Saturday, March 5, 2022

The Ottoman Empire (last episode )

 سلطنت ِعثمانیہ  کا آخری حصہ

 دنیا میں قیامت کے جتنے بھی تصورات ہیں ان میں ایک بات سب میں ایک جیسی ہے وہ یہ کہ قیامت جب بھی آئے گی وہ ایک بہت بڑی تباہی لائے گی۔ جس کے بعد ایک نئی زندگی ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ اسی طرح کا ایک عقیدہ اناطولیہ اور یورپ کےعیسائیوں میں پندرہویں صدی میں بھی تھا۔ وہ یہ کہ اگر قسطنطنیہ فتح ہو گیا یعنی قسطنطنیہ عیسائیوں سے چھن گیا تو اس دن قیامت آئے گی یا قیامت کا آغاز ہو گا۔ اس لئے انتیس مئی چودہ سو تریپن کے دن قسطنطنیہ والوں نے یہی سمجھا کہ قیامت آ گئی ہے۔

سلطنت ِعثمانیہ  کا آخری حصہ

شہر واقعی تباہ ہو رہا تھا اور شہر کے باہر اپنے خیمے میں بیٹھا سلطان منتظر تھا کہ کب یہ قیامت کے لمحات رکیں اور وہ شہر میں امن و امان کا حکم دے کر ایک نئے عہد کا آغاز کر سکے گا۔ کیونکہ اس کی نظریں اس تباہی کے پار وہ مستقبل بھی دیکھ رہی تھیں جب قسطنطنیہ نے استنبول کے نام سے پھر دنیا کا ایک عظیم الشان شہر بننا تھا۔ قدیم زمانے کا اصول تھا کہ جس شہر کو جنگ سے فتح کیا جائے گا، فاتح فوج کو تین دن اس شہر میں لوٹ مار کی اجازت ہوگی۔ قسطنطنیہ بھی جنگ سے فتح ہوا تھا اور سلطان بھی سپاہیوں کو تین دن کھلی چھوٹ دینے کا پابند تھا اور ایک موقعے پر وعدہ بھی کر چکا تھا۔ اس لئے شہر فتح ہوتے ہی لوٹ مار شروع ہو گئی تھی۔

لیکن انسانی فطرت ہے کہ وہ مایوسی میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔ قسطنطنیہ کے لوگ جانتے تھے کہ ان کا شہر عثمانیوں نے فتح کر لیا ہے۔ لیکن وہ اب بھی کسی معجزے کے منتظر تھے۔ شہر کے سینکڑوں لوگ ہیگیا صوفیہ کی طرف بھاگے۔ اسی ہیگیا صوفیہ کی طرف جس کا انھوں نے ابھی کچھ ہفتے پہلے ایسٹر سنڈے تک پر بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ اب اسی ہیگیا صوفیہ کی طرف ہزاروں لوگ پناہ کے لیے بھاگ رہے تھے۔

شہر میں سینکڑوں سال سے ایک کہانی مشہور تھی کہ جب دشمن شہر میں داخل ہو کر کونسٹینٹائن کے ستون تک آ پہنچے گا۔ جو کہ ہیگیا صوفیہ سے نصف کلومیٹر کی دوری پر ہے، تو اس وقت ایک فرشتہ نمودار ہو گا۔ جس کے ہاتھ میں تلوار ہو گی اور اسے دیکھ کر شہر کے محافظوں کی ہمت بڑھ جائے گی اور وہ پھر سے فاتحین کا مقابلہ کریں گے اور انہیں شہر سے نکال دیں گے۔

کہانی کے مطابق چونکہ فرشتے نے ہیگیا صوفیہ کے قریب ہی نمودار ہونا تھا۔ اسی لئے ہیگیا صوفیہ میں سینکڑوں پادری، مرد، عورتیں اور بچے جمع ہو چکے تھے اور موم بتیاں جلا کر کسی معجزے کی دعا مانگ رہے تھے۔ اس چرچ کا گنبد زلزلوں کی وجہ سے تین بار گر چکا تھا۔ اسی چرچ میں ہر رومی شہنشاہ کی تاج پوشی ہوتی رہی تھی۔ لیکن آج یہاں تاج پوشی کی خوشیاں نہیں بلکہ شہر کو بچانے کیلئے گریہ و زاری ہو رہی تھی۔ لیکن معجزے سے پہلے کچھ اور ہو گیا۔

معجزہ تو نہیں البتہ ایک دھماکہ ہو گیا۔ وہ یوں کہ اچانک چرچ کے مرکزی دروازے پر جو شہنشاہ کے گزرنے کیلئے مخصوص تھا ایک خوفناک آواز گونجی۔ شاید کچھ عیسائی یہ سمجھے ہوں کہ مدد کو فرشتے آ پہنچے ہیں۔ لیکن یہ کسی فرشتے کی آمد نہیں بلکہ سلطان کی سب سے بہترین فورس یعنی جنیسیریز کے چرچ میں داخلے کا اعلان تھا۔ جنیسریز نے چار انچ موٹے دروازے کو کلہاڑیوں کے وار کر کے توڑ دیا تھا اور اب وہ چرچ کے اندر داخل ہو چکے تھے۔ جنیسریز نے وہاں کھڑے ایک، ایک پادری، عورت، بچے کو غلام بنا لیا۔

اس کے بعد انہوں نے چرچ کو جی بھر کے لوٹا۔ سونے، چاندی اور ہیروں سے جڑی صلیبیں اور وہاں نصب تصاویر کے قیمتی فریم تک اکھاڑ لئے گئے۔ سارا فرنیچر، شہنشاہ کے بیٹھنے کی کرسی سب کچھ لوٹ لیا گیا۔ لیکن ابھی سپاہیوں نے ایک اور اہم کام کرنا تھا۔

ہیگیا صوفیہ کے تہہ خانوں میں چھپا ہوا وہ خزانہ نکالنا تھا۔ جس کی کہانیاں وہ ایک مدت سے اور خاص طور پر محاصرے کے دوران سلطان اور دوسرے لوگوں سے سنتے آئے تھے۔ اور جس کی خواہش میں وہ جان توڑ کر لڑے بھی تھے۔ سپاہیوں نے سارا تہہ خانہ چھان مارا لیکن وہاں ایک قبر کے سوا کچھ نہیں تھا۔ یہ قبر وینس کے ایک سیاستدان کی تھی۔ جب اسے کھودا گیا تو سپاہی حیرت سے اچھل پڑے۔

مقبرے میں خزانہ تو نہیں بس مٹھی بھر ہڈیوں کا ایک مجموعہ تھا۔ اتنی محنت اور قربانیوں کے بعد خزانے کی جگہ یہ ڈھانچہ دیکھ کر جنیسریز کی جھنجھلاہٹ بڑھ گئی اور انہوں نے یہ ڈھانچہ نکال کر سڑک پر پھینک دیا۔ یہ کہانی ویسٹرن ہسٹورینز نے بیان کی ہے لیکن مسلم ہسٹورینز نے ایسے واقعات کا کہیں ذکر نہیں کیا۔

ڈاکٹر عزیر نے البتہ لکھا ہے کہ ترکوں نے فتح کے جوش میں قتل عام شروع کر دیا، لیکن جب شہر والوں نے مزاحمت نہیں کی تو وہ مال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے۔ اس کے علاوہ تمام مسلمان اور غیرمسلم مؤرخ اس پر بھی متفق ہیں کہ سلطان شہر کی عمارتوں کی تباہی نہیں چاہتا تھا۔ ہیگیا صوفیہ پر حملے کے بعد توہم پرست یونانیوں میں ایک اور کہانی بہت مشہور ہوئی۔ وہ کہانی یہ تھی کہ جب جنیسریز نے ہیگیا صوفیہ پر حملہ کیا تو پادری ساری صلیبیں اور دوسرے متبرکات اٹھا کر ایک دیوار کے پاس آئے۔

وہ دیوار درمیان سے کھل گئی۔ ایک راستہ پیدا ہو گیا۔ یہاں سے یہ لوگ اندر چلے گئے۔ دیوار پھر برابر ہو گئی۔ یونانیوں نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ پادری آج بھی اس دیوار کے دوسری طرف کہیں زندہ سلامت ہیں۔ جس روز کوئی عیسائی بادشاہ پھر سے قسطنطنیہ کو فتح کرکے سینٹ ہیگیا صوفیہ کو دوبارہ گرجا گھر بنا لے گا۔ ا تو اس روز دیوار پھر سے کھلے گی اور اس کے پار موجود پادری واپس حقیقی دنیا میں آ جائیں گے۔

ہیگیا صوفیہ میں تو معاملہ بغیر کسی خون خرابے کے نمٹ گیا تھا لیکن شہر کے باقی علاقوں میں حالات اچھے نہیں تھے بلکہ ہلاکت خیزی تیز ہو گئی تھی۔ شہر کے کچھ حصوں میں لوگ اب بھی ترک سپاہیوں کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے تھے اور ان پر اینٹیں اور گریک فائر پھینک رہے تھے۔ جبکہ کچھ جگہوں پر عثمانی فوج کے چھوٹے چھوٹے دھڑوں میں لڑائیاں بھی شروع ہو چکی تھی۔ یہ جھڑپیں غلام اور لونڈیاں بنانے کے معاملے پر شروع ہوئیں تھی۔ ہر سپاہی کی کوشش تھی کہ صحت مند نوجوان اور خوبصورت لڑکے لڑکیاں ان کے ہاتھ آئیں تاکہ انہیں غلام مارکیٹ میں بھاری قیمت پر بیچا جا سکے۔ اسی کوشش میں سپاہی آپس میں جھگڑ پڑے۔

اس معاملے پر سپاہیوں نے تلواریں نکال لیں تھیں۔ شہر کی گلیوں میں ایک نیا خون خرابہ شروع ہو چکا تھا جس میں بہت سے عثمانی سپاہی آپس میں ہی لڑ کر مارے گئے۔ آخر سالاروں نے مداخلت کر کے بیچ بچاؤ کرایا۔

سپاہیوں اور افسروں میں بحث کے بعد ایک فارمولہ طے پا گیا۔ وہ یہ کہ جو بھی سپاہی کسی گھر کو لوٹنے جائے گا وہ اس گھر کے باہر ایک جھنڈا نصب کر دے گا۔ یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ اس گھر کو لوٹنے کا حق کسی اور کو نہیں۔

تیسرے دن خدا خدا کر کے یہ خونریزی اور لوٹ کھسوٹ ختم ہوئی۔ شہر کے زیادہ تر مردوں، عورتوں اور بچوں کو باندھ کر ترک خیموں میں پہنچا دیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمان تو اپنے قانون کے تحت مال غنیمت اور غلام حاصل کر رہےتھے۔

لیکن عثمانی فوج میں شامل عیسائی بھی یہی کر رہے تھے۔ انھوں نے بھی مال بھی لوٹا اور مردوزن کو غلام بھی بنایا۔ لیکن۔۔۔ کیا واقعی شہر فتح ہو چکا تھا؟ حیرت انگیز طور پر شہر ابھی تک مکمل فتح نہیں ہوا تھا۔ شہر کے کچھ حصوں میں عیسائی جنگجو آخری سانس تک لڑنے کا تہیہ کیے ہوئے تھے۔ یہ لوگ جیت تو سکتے نہیں تھے بظاہر موت جلد یا بدیر ان کا مقدر تو تھی ہی۔ ایسے میں سلطان محمد فاتح نے جنگ ختم کرنے کے لیے انھیں ہتھیار پھینکنے کے بدلے امان دینے کا وعدہ کیا۔ انھوں نے ہتھیار پھینک دئیے اور سلطان نے یہ وعدہ پورا بھی کیا اور انھیں واپس جاتے ہوئے عثمانی فوج کے کسی دھڑے نے نقصان نہیں پہنچایا۔

یہ لوگ شہر سے نکلے اور اطالوی جہازوں میں بیٹھ کر یورپ چلے گئے۔ لیکن شہر کی بندرگاہ میں پندرہ ایسے جہاز کھڑے رہے جنہیں چلانے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ جہاز مسافروں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔

عثمانی فوج نے یہ سارے جہاز قبضے میں لے لئے اور مسافروں کو غلام بنا لیا گیا۔ شہری آبادی کو غلام بنانے والی بات بھی تاریخ میں متنازعہ ہی رہی ہے اور آج اس کے حق میں یا اس کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ ایک ویسٹرن ہسٹورین سٹینفورڈ شا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شہر کی زیادہ تر آبادی عثمانیوں کے ڈر سے شہر چھوڑ کر جا چکی تھی۔

یعنی انہیں غلام نہیں بنایا گیا تھا۔ اب شہر واقع فتح ہو چکا تھا رہی سہی مزاحمت بھی ختم ہو چکی تھی پورے شہر پر مسلمانوں کا عثمانی ترکوں کا کنٹرول تھا۔ لیکن چار لوگ ایسے تھے جن کی تلاش سلطان محمد فاتح کے لیے اس وقت سب سے اہم تھی۔ جن چاروں کی تلاش تھی ان میں سے ایک تھا رومن شہنشاہ کونسٹنٹائن الیون، دوسرا سلطان کا چچا اورحان قلبی جو عثمانیوں کا غدار تھا۔

تیسرا پوپ کا نمائندہ کارڈینل آئیسوڈور جو پوپ کے تین سو تیراندازوں کے ساتھ شہر میں آیا تھا اور چوتھا شہر کے محافظوں کا سردار جیسٹینیانی۔ ان چاروں کی تلاش جاری تھی کہ سلطان کے پاس ایک کٹا ہوا سر لایا گیا جس کے متعلق کچھ قیدیوں نے تصدیق کی کہ یہ سر کونسٹینٹائن الیون یعنی شہنشاہ قسطنطنیہ کا ہی ہے۔ چنانچہ اس سر کو ایک نیزے پر ٹانک کر ہیگیا صوفیہ کے سامنے سرخ سیب والے مجسمے کے ستون پر ہی نصب کر دیا گیا تاکہ سب کو تصدیق ہو جائے کہ رومن شہنشاہ مر چکا ہے۔ بہرحال مغربی دنیا میں آج بھی کوئی یقین نہیں رکھتا کہ کونسٹینٹائن کی لاش ملی تھی اور اس کا سر کاٹا گیا تھا۔

کیونکہ اس کی قبر تاریخ کی نامور گمشدہ قبروں میں سے ایک ہے۔ جو سر سلطان کو پیش کیا گیا تھا وہ کونسٹینٹائن الیون کا تھا یا نہیں لیکن سلطان اس بات سے مطمئن تھا کہ کونسٹینٹائن الیون اب نہیں رہا۔ مسلم ہسٹورینز نے بھی لکھا ہے کہ جب جنیسریز شہر میں داخل ہوئے تو کونسٹینٹائن نے اپنی قیمتی پوشاک اتار پھینکی اور لڑتے ہوئے جان دے دی تھی۔

سلطان کی لسٹ میں کونسٹینٹائن کے بعد دوسرا نمبر اورحان قلبی کا تھا۔ کیونکہ جب تک یہ شخص زندہ تھا یہ خطرہ موجود تھا کہ وہ عثمانی سلطنت کے تخت و تاج پر اپنا دعویٰ کرکے خانہ جنگی نہ شروع کروا دے۔ شاید ارحان قلبی شہر سے زندہ سلامت نکل جاتا لیکن سلطان کے سپاہیوں نے اورحان کو سی آف مارمرا کے پاس والی دیوار پر دیکھ لیا۔

اورحان جان بچانے کیلئے بھاگا لیکن سپاہیوں نے اسے گھیر لیا۔ جب اسے کوئی فرار کا راستہ نظر نہیں آیا تو اسے نے بلند دیوار سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ سپاہی اسے دیکھنے کے لیے قریب آئے تو وہ مر چکا تھا۔ ترک سپاہی اس کا بھی سر کاٹ کر سلطان کے پاس لے گئے اور یوں یہ دوسرا دشمن بھی مارا گیا۔ تیسرا دشمن تھا کارڈینل آئیسوڈور۔ یہ گرفتاری کے خوف سے اتنا پریشان ہوا کہ اس نے اپنے قیمتی کپڑے اتار کر ایک لاش کو پہنا دیئے اور لاش کے پھٹے پرانے خون آلود کپڑے پہن کر بندرگاہ کے راستے پر ہو لیا۔ لیکن راستے میں اسے سپاہیوں نے روک لیا، مگر مسئلہ یہ تھا کہ ترک سپاہی اسے شکل سے نہیں پہچانتے تھے۔

ان کے پاس صرف ایک حکم تھا کہ اس بوڑھے کو شہر سے نہیں جانا چاہئیےسپاہی اسے ایک عام سا غریب بڈھا تصور کر رہے تھے۔ جو ظاہر ہے غلام بنائے جانے کے قابل بھی نہیں تھا نہ اس کی غلاموں کی مارکیٹ میں کوئی اچھی قیمت ملنے کی امید تھی۔ وہ شاید اسے جان سے مار ڈالتے بے فائدہ سمجھ کر، لیکن آئیسوڈور کے پاس کچھ رقم موجود تھی۔ اس نے وہ رقم انہیں دے دی اور سپاہیوں نے رحم کھا کر اسے چھوڑ دیا۔ یوں آئیسوڈور کارڈینل بھی شہر کے باہر کھڑے ایک اٹالین جہاز تک پہنچنے میں کامیاب ہوا اور وہاں سے فرار ہو گیا۔

اس طرح یہ تیسرا دشمن جان بچا کر نکل گیا۔ سلطان کا چوتھا دشمن جنگجو سردار جیسٹینیانی تھا۔ یہ وہی جسٹنیانی تھا جو شہنشاہ کانسٹنٹائن الیون کے بعد قسطنطنیہ کے محافظوں کی سب سے بڑی امید تھا۔ یہ بہت بہادری سے لڑا تھا اور عثمانی فوج بھی اس کی معترف تھی۔ جسٹینیانی شہر پر عثمانیوں کا قبضہ ہونے سے پہلے آخری لڑائی میں زخمی ہو چکا تھا۔ اور اس کے ساتھی اسے اٹھا کر اسی بحری جہاز میں لے گئے تھے جس پر وہ جنیوا سے یہاں پہنچا تھا۔ جب عثمانی فوج شہر میں داخل ہو گئی تو جیسٹینیانی اسی بحری جہاز میں زخمی پڑا ہوا تھا۔ اس کے ساتھی عثمانیوں سے لڑائی میں مارے جا چکے تھے۔

لیکن کچھ اس کے بچے کھچے ساتھی فوری طور پر اس وقت اپنے جہاز میں پہنچے اور جہاز کو بندرگاہ سے دور لے گئے۔ یوں جیسٹینیانی زندہ عثمانی سپاہیوں کے ہاتھ تو نہیں آیا لیکن جنگ میں وہ اتنا زخمی ہو چکا تھا کہ زیادہ دیر زندہ بھی نہیں رہا۔ اور یکم جون چودہ سو ترپن کو وہ بھی مر گیا۔

اس کے ساتھی اس کی لاش یونان لے گئے اور اسے یونانی جزیرے چیاس پر دفن کر دیا۔ یوں سلطان کو چار انتہائی مطلوب لوگوں میں سے تین مارے گئے اور صرف ایک بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوا۔ تاہم ان چاروں کے علاوہ اب سلطان محمد فاتح کے نزدیک ایک ہی دشمن باقی تھا۔ جو گھر کے اندر تھا اور سلطان اس سے بھی جان چھڑانا چاہتا تھا۔ یہ تھا سلطان کا وزیراعظم خلیل پاشا جس نے قسطنطنیہ کی فتح کے خیال کو ایک جنونی نوجوان کی بیوقوفی قرار دیا تھا۔ قسطنطنیہ کی فتح کے دو روز بعد خلیل پاشا کی گردن اڑا دی گئی۔

اب شہر فتح ہو چکا تھا، سلطان کے دشمن مارے جا چکے تھے یا بھاگ چکے تھے۔ اکیس سال کا نوجوان عثمانی سلطان، سلطان محمد فاتح اب سب سے ذیادہ چاہے جانے والے شہر کا مالک بن چکا تھا۔ وہ شہر فتح ہو چکا تھا جس کا انتظار مسلمان سات صدیوں سے کر رہے تھے۔ جس کی بشارت پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ دن ڈھلے سلطان شہر میں داخل ہوا۔

سب سے پہلے وہ گرجا گھر ہیگیا صوفیہ کے سامنے پہنچا، گھوڑے سے اترا اور اس نے زمین سے کچھ مٹی اٹھا کر اپنی پگڑی پر ڈال لی۔ یہ اس کا خدا کے سامنے عاجزی کا اظہار تھا۔ وہ عمارت میں داخل ہوا۔ یہاں ایک سپاہی نے آذان دی اور سلطان نے اس گرجا گھر کو مسجد بنانے کا اعلان کر دیا۔ اعلان کے ساتھ ہی اس کو نیا نام دیا گیا آیہ صوفیہ۔

اس دوران سلطان نے دیکھا کہ ایک سپاہی عمارت کا فرش توڑ رہا تھا۔ سلطان نے اس سپاہی کو روکا اور کہا کہ شہر اور اس کی عمارتیں میری ہیں انہیں نقصان مت پہنچاؤ۔ سلطان نے ہیگیا صوفیہ کو تو مسجد بنا دیا تھا لیکن شہر کے ایک اور اہم چرچ، دا چرچ آف دا ہولی اپاسٹلز کو مسجد نہیں بنایا گیا تھا۔ یکم جون کو سلطان نے شہر میں امن و امان قائم کرنے کا فرمان جاری کر دیا اور شہر سے بھاگنے والوں سے بھی کہا کہ وہ واپس آ جائیں انہیں امان دی جائے گی۔

یہی نہیں بلکہ سلطان نے آرتھوڈوکس عیسائیوں کے سب سے معزز پادری جارج سکالیریئس ، جسے اس کی فوج نے قیدی بنایا ہوا تھا، کو آزادی دلوا کر آرتھوڈوکس عیسائیوں کا روحانی پیشوا مقرر کر دیا۔ اب آرتھوڈوکس چرچ سلطان محمد فاتح کی سرپرستی میں آ چکا تھا۔ جبکہ قسطنطنیہ کے ساتھ واقع جنیوا کی کالونی گلاٹا نے بھی خود ہی سرنڈر کر دیا تھا۔ اور یوں یہ سارا علاقہ سلطنت عثمانیہ میں شامل ہو چکا تھا۔

قسطنطنیہ کا چھن جانا یورپین عیسائیوں کے پرانے عقیدوں اور یقینوں پر بہت بڑی ضرب تھی۔ وہ اسے ہضم نہیں کر پا رہے تھے۔ یہ ان کے لیے ناقابل یقین اور ناقابل قبول تھا۔ لیکن اب ان کے پاس سوگ منانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور یہ سوگ اعلانیہ منایا گیا۔ پھر بھی عیسائیوں کے روحانی پیشوا نے قسطنطنیہ پر دوبارہ اقتدار کے لیے آخری دو کوششیں کیں۔ پوپ نکولس فائیو نے پہلے تو صلیبی جنگوں کا اعلان کر دیا لیکن اس پر یورپ سے کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی۔

پھر دوسری کوشش پوپ نے یہ کی کہ ترکوں کو ہی عیسائیت قبول کرنے کی دعوت دے ڈالی۔ ظاہر ہے یہ کوشش بھی ناکام رہی۔

سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو سلطنت کا نیا دارالحکومت قرار دے دیا۔ دو جون کو آیہ صوفیہ میں نماز جمعہ ادا کی گئی اور اس موقع پر سلطان نے شہر کو ایک نیا نام دیا، اسلام بول۔ جس کا مطلب تھا اسلام کا شہر۔

لیکن حیرت انگیز طور پر یہ نام مقبول نہیں ہو سکا اور ترک زبان میں شہر کا ایک پرانا نام ہی رائج رہا۔ یہ نام تھا استنبول۔ ہسٹورین فلپ مینسل کے مطابق یونانی زبان میں شہر کے اندر یا اندرون شہر کیلئے ۔۔۔استین تین پولن۔۔ کی ٹرم استعمال ہوتی تھی۔ ترکی میں یہ ٹرم بگڑ کر ۔۔۔استین تین پولن سے ’استنبول‘ بن گئی۔ یاد رہے کہ اناطولیہ کے ترک قسطنطنیہ شہر کو فتح سے پہلے بھی استنبول ہی کے نام سے ہی پکارتے تھے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام بول ہی بگڑ کر استنبول بنا ہے لیکن یہ رائے درست نہیں لگتی۔ کیونکہ غالب امکان یہی ہے کہ مسلمان اسلام کے لفظ کو بگاڑ نہیں سکتے اور اسلام کا تلفظ پوری دنیا کے مسلمان ایک ہی طریقے سے بولتے ہیں۔

اس لئے اسلام بول کے بگڑ کر استنبول بننے کا امکان کم ہے۔ فتح کے بعد قسطنطنیہ کی حاکمیت ہی نہیں اس کی شکل و صورت اور آبادی بھی بدل گئی۔ کیونکہ سلطان ایک بار پھر اسے جیتا جاگتا عالمی شہر بنانا چاہتا تھا۔ اسی کے حکم پر پوری دنیا سے اور خاص طور پر سلطنت عثمانیہ کے کونے کونے سے ہنرمندوں کو لا کر یہاں بسانا شروع کر دیا گیا۔

ان میں عیسائیوں سمیت ہر مذہب کے لوگ شامل تھے۔ سلطان محمد فاتح نے ان سب کو مذہبی آزادی فراہم کی۔ نہ کسی کو زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا اور نہ کسی کو اس کے مذہب پر عمل کرنے سے روکا گیا۔ دی آٹومن ایمپائر کا پہلا سیزن مکمل ہو گیا ہے۔ اس میں ہم نے آپ کو ترکوں کے ایک گمنام قبیلے یعنی عثمانی ترکوں کے ایک چھوٹے سے گروہ سے ایک سپر پاور ایمپائر قائم کرنے تک کی مکمل عظیم الشان داستان  نے پڑھی  ہے۔

 اگر اپ سلطنت ِعثمانیہ کے مکمل داستان پڑھنا چاھتے ہیں تو ادھر کلک کریں


 

 The Ottoman Empire ( part 2) 

 


No comments:

Post a Comment