ہی فوج یعنی نو ہزار سپاہی چار میل لمبی مغربی دیوار پر پھیلا دیئے تھے۔ سلطان کی انتہر یا ستر توپوں کے مقابلے میں کونسٹینٹائن کے پاس صرف پندرہ توپیں تھیں۔ اس پر مزید یہ کہ دیواریں کمزور ہو چکی تھیں۔ ان پر رکھ کر اگر توپیں چلائی جاتیں تو جھٹکوں سے دیواریں ٹوٹ سکتی تھیں۔ چنانچہ دیوار پر نمائشی انداز میں توپیں لگا دی گئیں۔ جبکہ سی آف مارمرا والی پانچ میل لمبی دیوار جو سمندر کے ساتھ تھی اور جہاں سے حملے کا زیادہ خطرہ نہیں تھا۔ وہاں۔۔۔ کچھ کچھ فاصلے پر صرف نگرانی کیلئے چند سپاہی اور کچھ توپیں نصب تھیں۔


اب رہ گئی شہر کی تیسری طرف گولڈن ہارن والی سائیڈ کی دیوار۔ یہ حصہ زنجیر کی وجہ سے پہلے ہی محفوظ بنایا جا چکا تھا۔ اس لیے وہاں کوئی فوج تعینات نہیں کی گئی۔ یہ تو تھی دونوں طرف کی زمینی فوج کی پوزیشن اب ذرا دونوں فوجوں کی بحری پوزیشن دیکھتے ہیں۔ تو سلطان کے ایک سو اسی یا بعض روایات کے مطابق ایک سو چالیس بحری جہاز سی آف مارمرا سے آبنائے باسفورس تک پٹرولنگ کر رہے تھے۔

ہم آپ کو پچھلی قسط میں بتا چکے ہیں. کہ زنجیر کی وجہ سے عثمانی جہاز گولڈن ہارن میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ جبکہ قسطنطنیہ کا پورا بحری بیڑہ 20 سے 30 جہازوں پر مشتمل تھا۔ اور گولڈن ہارن کی بندرگاہ میں محفوظ کھڑا تھا۔ لیکن اب اس کے امتحان کا وقت آن پہنچا تھا۔

کیونکہ سات اپریل کو کیل کانٹے سے لیس عثمانی فوج، انھیں چاروں طرف سے گھیر چکی تھی۔ چھوٹی چھوٹی چند جھڑپیں بھی ہو چکی تھی۔ لیکن یہ صرف نیٹ پریکٹس تھی۔ بارہ اپریل کی رات سلطان محمد سپر گن کے پاس آیا۔ اور چند لمحوں بعد پہلے گولے کی ضرب سے قسطنطنیہ کی دیواریں تھرا اٹھیں۔ توپوں کے ساتھ ساتھ عثمانیوں کی منجنیقیں بھی دیوار کے پار شہر میں پتھر پھینک رہی تھیں۔ کئی پتھر شاہی محل پر بھی گرے۔

قسطنطنیہ پر روزانہ ایک سو بیس گولے فائر ہوتے تھے۔ ایک سو سے چھے سو کلوگرام تک وزنی گولے جب شہر کے اندر گرتے تو میلوں تک زمین لرز اٹھتی۔ جواب میں دیوار کے محافظوں نے بھی اپنی توپیں چلانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ہوا یہ کہ ان کی سب سے بڑی توپ، فائر کرتے ہی پھٹ گئی۔ وجہ یہ تھی کہ توپیں چلانے کیلئے اچھے ماہرین اور مناسب بارود موجود ہی نہیں تھا۔

بہرحال رومیوں نے تحفظ تو کرنا تھا۔ انھوں نے چاک اور اینٹوں کا پاؤڈر مکس کر کے ایک مسالہ تیار کیا، جسے دیواروں پر انڈیل دیا گیا تاکہ ان میں کچھ مضبوطی اور ذیادہ پیدا ہو سکے۔ اس کے علاوہ شہر والوں نے اپنے لحافوں اور چٹائیوں سے روئی اور چمڑا نکال کر انہیں لکڑی کی لمبی لمبی شیٹوں پر باندھ دیا۔ اور ان شیٹوں کو دیواروں کے آگے لٹکانا شروع کیا تاکہ دیواریں گولوں کا دباؤ برداشت کر سکیں۔ لیکن جدید اور بھاری بھرکم گولوں کے آگے کوئی ایسا ٹوٹکا کوئی ایسی ترکیب کام نہیں آ رہی تھی۔ صرف ایک ہفتے کی بمباری سے ہی بیرونی دیوار کا بڑا حصہ گر گیا تھا لیکن یہاں عثمانیوں کیلئے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ یہ کہ عثمانیوں کی سپر گن گولہ فائر کرنے کے بعد تیزی سے ٹھنڈی ہونے لگتی تھی جس سے اس کی نال ٹوٹنے لگتی تھی۔ اسے تیزی سے ٹھنڈا ہونے سے بچانے کے لیے اس پر گرم تیل ڈالنا پڑتا تھا۔ اسی مسئلے کی وجہ سے سپر گن دن میں صرف سات بار فائر پھینک سکتی تھی۔

دوسری توپوں کے ساتھ بھی ایسے ہی کچھ مسائل تھے۔ جن کی وجہ سے فائرنگ بار بار روکنا پڑتی تھی۔ لیکن یہ وقفہ قسطنطنیہ والوں کیلئے بہت بڑی نعمت تھا۔ اس دوران ہزاروں رومی مل جل کر دیواروں کی مرمت کر لیتے تھے۔ اسی دوران انھوں نے سینٹ رومانوس گیٹ کے پاس ٹوٹی ہوئی دیوار اس طرح مرمت کر لی کہ اب وہاں پتھروں، اینٹوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑ بن گئی تھی۔ کچھ دوسری کمزور جگہوں پر مٹی اور ریت سے دیواروں کی مرمت بھی کر دی گئی تھی۔

تو اٹھارہ اپریل کو عثمانیوں نے ایک ایسی ہی کمزور جگہ سے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ لیکن بارش کی وجہ سے یہاں مٹی کی دیوار پر پھسلن زیادہ تھی۔ جس کی وجہ سے عثمانی فوج اوپر نہ چڑھ سکی۔ ویسے بھی رومی فوج اوپر سے تیروں، پتھروں اور گولیوں کی بارش کر رہی تھی۔

سو عثمانیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس حملے میں دو سو عثمانی سپاہی جان سے گئے۔ جہاں شہر میں داخل ہونے اور گیٹ کھولنے کی یہ کوشش ناکام رہی۔ وہیں عثمانی فوج کے ساتھ ایک اور ٹریجڈی بھی ہو گئی۔ ابھی جنگ کے ابتدائی دن تھے کہ سلطان محمد کی امیدوں کا مرکز اور سب سے بڑی توپ ۔۔ سپرگن فائر کرتے ہوئے ایک دھماکے سے پھٹ گئی۔ نہ صرف توپ پھٹی بلکہ اسے چلانے والے اس کے ارگرد کھڑے ماہر توپ ساز اور سپاہی بھی مارے گئے۔ ان مارے جانے والوں میں سے ایک اوربن بھی تھا۔ انجینئر اوربن۔

یہ بہت بڑا نقصان تھا ناقابل تلافی نقصان تھا۔ لیکن یہاں نئی سپرگن بنانے کا وقت بحرحال نہیں تھا۔ چنانچہ ایک دیسی حل نکالا گیا کہ توپ کی ٹوٹی ہوئی نال کو جوڑ کر اس پر لوہے کے بڑے بڑے رنگز چڑھا دئیے گئے۔ یہ جگاڑ عارضی طور پر کام کر گیا اور توپ نے فائرنگ شروع کر دی لیکن کچھ عرصے بعد یہ پھر ٹوٹ گئی۔ سلطان کو بہت غصہ آیا لیکن ظاہر ہے غصہ، برونز کی ٹوٹی نال کو جوڑ تو نہیں سکتا تھا، سو بیکار تھا۔ سلطان کو عقل ہی لڑانا تھی۔ اور وہ اور اس کے ساتھی عقل لڑاتے رہے اور کسی نہ کسی طرح سپر گن کچھ دیر کے لیے فائر کرنے کے قابل بناتے رہے۔ لیکن ٹھہریے ابھی ایک سپر دھچکہ اور بھی تھا۔

ہم آپ کوبتا چکے ہیں کہ سلطان نے یورپی طاقتوں ہنگری اور وینس سمیت کئی یورپی ممالک سے صلح کر لی تھی یا معاہدہ کر لئے تھے۔ لیکن جب سلطان ان طاقتوں سے بے فکر ہو کر قسطنطنیہ کا محاصرہ شروع کر چکا تھا۔ تو اچانک ایک یورپین ایمپائر ہنگری نے عثمانیوں سے امن معاہدہ توڑ دیا۔ یعنی اب وہ غیر جانبدار نہیں تھے بلکہ فوج لے کر قسطنطنیہ کی مدد کو آ سکتے تھے۔ اور یاد رکھیں کہ ہنگری ایک طاقتور سلطنت تھی۔

دوسری طرف جنیوا نے بھی اپنے شہریوں کو قسطنطنیہ کی مدد کا حکم دے دیا۔ ان واقعات نے عثمانیوں پر دباؤ بڑھا دیا کہ وہ شہر کو جلد سے جلد فتح کریں یا واپس لوٹ جائیں اور اپنی سلطنت کی حفاظت کریں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر عثمانیوں کو اسی دوران ایک دشمن سے ایک بہت بڑی مدد مل گئی۔ ہنگری کا وہ سفیر جو امن معاہدے کے خاتمے کا پیغام لے کر آیا تھا وہ انجانے میں ترکوں کو ایک کام کی بات بتا گیا۔ اس نے ترکوں کو توپ سے فائر کرتے دیکھا تو ترکوں کی ناتجربہ کاری پر ہسنےلگا۔ پھر اس نے خود ہی ترکوں کو بتایا کہ تم ایک دیوار پر ایک ہی جگہ کو نشانہ بنا کر غلطی کر رہے ہو۔

دیوار توڑنے کا صحیح فارمولا تین نشانات پر ٹرائی اینگل میں نشانہ لگانا ہے۔ ترکوں کے ہاتھ ہنسی ہنسی میں فارمولا آ گیا۔ انھوں نے ایسا ہی کیا اور دیوار کی تباہی کا عمل تیز ہو گیا۔ لیکن دوسری طرف قسطنطنیہ کے لیے سمندروں سے مدد بھی آ گئی۔ زمینی محاذ کے ساتھ بحری محاذ بھی بھرپور گرم ہو چکا تھا۔ ترک بحری بیڑے نے اٹھارہ اپریل کو اپنے ایڈمرل سلیمان بالٹوگلو کی قیادت میں گولڈن ہارن پر پہلا حملہ کیا۔ عثمانیوں نے زنجیر کی حفاظت کیلئے کھڑے مخالف جہازوں پر پہلے گولہ باری کی اور پھر ان جہازوں پر چڑھ کر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن قسطنطنیہ کے جہاز بہت بڑے تھے۔ ان پر چھوٹے گولوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ان کے محافظوں نے اپنے بلند جہازوں سے تیروں کی بارش کر کے عثمانیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔

دو روز بعد بیس اپریل کی صبح عثمانی بیڑے کو دوسرے چیلنج سے واسطہ پڑا جب سی آف مارمرا میں جنیوا کے تین بحری جہاز ان کے مقابلے پر آ گئے۔ ان جہازوں کو پوپ نکولس فائیو نے بھیجا تھا۔ ان میں قسطنطنیہ کیلئے سپاہی، ہتھیار اور خوراک لدی ہوئی تھی۔ ان کے ساتھ قسطنطنیہ کا ایک تجارتی بحری جہاز بھی تھا۔ سلطان اس وقت ساحل سے دو میل دور اپنے خیمے میں بیٹھا تھا۔ اسے ان جہازوں کے آنے کی خبر ملی تو وہ گھوڑا دوڑاتا ہوا ساحل پر پہنچا۔ اس نے اپنے بحری بیڑے کے کمانڈر کو سخت ترین پیغام بھیجا ’’تم ان جہازوں کو پکڑ کر میرے پاس لے آؤ یا پھر زندہ واپس مت آنا۔

سلطان اتنا پرجوش اور مضطرب تھا کہ وہ اپنا گھوڑا بار بار پانی میں ڈال دیتا تھا۔ وہ بلند آواز میں پکار پکار کر اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھا رہا تھا۔ لیکن ایک بار پھر وہی مسئلہ ۔۔۔ کہ دشمن کے جہاز عثمانی بحری جہازوں سے جسامت میں بہت بڑے تھے۔ ان پر گولہ باری اور تیروں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ تین گھنٹے کی لڑائی اور بھاری جانی نقصان اٹھا کر عثمانی بحری بیڑہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ قسطنطنیہ والوں نے زنجیر ہٹا کر چاروں امدادی جہاز گولڈن ہارن میں داخل کر لئے اور زنجیر پھر برابر کر دی۔

پچھلی قسط میں آپ جان چکے ہیں کہ قسطنطنیہ کے پاس سب سے بڑا ہتھیار وقت ہی تو تھا۔ تو اس مدد کے آ جانے سے ان کے پاس وقت کی دولت مزید آ گئی تھی۔ وہ محاصرہ کو اور دیر تک برداشت کر سکنے کے قابل ہو گئے تھے۔ اب ظاہر ہے عثمانی سلطان محمد ثانی کا غصے میں آنا جائز تھا۔ وہ دس ہزار سپاہیوں کے ساتھ اپنے بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر پہنچا۔ اس نے ایڈمرل سلیمان بالٹوگلو کو سو کوڑے لگوائے، اس کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم جاری کیا اور اسے برطرف کرتے ہوئے حمزہ بے کو نیا ایڈمرل بنا دیا۔

عثمانی فوج کو اب اگر فتح حاصل کرنا تھی تو جہازوں کو ہر صورت گولڈن ہارن میں پہنچانا تھا۔ سلطان محمد نے بحری جنگی تاریخ کو بہت باریکی سے پڑھا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ تاریخ میں کئی بار بحری جہازوں کو زمینی راستوں پر بھی کھینچنا پڑتا ہے۔ ویسے بھی اس سے صرف اڑھائی سو برس پہلے سلطان صلاح الدین ایوبی یہی کر چکا تھا۔ وہ کشتیوں کو دریائے نیل سے نکال کر خشکی پر کھیچتے ہوئے بحیرہ احمر میں ڈال چکا تھا۔ جبکہ یورپینز اور وائی کنگز بھی تاریخ میں ایسا کر چکے تھے۔ سو سلطان نے بھی اپنے جہاز خشکی کے راستے گولڈن ہارن میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے گلاٹا سے گولڈن ہارن تک لکڑی کے تختوں کی تقریباً ڈیڑھ میل لمبی سڑک بنوائی۔

اس سڑک کے راستے میں ایک، دو سو فٹ اونچی پہاڑی بھی آتی تھی۔ اس سڑک پر لکڑی کے پہیے رکھ کر انہیں جانوروں کی چربی سی چکنا کر دیا گیا۔ پھر چرخیوں کی مدد سے چھوٹے بحری جہازوں کو سمندر سے کرین کی طرح اٹھا کر ان پہیوں پر رکھوایا گیا۔ سینکڑوں انسان اور بیل ان جہازوں کو مضبوط رسیوں کی مدد سے کھینچ کر زنجیر کو بائی پاس کرتے ہوئے گولڈن ہارن میں لے گئے۔ اس طرح بحری جہاز گولڈن ہارن میں اتار دئیے گئے قسطنطنیہ کا ایک مضبوط سہارا ٹوٹ گیا۔

جب عثمانی بحری بیڑہ گولڈن ہارن میں پہنچا تو قسطنطنیہ میں کہرام مچ گیا۔ شہروالوں کو مغربی دیواروں سے سینکڑوں سپاہی اور تیر انداز گولڈن ہارن والی دیوار پر بھیجنا پڑے۔ اس منتقلی کی وجہ سے مغربی دیوار کا دفاع جو پہلے ہی کمزور پڑ چکا تھا مزید کمزور ہو گیا۔ قسطنطنیہ کے محافظ اس نتیجے پر پہنچے کہ شہر کو بچانا ہے تو گولڈن ہارن سے عثمانی بیڑے کو ہٹانا ہو گا۔ اسی لیے اٹھائیس اپریل کو قسطنطنیہ کے پانچ بڑے بحری جہازوں اور کئی چھوٹی کشتیوں نے عثمانی بیڑے پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے گریک فائر سے عثمانی جہازوں کو جلانے کی بھی کوشش کی۔

لیکن یہ حملہ کامیاب نہیں ہوا۔ بلکہ ان کی ایک حملہ آور کشتی مکمل تباہ ہو گئی اور دوسری بیکار ہو گئی۔ عثمانیوں کی بھی ایک کشتی تباہ ہوئی لیکن باقی بیڑہ محفوظ رہا۔ بحری لڑائی میں شدد آنے کے ساتھ زمینی محاز پر بھی جنگ تیز ہو گئی تھی۔ سات مئی تک عثمانیوں نے شہر کی دیوار پر مزید دو بڑے حملے بھی کر دئیے تھے۔ لیکن دیوار پر چڑھنا ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔ عثمانیوں نے لکڑی کے بنے ٹاورز بھی استعمال کیے۔ جن کے ذریعے سپاہیوں کو دیوار پر اتارے جانے کا منصوبہ تھا۔ لیکن یہ بھی ناکام رہا۔ کیونکہ انھیں رومیوں نے گریک فائر سے جلا دیا تھا۔

مزید یہ کہ عثمانی انجینئرز نے بارودی سرنگیں بچانے کیلئے جو غاریں کھودی تھیں ان میں بھی محافظوں نے پانی چھوڑ دیا تھا۔ یعنی یہ بھی ناکارہ ہو چکی تھیں۔ عثمانی فوج ایک بار پھر بددل ہونے لگی۔ اس پر مزید یہ کہ وینس سے ایک جہاز قسطنطنیہ کی طرف آ رہا تھا۔ تئیس مئی کو وینس کا ایک بحری جہاز قسطنطنیہ پہنچا جس نے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا۔

اصل میں تو یہ جہاز شہر والوں کو خبر دینے آیا تھا کہ یورپ سے کوئی فوج ان کی مدد کیلئے نہیں آئے گی۔ لیکن چونکہ عثمانیوں کے یورپین ملکوں سے معاہدے ٹوٹ چکے تھے اس لیے وہ سمجھے کہ ہنگری سے فوج آ گئی پے۔ عثمانی فوج میں مشہور ہو گیا کہ ہنگری جرنیل کی قیادت میں ایک صلیبی فوج زمینی راستے سے تھریس پہنچ گیا ہے۔ جس کا نشانہ اب عثمانی دارالحکومت ایڈرین ہو گا۔ ان کے خیال میں وینس کا یہ جہاز دراصل اسی صلیبی لشکر کا ایک حصہ ہی ہے۔

یہ افواہ محاصرے میں بیٹھی فوج کے لیے نیندیں اڑا دینے والی تھی۔ سلطان کے لیے فوجیں لے کر آنے والے سردار بھی اس افواہ سے فتح کی امید چھوڑنے لگے تھے۔ ایسے میں سلطان نے ایک قائد کی طرح اپنی فوج کو امید دلانے کا ایک طریقہ نکالا۔ اس نے اپنے وزیروں اور کمانڈروں کو ایک جگہ جمع کیا اور ان کے سامنے قالین پر درمیان میں ایک سرخ سیب رکھ دیا۔ پھر کہا کہ تم میں سے کون قالین پر پاؤں رکھے بغیر اسے اٹھا سکتا ہے۔ سب خاموش رہے اور کوئی آگے نہ بڑھا۔

تب سلطان خود آگے بڑھا اور اس نے قالین کو رول کرنا شروع کیا لپیٹنا شروع کیا۔ لپیٹتے لپیٹتے وہ سیب تک آ گیا اور پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر نے سیب اٹھا لیا۔ پھر اس نے قالین دوبارہ بچھا دیا۔ یہ سب کے لیے پیغام تھا کہ شہر کی فتح اب زیادہ دور نہیں۔ اس کے لیے سلطان اور اس کے مشیروں نے طے کیا کہ ایک آخری پرزور حملہ کیا جائے۔  اس حملے میں شہر فتح ہو گیا تو ٹھیک ورنہ محاصرہ ہٹا لیا جائے گا۔ آخری حملے سے پہلے چھبیس مئی چودہ سو ترپن کی رات، سلطان محمد نے ایک نفسیاتی حربہ آزمایا۔ اس نے حکم دیا کہ اب سے ہر رات ہر خیمے کے سامنے ایک نہیں دو، دو بڑے الاؤ روشن کئے جائیں گے۔ سپاہی آدھی رات تک فوجی بینڈ بجائیں گے اور خوب نعرے بازی کی جائے گی۔

پہلی رات جیسے ہی الاؤ روشن ہوئے، روشنی کی ایک لکیر تاحد نظر پھیل گئی۔ فوجی بینڈ اتنے زور سے بجے کہ قسطنطنیہ کے محافظ مارے خوف کے سینے پر صلیب بنانے لگے۔ چھبیس سے اٹھائیس مئی تک تین راتیں مسلسل یہی ہوتا رہا۔ ستائیس مئی کی رات تو سلطان کی فوج میں شامل کچھ عیسائی سپاہیوں نے شہروالوں کو خبردار بھی کیا۔ انہوں نے تیروں کے ساتھ باندھ کر وارننگ والے پیغامات شہر میں پھینکے۔ ان پر لکھا تھا، تیار رہو عثمانی فیصلہ کن حملہ کرنے والے ہیں۔ ادھر چھبیس سے اٹھائیس مئی تک عثمانی توپوں نے دیوار پر دن رات اتنی بمباری کی، جتنی پوری محاصرے کے دوران پہلے نہیں ہوئی تھی۔ سپرگن بھی کبھی کبھار چلتی رہی لیکن باقی توپوں نے مل کر سپرگن سے بھی زیادہ کام کیا اور کئی جگہوں سے دیواروں کی دھجیاں اڑ گئیں۔

ان تین دنوں میں سلطان اپنے لشکر میں گھومتا رہا۔ وہ سپاہیوں کو بہادری پر انعام اور بزدلی پر سزا دینے کے اعلانات کر رہا تھا۔ مغربی مصنفین لکھتے ہیں کہ سلطان نے اپنے سرداروں کے سامنے بڑی بڑی قسمیں کھا کر کہا کہ اگر شہر فتح ہو گیا۔ تو سپاہیوں کو تین دن تک شہر میں لوٹ مار کرنے اور غلام لونڈیاں جمع کرنے کی اجازت ہو گی جیسا کہ اس وقت دستور تھا۔ یہی نہیں اس نے اپنے سرداروں سے یہ بھی کہا کہ شہر میں خزانے کے ڈھیر، خوبصورت عورتیں، شاندار گھر اور باغات ہیں اور یہ سب انہیں کے لیے ہیں۔ اگرچہ مسلمان مصنفین نے ایسی کوئی بات نہیں لکھی جس سے ظاہر ہو سکے کہ سلطان نے اپنے سپاہیوں کو ایسا کوئی لالچ دیا تھا۔

اٹھائیس مئی کو ساری مسلم فوج نے روزہ رکھا اور پورا دن عبادت میں گزارا۔ دوسری طرف قسطنطنیہ کے اندر بھی پادریوں نے مقدس علامات اور صلیب کے ساتھ شہر میں جلوس نکالا۔ وہ مغربی دیوار پر بھی گئے جہاں انہوں نے شہر کے محافظوں کو فتح کی بشارت دی اور ان پر مقدس پانی بھی چھڑکا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا جب شہر کی دیواروں پر پانچ ہزار گولے برسائے جا چکے تھے۔ اب آخری حملے کا وقت ہوا چاہتا تھا اور ساتھ میں محاصرے والوں کے لیے سب سے بری خبر یعنی موسلادھار بارش کا بھی۔ رات کے وقت سلطان نے تمام فوج اور بحری بیڑوں کو حکم دیا کہ وہ ایک ہی وقت میں شہر پر ٹوٹ پڑیں۔ لیکن اصل میں یہ سارے حملے صرف دکھاوے کیلئے تھے تاکہ محافظوں کی توجہ بٹی رہے۔ اصل حملہ مغربی دیوار کے سینٹر میں، مرکز میں رومانوس گیٹ کے پاس ہونا تھا جہاں کی دیوار زیادہ تر پہلے سے گر چکی تھی۔

یہاں صرف مٹی اور پتھروں کی ایک باڑ رہ گئی تھی۔ سلطان رومانوس گیٹ کے قری ہی کھڑا تھا۔ رات ڈیڑھ بجے سلطان نے اپنی غیر منظم فوج کو دیوار پر حملے کا حکم دیا۔ ڈھول کی تھاپ پر ہزاروں سپاہی خندق عبور کر کے باڑ پر ٹوٹ پڑے۔ قسطنطنیہ کے محافظ اپنے کمانڈر جیسٹینیانی کی قیادت میں بھرپور دفاع کر رہے تھے۔ انھوں نے عثمانی فوج پر پتھروں، گریک فائر اور تیروں کی ایسی بارش کی کہ ہزاروں سپاہی مارے گئے۔ دو گھنٹے تک بڑی خوفناک جنگ ہوئی۔ سلطان نے اس غیر منظم فوج کے پیچھے ملٹری پولیس کھڑی کر رکھی تھی۔ اور اس کے پیچھے جنیسریز کھڑے تھے۔ جو سپاہی بھاگ کر واپس آتا وہ اسے ڈنڈے کے زور پر واپس جنگ میں دھکیل دیتے۔ اگر کوئی سپاہی ملڑی پولیس کا گھیرا توڑ دیتا تو پیچھے کھڑے جنیسریز تلواروں سے اس کے ٹکڑے کر دیتے۔ چنانچہ یہ غیرمنظم سپاہی جان توڑ کر آخری لمحات تک لڑے۔ دو گھنٹے بعد رات کے ساڑھے تین بجے جب شہر کے محافظ بھی لڑتے لڑتے بری طرح تھک چکے تھے۔ تو سلطان نے غیرمنظم فوج پیچھے ہٹا کر تازہ دم دائیں بازو والی فوج اناطولین انفنٹری کو حملے کا حکم دیا۔ اناطولین انفنٹری کے دستے ڈھالوں کی آڑ میں آگے بڑھنے لگے تو ان پر تیروں اور پتھروں کی بارش ہونے لگی۔ پھر شہر کے محافظوں نے ان پر گریک فائر پھینک کر انہیں جلانا شروع کر دیا۔ محافظوں نے چھوٹی توپوں سے فائر بھی کھول دیا۔ اس سب کچھ سے انفنٹری کے سینکڑوں سپاہیوں کی جانیں چلی گئیں۔

اب سلطان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ بھی محافظوں پر توپوں سے گولہ باری کرے۔ حالانکہ سلطانی توپوں کی گولہ باری سے عثمانی سپاہیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ لیکن سلطان یہ رسک لینے پر مجبور تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے توپ خانے کو باڑ پر بھرپور گولہ باری کا حکم دے دیا۔ باڑ پر بمباری شروع ہو گئی۔ یہ سٹریٹجی کامیاب رہی۔ ایک بڑا گولہ گرا اور باڑ کا ایک حصہ اڑ کر پرے جا گرا۔ یہاں ایک بڑا گیپ بن گیا تھا جس سے انفنٹری کے تین سو سپاہی شہر کے اندر داخل ہو گئے۔ لیکن رومی محافظ بھی مستعد کھڑے تھے، ایکٹو تھے۔ انہوں نے ان تین سو سپاہیوں کو زیادہ آگے نہیں بڑھنے دیا اور جلد ہی پیچھے دھکیل دیا شہر سے باہر نکال دیا۔ یہ خوفناک لڑائی دو گھنٹے جاری رہی۔ لیکن انفنٹری کو فتح نہ مل سکی۔

صبح کے ساڑھے پانچ بجے سلطان نے اس فوج کو بھی واپس بلا لیا۔ ان حملوں میں سلطان کی فوج بری طرح تھک چکی تھی۔

اب صرف بارہ ہزار جنیسریز اور پانچ ہزار دوسرے سپاہی باقی بچے تھے۔ یعنی کل سترہ ہزار فوج ہی صحیح سلامت اور تازہ دم پیچھے کھڑی تھی باقی فوج رات بھر کے حملوں میں تھک چکی تھی۔ سلطان شہر کے محافظوں کو آرام کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔ سو اس نے اپنی فوج کے اس آخری حصے کو اسی وقت حملے کا حکم دے دیا۔  سلطان اپنی فوج کے اس آخری تازہ دم حصے کو بھی حملے کا حکم دے کر یہ جانتا تھا کہ وہ بہت بڑا جوا کھیل رہا ہے۔ اس کی ساری کامیابی کا انحصار اس فائنل حملے پر تھا اگر یہ حملہ بھی ناکام ہو جاتا تو پھر سلطان کے پاس واپسی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس حملے کو جنیسریز لیڈ کر رہے تھے۔ انہوں نے بھرپور حملہ کیا۔ لیکن شہر کے محافظ تھکن سے چور ہونے کے باوجود جنیسریز کا مقابلہ بھی ڈٹ کر کرنے لگے۔

بظاہر فتح کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔ یہ تاریخی جنگ اپنے عروج پر تھی کہ عثمانیوں کو ایک غیرمتوقع کامیابی مل گئی۔ وہ یہ کہ شہر کی مغربی دیوار کی تہہ میں ایک خفیہ دروازہ تھا جسے سرکس ڈور بھی کہا جاتا تھا۔ اس دروازے کو شہر کے محافظ عثمانی کیمپ پر چھاپہ مار کارروائیوں کیلئے استعمال کرتے تھے۔ اٹھائیس مئی کی رات کچھ رومی محافظوں نے اس دروازے کو استعمال کیا لیکن واپسی پر بند کرنا بھول گئے۔ ایک ترک سپاہی نے یہ منظر دیکھ لیا۔ پھر پچاس ترک سپاہی یہاں سے اندر داخل ہو گئے اور انہوں نے شہر کی دیوار پر پہنچ کر صلیبی پرچم پھاڑ دئیے اور سلطنت عثمانیہ کا پرچم لہرا دیا۔

ادھر دوسری مغربی دیوار پر محافظوں کے ساتھ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ان کا کمانڈر جیسٹینیانی جس نے دیومالائی ہیرو ایکیلیس جیسا لباس پہن رکھا تھا وہ پہلے سے زخمی تھا لیکنن رات کی لڑائی میں اسے کچھ اور زخم آئے۔ اب وہ لڑنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اس کی حالت اتنی خراب تھی کہ شہنشاہ کونسٹینٹائن نے اسے فرار ہونے کے لیے خفیہ دروازے کی چابی دے دی۔ لیکن جیسے ہی جیسٹینیانی کے چند ساتھی اسے لے کر اس دروازے سے باہر نکلے، اس کے باقی سیکڑوں ساتھی بھی اس کے پیچھے ہو لیے اور دیوار سے ہٹ گئے۔ جیسٹینیانی اور اس کے ساتھیوں کے ہٹ جانے سے دیوار کا دفاع بے حد کمزور ہو گیا۔  اس لمحے جنیسریز کا آغا حسن اپنے تیس ساتھیوں سمیت باڑ پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے باڑ پر عثمانی پرچم بھی لہرا دیا۔

اگرچہ حسن اور اس کے اٹھارہ ساتھی لڑائی میں کام آ گئے۔ لیکن باڑ پر لہراتا عثمانی پرچم باہر کھڑی اور اندر موجود رومی شہریوں تک کو نظر آ رہا تھا۔ یہ انتیس مئی کی صبح سات بجے کا وقت تھا اور قسطنطنیہ ایک ہزار سال بعد سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں فتح ہو چکا تھا۔ سرخ سیب ان کی جھولی میں آن گرا تھا۔ جینیسریز شہر میں داخل ہو چکے تھے۔ انھیں دیکھ کر شہر کے باہر کھڑی تھکی ہوئی عثمانی فوج میں ایک نیا جوش بھر گیا۔ وہ بھی جنیسریز کے پیچھے شہر میں داخل ہونے لگی۔

دس منٹ کے اندر اندر تیس ہزار سپاہی شہر کی اندرونی دیوار تک پہنچ کر اس کے دروازے کھول رہے تھے۔ شہر کے محافظ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ سات سو سال کا انتظار ختم ہو چکا تھا۔ لیکن مسئلہ تھا شہر کو محفوظ اور پر امن رکھنے کا۔

مگر حقیقت یہ تھی کہ شہر کو فتح کرنے والوں کو ابھی آپس میں بھی لڑنا تھا۔ یہ کیا کہانی تھی۔ کچھ عیسائی آج بھی قسطنطنیہ کی فتح کی امید کیوں لگائے بیٹھے ہیں؟

قسطنطنیہ کی دیواروں میں کون زندہ ہے؟

اور ہاں وہ آخری رومی شہنشاہ کونسٹینٹائن الیون کا کیا ہوا؟

ہیگیا صوفیہ کے تہہ خانوں سے کون سا خزانہ ملا تھا؟

یہ سب آپ  پڑھے گے لیکن سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کے اس سیزن کی اگلی اور آخری قسط میں۔


No comments:

Post a Comment