Monday, March 28, 2022

Battle of Panipat History of Afghanistan

    1757 میں جب اخمد شاہ ابدالی دہلی سے افغانستان لوٹے تو بظاہر وہ فاتح تھے انہوں نے پنجاب اور دہلی پر قبضہ کر لیا تھا لیکن یہ پنجاب میں ان کے آخری فتح ثابت ہوئی بلکہ اس کے بعد پنجاب افغانستان کے دورانی  سلطنت سے ہمیشہ کے لئے الگ ہوگیا 

ایسا کیوں ہوا ؟پانی پت کی جنگ جیتنے کے باوجود احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں سے ہندوستان سونے کی چڑیا کیوں نکل گئی ؟

Battle of Panipat History of Afghanistan

  1757 جب احمد شاہ ابدالی دہلی اورمادھوراں سے ڈھیروں ڈھیر و اسباب لوٹنے کے بعد افغانستان جا رہے تھے تو ان کی واپسی کا راستہ بہت خطرناک ہوگیا وہ ایسے کہ جب افغان لشکر پنجاب سے گزرنے لگا تو سکھوں کی ٹولیوں نے مال و زر سے لیس  افغان فوج کے قافلے پر حملے شروع کر دیئے سکھ ٹولیوں   نے افغانوں سے بہت سا مال غنیمت بھی واپس چھین لیا ان حملوں میں سکھ سردار چنڑت سنگھ جو کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دادہ تھے وہ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے 

احمد شاہ ابدالی کو ان سب پر اتنا غصہ آیا کہ انہوں نے جوابا سکھوں کے مقدس مذہبی مقامات پر حملے شروع کر دیئے 

   ایک افغان فوجی نے سکھوں کےمقدس مقامات کی بے حرمتی کی ۔ایک اور اہم شہر امرتسر کے لئے احمد شاہ ابدالی نے ایک اور لشکر بھیجا اس لشکر نے شہرکواجاڑبستی میں بدل کررکھ دیا ان حملوں کے بعد احمدشاہ ابدالی نے اپنے گیارہ سالہ بیٹے تیمورشاہ کو لاہورکا گورنراورکمانڈرجہان خان کو ان کا نائب مقرر کر دیا یہ سب انتظام کرنے کے بعد انہوں نے دریا سندھ پار کیا اور افغانستان میں کندھار کی طرف چلا گیا۔

 احمد شاہ ابدالی کے خلاف بغاوت

لیکن دوستو احمد شاہ ابدالی کی سکھوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے باوجود پنجاب میں احمد شاہ ابدالی اور ان کے سہولت کاروں کا روب دبدبا ہوا ہو چکا تھا پنجاب کے لوگ انہیں حکمران ماننے کو تیار نہیں تھے یہی وجہ تھی کہ ادھراحمد شاہ ابدالی نے دریائے سندھ پارک کیا ادھران  کے خلاف سازش شروع ہوگئی اب  کہ جو بغاوت ہوئی اس کا سربراہ تھاادینہ بیگ ۔

  ادینہ بیگ مغل دورمیں جالندھرکے فوجی کمانڈر تھے اورپنجاب کی سیاست میں ان کا کافی اثرورسوخ تھا بدلتے حالات  میں وہ  پنجاب کا حکمران بننے کے خواب دیکھنے لگے تھے ۔جب سے سکھوں کے گوریلا حملوں سے پریشان احمد شاہ ابدالی دریائے سندھ پار کر گئے توادینہ بیگ نے بھی اپنے منصوبے پرعمل شروع کردیا اس مقصد کے لیے ایک تو انہوں نے سکھوں کو اپنے ساتھ ملایا اور دوسرے مراٹاایمپائرسے رابطے شروع کردیئے ۔مراٹھا امپائراٹھارویں صدی میں ہندوستان کی سب سے بڑی سلطنت تھی اس کی سرحدیں دہلی اورپنجاب کو لگتی تھی۔وہ  برسوں سے اس تاک میں تھے کہ وہ کسی طرح دہلی کے تخت اورپنجاب کی زرخیززمینوں پربھی قبضہ جما لیں اب جب ادینہ بیگ نے انہیں حملے کی دعوت دی تووہ فوری تیارہوگئے 

مرہٹوں نے ایک بڑی فوج ادینہ بیگ کی مدد کے لیےبھیج دی سکھ اتحادی بن چکے تھے تو سکھوں مرہٹوں کا طاقتور لشکر وجود میں آیا جو پنجاب سے افغانوں کو نکالنے کے لئے تیار تھا اس نے اپریل 1758 لاہور پر حملہ کر دیا لاہور میں موجود کمسن تیمورشاہ اور ان کے کمانڈر جہان خان مرہٹوں اورسکھوں کی مشترکہ طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے انہیں جیسے ہی اس لشکر کی آمد کی خبرہوئی وہ لاہورسے سیدھے قندھار کی طرف فرار ہوگئے اسی لئے ادینہ بیگ کا لشکر بغیرکسی مزاحمت کے فاتحانہ اندازمیں لاہورشہرمیں داخل ہوگیا اورادینہ بیگ نے لاہورمیں اپنی حکومت بنا لی انہوں نے مرہٹوں کو 75 لاکھ روپے خراج ادا کرکے پنجاب کو مراٹھا ایمپائرمیں ضم کردیااورمرھٹوں کے گورنر بن کر پنجاب پرحکومت کرنے لگے لیکن دوستو وقت کا  ستم دیکھئے  

 جوبندہ ساری زندگی پنجاب کا حکمران بننے کا خواب دیکھتا رہا انہیں لاہورکی سرداری بھی ملی تو صرف 5 ماہ کے لیے 5 ماہ بعدان کے دل کی دھڑکن بند ہوچکی 

قندھار میں احمد شاہ ابدالی کو پنجاب پرمرہٹوں کے قبضے کی اطلاع مل چکی تھی انہوں نے اپنے کمانڈرجہان خان کو فوج کے ساتھ پنجاب پردوبارہ قبضے کے لیے روانہ کردیا لاہورکے قریب جہان خان کا مرھٹے سپہ  سلار شمہ کی شندے سے مقابلہ ہوا جس میں کمانڈرجہان خان کوبری طرح شکست ہوئی اوران کا بیٹا بھی اس جنگ میں مارا گیا وہ بمشکل اپنی جان بچا کرپنجاب سے نکلے اورپشاورجوکہ دورانی سلطنت کا حصہ تھا اس میں پناہ لی-

احمد شاہ ابدالی کا  پنجاب پرحملہ کا فیصلہ

افغان لشکر کی ناکامی دیکھتے ہوئےاحمد شاہ ابدالی سمجھ گئے کہ انہوں نے مرہٹوں کی طاقت کا غلط اندازہ لگا لیا ہے اس لیئے انہوں نے خود لشکر لے کر پنجاب پر حملہ کا فیصلہ کیا ۔

یہ وہ وقت تھاجب مغل شہنشاہ براہ نام دہلی کے تحت پربیٹھا کرتے تھے مرہٹے ہی دہلی کے تخت اور پنجاب کوکنٹرول کرتے تھے 1759میں انہوں نے مغل بادشاہ شاہجہان سوئم کومعزول کرکے شاہ عالم ثانی کو تخت نشین کردیا۔یہ عالم ثانی عالمگیرثانی کے بیٹے تھے اوران کی بہن زہرا بیگم احمد شاہ ابدالی کی بہوتھیں ان کے بیٹے تیمورشاہ کی بیوی تھی لیکن شاہ عالم ثانی کی حیثیت بھی صرف کٹ پتلی ہی کی تھی ان کے پاس کوئی اختیارنہیں تھا مطلب مرہٹے برصغیر کی سب سے بڑی طاقت بن گئے تھے لیکن ایسا نہیں تھا کہ  پنجاب اور دہلی کے لوگ ان سے خوش تھے ان میں خاص طورپروہ راجے مہاراجے مرہٹوں کی طاقت کو اپنی راجدھانیوں کے لیے خطرہ سمجھتے تھے وہ ان سے خوش نہیں تھے یہ راجہ ہندوبھی تھے مسلمان بھی اورسکھ سردار بھی تھے جب احمد شاہ ابدالی قندھار میں بیٹھے پنجاب واپس لینے کی تدبیریں سوچ رہے تھے تو انہیں مرہٹوں سے خوفزدہ سرداروں اور راجوں  کے خطوط ملنا  شروع ہو گئے۔

شاہ ولی اللہ کا خط احمد شاہ ابدالی کے نام 

ان میں سے ایک خط  ایک مسلمان مذہبی شخصیت کی طرف سے آیا تھا اور ان مذہبی شخصیت کا نام تھا شاہ ولی اللہ، شاہ ولی اللہ احمد شاہ ابدالی کو خط میں لکھا کہ حضورآج آپ کے سوا کوئی اوربادشاہ ایسا نہیں ہے جو کافرفوج کو شکست دینے کے قابل ہوں اس لیے آپ کا فرض ہے کہ آپ ہندوستان پرحملہ کرے اورمرہٹوں کو تباہ کرکے کچھلے ہوئے مسلمانوں کو ان کی زنجیروں سے آزاد کروائیں کیونکہ خدا نخواستہ اگر ان کی گرفت برقراررہی تو مسلمان اسلام کو بھول جائیں گے اس لیے آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنی آرام دہ زندگی کو چھوڑے اور اپنی تلواراس وقت تک میا ن میں واپس نہ ڈالیں جب تک کفراورحقیقی ایمان کے درمیان ایک مکمل فرق قائم نہ ہوجائے اپنے خط میں احمد شاہ ابدالی کو کچھ ٹیکنیکی نوعیت کی چیزیں کا بھی انھوں نے بتایا کہ مرہٹے خود بہت تھوڑے ہیں ان کی طاقت یہ ہے کہ میدان جنگ کے لئے زیادہ سے زیادہ گروہوں کوجمع کرلیتے ہیں انہوں نے یہ اطلاع بھی احمد شاہ ابدالی کوخط میں لکھی کہ اِن کے پاس جو ہتھیار ہیں ان کی تعداد کیا ہے۔

نجیب الدولہ اور دسرے سرداروں کی احمایت 

 نجیب الدولہ کی طرف سے بھی اس طرح کے اطلاعات موصول ہوئی سردار نجیب الدولہ پٹھانوں کی ریاست روہیلہ  جو آج کے بھارتی ریاست اتپردیش اوراتراکھنڈ پرمشتمل ہےاس کے اہم کردارتھے وہ احمد شاہ ابدالی کو مسلسل لکھ رہے تھے کہ مرہٹے انہیں تنگ کرتے ہیں آپ مسلمانوں کی مدد کے لیے ہندوستان پرحملہ کریں اسی طرح جی پوراورمارواڑکے ہندوراجہ مان سنگھ اور بجھے سنگھ  بھی مرہٹوں کے خلاف افغانوں سے اتحاد بنانے کے لیے تیاربیٹھے تھے جب احمد شاہ ابدالی کو یقین ہو گیا کہ ہندوستان کے کئی حکمران مرہٹوں کے خلاف ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں تو انہوں نے پنجاب پر چڑھائی کردی

احمد شاہ ابدالی کی  پنجاب پر چڑھائی 

 احمد شاہ ابدالی اکتوبر 1759میں قندہارسے بلوچستان کے راستے پنجاب میں داخل ہوگئے ان کے ساتھ کم از کم چالیس ہزار کی فوج تھی جبکہ اوپرشمال سے پشاور کی طرف سے ان کے کمانڈرجہان خان بھی تقریباً 15 ہزار فوج کے ساتھ پنجاب پر حملہ آور ہوئے افغان جوان اپنے لیڈراحمد شاہ ابدالی کی قیادت میں نکلے تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا انہوں نے سکھوں اور مرہٹوں کو پے در پے شکستیں دیں۔

 اٹک اور جہلم کے پاس روہتاس قلعہ اورلاہورکا تاریخی شہرمرہٹوں سے واپس چھین لیا پنجاب پرقبضہ کے بعد افغان فوج نے دہلی کی طرف پیش قدمی شروع کر دی،دہلی جاتے ہوئے ان کی مرہٹوں سے بہت سی لڑائیاں ہوئے لیکن یہ  فیصلہ کن جنگ نہیں تھی جب احمد شاہ ابدالی دہلی کے قریب پہنچے توروہیلہ سردارنجیب الدولہ اور اوت کے حکمران شجاع الدولہ بھی اپنی فوج کے ساتھ افغان لشکرمیں احمد شاہ ابدالی کے ساتھی بن گئے اس سب سے ظاہر ہے  احمد شاہ ابدالی کی طاقت بہت بڑھ گئ تھی دوسری طرف مرہٹوں کی ایک بڑی فوج دہلی میں موجود تھی جس کی کمان مرہٹوں کے شاہی خاندان کے دو طاقتور افراد سدا شیو راؤ باؤ اور وشواس باؤ جو ان کے بیٹے تھے کر رہے تھے۔

 مرہٹوں نے  ایک کامیاب چلتے ہوئے1760میں گنج پورہ پرحملہ کیا یہ افغان فوج کے گودام تھے جوان کے لیے خوراک وغیرہ جمع کرنے کا کام دیتے تھے یہ ساری خوراک اورذخیرہ اندوزی مرہٹوں نے لوٹ لیایعنی افغان فوج کی نہ صرف سپلائی لائن کٹ چکی تھی بلکہ ان کا جمع کیا ہوا سامان خوراک اور دیگر چیزیں ضائع ہوچکی تھی شاید اس میں کچھ تعداد اصلحہ کے بھی تھی۔اس خبر کا احمد شاہ ابدالی پربرا اثر ہوااور انہوں نے وہی کیا جومرہٹے ان سے کروانا چاہتے تھے یعنی ایک کھلی جنگ کی تیاری

پانی پت کی جنگ 

 نومبرمیں دونوں فوجیں دہلی کے قریب پانی پت کے میدان میں آمنے سامنے آگئے دونوں نے ایک دوسرے سے پانچ میل کے فاصلے پراپنے اپنے کیمپ لگائیں اوراس تاریخی جگہ جنگ کی تیاریاں شروع ہوئی بہت سے لوگ پانی پت کی تیسری لڑائی کو کفراوراسلام کی جنگ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ دو بڑی طاقتوں کے درمیان پنجاب اوردہلی پرقبضے کی لڑائی کے سوا کچھ نہیں تھی مرہٹوں کی فوج میں 10 ہزار مسلمان سپاہی شامل تھے جن کے کمان  پٹھان کمانڈرابراہیم خان گاردی کر رہے تھے اسی طرح افغان فوج کو بھی چند ہندو راجاؤں کی مکمل حمایت حاصل تھی یعنی یہ ممکن ہے کہ احمد شاہ ابدالی نے اپنی مہم کو مذہبی رنگ دیا ہو تاکہ ان کے فوجی پرجوش ہوکرلڑیں لیکن جنگ میں انہوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی وہ دونوں سے لڑے اور دونوں کے ساتھ لڑے،

 اسی طرح یہ پروپیگنڈا جو بھارت میں کیا جاتا ہے کہ مرہٹے کسی غیر ملکی حملہ آوربادشاہ کے خلاف ہندوستان کی آزادی کی حفاظت کررہے تھے یہ بھی غلط ہے مرہٹے دراصل جنوبی اوروسطی انڈیا اور سینٹرانڈیا سےتعلق رکھتے تھےاورشمالی ہندوستان کے لوگوں کے لئے یعنی دہلی وغیرہ کے رہنے والے لوگوں کے لیے وہ ایسے ہی اجنبی تھے جتنے افغان حکمران،

جب نومبر1760میں دونوں فوجیں آمنے سامنے آئی توان میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا احمد شاہ ابدالی نے اپنی فوجوں کو مختلف سمتوں میں پھیلا کرمرہٹوں کی سپلائی لائن بند کردی اس دوران اگرمرہٹوں کوکوئی مدد مل رہی  تھی تو وہ صرف سکھوں کی طرف سے تھی،پٹیالہ کے سکھ سردار اعلی سنگھ کسی نہ کسی طرح انہیں خوراک وغیرہ پہنچا رہے تھے ۔لیکن یہ مدد کافی نہیں تھی کچھ ہی عرصہ میں مرہٹوں کے کیمپ میں خوراک کی قلت ہوگئی اورسپاہی بھوکوں مرنے لگے ۔

حال یہ ہو گیا کہ وہ اپنے گھوڑوں کی ہڈیاں بھی پیس کرآٹے میں ملا کر کھانے پر مجبور ہو گئے اس صورتحال میں مرہٹہ  کمانڈرسداشیو نے افغانوں سے صلح کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش احمد شاہ ابدالی کے انکار کے باعث ناکام رہی،یوں  جھوڑپیں ان دونوں کے درمیان کئی روز تک چلتی رہیں حتیٰ کے جنوری1761 کا مہینہ شروع ہوگا گیا اس مہینے میں 14 جنوری کے روز دونوں فوجوں میں فیصلہ کن لڑائی ہوئی اس لڑائی میں افغانوں نے اپنے توپخانہ  کا بھرپوراستعال کیا 


 دوستوں دیکھیں تو افغانوں کا  توپخانہ مرہٹون کے  توپخانہ سے بہتر تھا چنانچہ جب جنگ شروع ہوئی تو افغانوں کی شدید بمباری سےمرہٹون کوخاصا نقصان پہنچا ایک موقع پرسداشوراؤ کی کمان میں مرہٹوں کے دستوں نے افغان فوج کےدستوں پر بھرپورحملہ کیا ہے حملہ اتنا طاقتور تھا کہ افغان فوج خود پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئ لڑائی  اتنی شدید تھی دوستوں کے تین ہزار افغان فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اس جنگ میں کئی اتار چڑھاؤ اور بھی آتے رہے  لیکن احمد شاہ ابدالی کی حکمت عملی کی مسلسل مرہٹون پر  بھارئ رہی ان کا شروع ہی سے یہ منصوبہ تھا کہ مرہٹوں کو گھرے میں لا کر تباہ کرتے رہا جائے انہوں نے اپنی فوج کو بھی ایسی ہی پوزیشن میں کھڑا کیا تھا تاکہ وہ آسانی سے مرہٹوں کو گھیر سکیں اور مرہٹے ان کو نہ گھیر سکیں یہ حکمت عملی کامیاب رہی اور آخر میں افغانوں نے مرہٹوں کی فوج کو پوری طرح ایک بڑے گھیرے میں جکڑ لیا اور مختلف سمتوں سے اس پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے  جنگ کی فیصلہ کن لڑائی تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہی دونوں فریقوں نے جیت کے لیے پورا زور لگایا اس لڑائی میں بندوقوں نیزوں اور تلواروں کے ساتھ  خنجر تک کا استعمال ہوا-

 دوپہر سوا دو بجے کے قریب مرھٹہ کمانڈر وشواس کو گوکی لگی اور وہ وہی  دیر ہو گئے کچھ دیر بعد کمانڈرزسدا شیو بھی مارے گئےاپنے  کمانڈرز کی موت کے بعد باقی مرہٹہ فوجوں بھی زیادہ دیر میدان جنگ مئں  نہ رہ سکےادھر مرہٹہ فوج کے تین سو ہاتھی بھی دوستوں لڑائی کے دوران بدگ گئے اور میدان جنگ سے بھاگ نکلے  ہاتھوں نے بھاگتے ہوئے اپنے ہی سینکڑوں فوجیوں کو روند ڈالا اب نتیجہ  کچھ یوں تھا کہ شام سے پہلے ہی مرہٹہ فوج کو شکست ہو گئی تھی-اورمرہٹہ  فوجی اپنے کیمپس کی طرف واپس بھاگ رہے تھے افغان فوج رات گئے تک بھاگتے مرہٹہ فوج کا تعاقب کرتے رہی اور بہت سے مرہٹون کع اس دوران موت کے گھاٹ اتار  دیا14 جنوری کی رات جب مرہٹہ فوج اپنے کیمپ میں پہنچی تو وہ بہت تھکی ہوئی تھی بھوکی پیاسی تھی ان میں زیادہ تر میں فرار ہونے کی ہمت بھی نہیں تھی چنانچہ وہ رات انہوں نے اپنے کیمپ میں ہی سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے گزاردی 

اگلی صبح فاتح افغان فوج نےکیمپ پردھاوا بول دیا اورسب مرہٹون کوگرفتارکرلیا اور سب کوہلاک کر دیا انہوں نے کہا کہ جب وہ اپنے وطن میں افغانستان سے چلے تھے تو ان کی عورتوں نے ان سے کہا تھا کہ اگر کافروں کو شکست دو گے تو ان میں سے چند ایک کو ہمارے لئے بھی دعا کر دینا یعنی انہیں ہمارے نام پر قتل کرو گے تو اللہ کی نظر میں ہمیں بھی کوئی موقع ملے گا کہ یہ ثواب کے لئے پہنچانے کے لیے افغانوں نے نہتے شہریوں کے سر قلم کر دیں صورتحال کی یہ ہوگی کہافغان فوج  کے خیمے کے سامنے سروں کے ڈھیر لگے 

 پانی پت کی تیسری لڑائی میں دونوں طرف سے فوجیوں کی تعداد اور حلاکتوں کے بارے میں ہر کسی کی اپنی الگ ہی انداز ہے یقین سے نہیں کہاسکتا ہیں کہ دونوں فوجوں کی تعداد کتنی مرگئ تھی اس جنگ میں مرہٹوں کی زیادہ تر فوج کا صفایا ہو گیا اور بہت کم سپاہی زندہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ایک اندازے کے مطابق مرہٹوں کے 28 ہزار سپاہی میدان جنگ میں مارے گئے 40000 کو قیدی بنایا گیا اور پھر انھیں قتل کر دیا گیا  دوسری طرف پانی پت کی لڑائی میں احمد شاہ ابدالی کے کم از کم بیس ہزار سپاہی ہلاک ہوئے  فتح حاصل کرنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نےسدا شیو اور وشواس راؤ  کے لاشوں کو تلاش کروایا  سدا شیو کا سر ایک  ایک سپاہی کے پاس تھا اور خون سے تر تھا احمد شاہ ابدالی کے حکم پر ان کا منہ دھویا گیا اور لاش کو آخری رسومات کے لئے  مرہٹوں کے سپرد کر دیا گیا اسی طرح وشواس راؤ  کی لاش کو بھی مرہٹوں کے حوالے کیا گیا حلانکہ   افغان فوجی اس رواداری  کے حق میں نہیں تھے وہ لوگ جووشواس راؤ کی تلاش میں بھوسا بھر  کر اسے بطور یادگار افغانستان لے جانا چاہتے تھے لیکن احمد شاہ ابدالی نے اس سے انکار کردیا دونوں لاشوں کو ہندو رسومات کے مطابق چلایا گیا اور ان کی راک  سونے کے برتن میں رکھ کرمرہٹہ ایمپائر کے دارالحکومت پونہ بھجوا دیا

مال غنمیت 

اس جنگ میں 5000 گھوڑے، دو لاکھ بیل ،500 ہاتھی، مرہٹوں کا پوراتوپخانہ  اور بہت سا سامان اور نقد رقم افغانوں کے قبضے میں آتے ہیں کہا جاتا ہے کہ ہر افغانی سپاہی کے پاس لوٹ  کا اتنامال  تھا کہ اس کے لیے سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا پانی پت کی تیسری لڑائی افغانوں کے دوران امپائر کی مکمل فتح کے ساتھ ختم ہوئی یہ فتح دورانی امپائر کے عروج کی علامت تھی افغانوں کی کامیابی نے پنجاب سے مرہٹہ ایمپائر کا بوریا بستر ہمیشہ کے لیے گول کردیا تھا 

 بظاہر کندھار سے دہلی تک افغانوں کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود یہاں احمد شاہ ابدالی نے پرامن لیڈرشپ کا مظاہرہ کیا وہ اس طرح کہ انہوں نےمرہٹہ حکمران پیشوا بالاجی  باجی راؤ کو پیغام بھیجا کہ انہیں مرہٹہ حکمران کے بیٹے اور چچا زاد بھائی کی موت پر بہت افسوس ہے انہوں نے کہا کہ دہلی کا کنٹرول آپ کے ہاتھ میں ہی رہنے دیں گے شرط یہ ہے کہ آپ مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کی حمایت کرے اوردریا ستلج کا سارا علاقہ افغانوں کے قبضے میں رہنے دیں انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ماضی کے افسوسناک واقعات کو بھول کر ہمارے ساتھ پائیدار دوستی کی بنیاد رکھیں گے   یہ معاہدہ ہوگیا جس کے بعد مرہٹوں اور افغانوں  میں صلح ہوگئی احمد شاہ ابدالی نے افغانستان واپسی سے پہلے اپنے اتحادیوں نجیب الدولہ اور شجاع الدولہ سے  بولا  کہ ہم نے مرہٹوں کے ساتھ امن کی بنیاد رکھ دی ہےاب اپ مرہٹہ حکمران  کی بلادستی کا اخترام کریں  شاید یہی وجہ تھی کہ مرہٹوں نے پانی پت کی لڑائی کے صرف دس برس کے اندر اندر اپنی طاقت پوری طرح بحال کر لی انہوں نے  وسطی اور مغربی ہندوستان کے تمام علاقے بھی دوبارہ قبضے میں لے لئے جو پانی پت میں شکست کے بعد ان سے چھین لیئے تھے

ہندوستان میں تیسری طاقت ایسٹ انڈیاکمپنی 

لیکن  یہاں  دلچسپ بات ہے کہ ہندوستان میں ایک  طاقت تیزی سے ابھر رہی تھی ایسی طاقت جن کی سنگینے  چاقو سے تیزتھی  لیکن ان  کی زبان شھد زیادہ میٹھی نکلی تھی یہطاقت تھی  ایسٹ انڈیا  کمپنی  یعنی گورے آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے پانی پت کی تیسری لڑائی سے چار برس پہلے 1757 میں سراج الدولہ کو بنگال میں شکست دے کر قبضہ کر لیا تھا

 ہندوستان میں احمد شاہ ابدالی کے پیش قدمی  کوایسٹ انڈیاکمپنی اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگی تھی انگریزوں کو خدشہ تھا کہ کہیں مغل بادشاہ احمد شاہ ابدالی کو انگریزوں کے خلاف استعمال نہ کریں چونانچہ نگریزوں نے چاپلوسی سے کام لینا شروع کردیا اور احمد شاہ ابدالی کو خوش آمدانہ خط لکھے کہ وہ ہندوستان کئے  مسلمانوں کی مدد کے لیے اور انگریزوں کے خلاف لڑنے کے لیےنا آجائے

  1760 میں انگریزوں نے میر قاسم کو بنگال کانواب بنایا تو انہوں نے احمد شاہ ابدالی کو خط لکھ کر اس کی اطلاع دی اس خط کا جواب  احمد شاہ ابدالی نے خط لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ انگریز اور میر قاسم مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے وفادار رہیں گے 1761میں ہنری وینسی ٹارٹ لاڈ کلیوکی جگہ کلکتہ کے گورنر مقررہو کرآئے تھے انھوں نے احمد شاہ ابدالی کو خط لکھا تھا اس کے الفاظ کچھ یوں تھے 

کہ اعلی حضرت کا وفادار غلام جو  کلائیو کی جگہ مقرر ہوا ہے شاہ عالم ثانی کا وفادار ہے

بظاہر تو افغان لشکر اپنے  بادشاہ کی قیادت میں جیت چکا تھا انگریزوں کی خوشامد کر رہے تھے لیکن اس وقت یہ راز صرف احمد شاہ ابدالی جانتے تھے کہ اصل مین ہوا کیا ہے  ہوا یہ تھا کہ پانی پت کی تیسری جنگ میں عظیم الشان فتح افغانوں کو بہت بھاری پڑی تھی کیونکہ اس جنگ میں افغانوں کے بہترین تجربہ کار کمانڈر اور بڑی تعداد میں جرنل سپاہی مارے جا چکے تھے جب کہ بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آنے کے باوجود  بے پناہ نقصان بھی  ہوا تھا یہ اتنا بڑا نقصان تھا کہ اس کے بعد احمد شاہ ابدالی پھر کبھی بھی اتنا بڑا لشکر اور طاقتور لشکر جمع نہیں کرسکا 

 بلکہ پنجاب میں ابھرتی ہوئی سکھوں کی طاقت کا اندازہ بھی وہ بالکل نہیں لگاپائے  اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس ضروری طاقت ہی موجود نہیں تھی یہ طاقت  پنجاب کے جنگجو سکھ تھے جوافغانون کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے صوبہ پنجاب میں دو ہی طاقتیں باقی رہی تھی جواحمد شاہ ابدالی کی فوج کو پریشان کر رہے تھے لیکن پانی پت کی لڑائی میں مرہٹوں کو شکست کے بعد وہ کھل کر افغانوں کے مقابلے پر آ گئے تھےوہ تھے حالصہ سکھ

  پنجاب کے وہ جنگ کون سی تھی جس کی یادگاریں آج بھی پنجاب میں موجود ہیں اورسکھ  سے وڈا کلوکارا کے نام سے جانتے ہیں وڈا گلوکارہ کیا تھا احمد شاہ ابدالی کے ساتھ سکندر اعظم کی تاریخ کیوں دہرائی گئی اور کہاں ہو رہی ہے پنجاب پر احمد شاہ ابدالی کا آخری حملہ کا کیا اعلان ہوا اور کیوں کیا یہ سب آپاگر اپ جاننا چاہتے ہین تو کمنٹ مین ہمیں بتایئے 


No comments:

Post a Comment