Tuesday, February 8, 2022

Who was Nikola Tesla? part 2

 Who was Nikola Tesla? نیکولا ٹئسلا کون تھا ٓاخری حصہ
Who was Nikola Tesla?

Who was Nikola Tesla?

امریکی ہوٹل نیویارکر کے تھرٹی تھرڈ فلور کے ڈبل تھری ٹو سیون کمرے میں ایک بوڑھے سائنس دان کا جسم پڑا تھا۔ اس کے ساتھ والے کمرے میں جو اسی کے استعمال میں تھا، وہاں درجنوں صندوق پڑے تھے جن میں اس کے وہ کاغذات تھے جو دنیا کی دو سپر پاورز ایک دوسرے سے پہلے حاصل کرلینا چاہتی تھیں۔ لیکن یہ کاغذات فوراً ہی امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی نے ضبط کر لیے۔ پھر ان میں سے بھی کچھ کاغذات چوری ہو گئے۔ اس واقعے کو ستتر سال ہو چکے لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس کے کاغذات کہاں ہیں؟ اس کے کچھ پیپرز جو پبلک کیے گئے وہ جگہ جگہ سے سنسر ہیں، وہاں کیا لکھا تھا؟ شاید کچھ ہی لوگ یہ بات جانتے ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ان کاغذات کی اتنی اہمیت کیوں تھی؟

اٹھارہ سو نوے کی دہائی تک نکولا ٹیسلا دنیا کو ایک زبردست ٹکنالوجی اے سی کرنٹ کی شکل میں ٹرانسفر کر چکا تھا۔ وہ صرف اس کی رائیلٹی سے کئی پشتوں تک شاہانہ زندگی گزار سکتا تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ اس کی کمپنی ویسٹنگ ہاؤس کو نقصان ہونے لگا۔ یہ نقصان انھیں کسی اور وجہ سے ہو رہا تھا، لیکن ٹیسلا ایک بھلا مانس انسان تھا، وہ لالچی ہرگز نہیں تھا۔ اس نے اپنی کمپنی کو نقصان سے بچانے کے لیے وہ رائلٹی معاف کر دی، جس میں اے سی کرنٹ کے ہر ایک ہارس پاور پر اسے اڑھائی ڈالرز ملنا تھے۔ لیکن اس کی یہی فراخ دلی اسے بے حد مہنگی پڑی۔

کیونکہ آگے چل کر جب اس کے نئے پراجیکٹس کمرشل نہیں ہو سکے تو اس کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہ بچا تھا پھر یہ ہوا کہ اٹھارہ سو پچانوے میں نیویارک میں اس کی ذاتی لیبارٹری کو آگ لگ گئی۔ اس کا بہت کچھ جل کر بھسم ہو گیا۔ وہ ریڈیو کی ایجاد اور وائرلیس ٹکنالوجی پر کام کر رہا تھا۔ جس کا بہت زیادہ ریکارڈ جل گیا تھا۔

اور اس جل جانے کا فائدہ ہوا مارکونی کو۔ کیونکہ جب اس کی لیبارٹری جل گئی تو اسے دوبارہ سیٹل ہونے میں کچھ وقت لگا۔ اسی دوران اس کے رائیول مارکونی نے اس کی اور کچھ دوسرے ماہرین کی تھیوریز کو استعمال کیا۔ اور ان کی مدد سے بارہ میل تک ریڈیو سگنلز بھیجنے کا تجربہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اور یوں ریڈیو کی ایجاد کا سہرا مارکونی کے نام سج گیا۔

نکولا ٹیسلا بظاہر مارکونی سے پیچھے رہ گیا تھا لیکن اس ٹکنالوجی میں وہ اب بھی مارکونی سے بہت آگے تھا بہت ایکسپرٹ تھا کہ وہ بارہ میل سے کہیں زیادہ فاصلے تک ریڈیو سگنلز بھیجنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس ٹیکنالوجی سب سے زیادہ فائدہ یہ تھا کہ اس وقت ٹیلی فون بھی ایجاد ہو چکا تھا۔ لیکن اس کی تاریں بچھانے پر بہت سا پیسہ اور محنت خرچ ہوتی تھی۔ اگر ٹیسلا تھوڑی ہمت کرتا تو اپنی ٹکنالوجی کو کمرشل کر کے بے پناہ منافع اور فائدہ کما سکتا تھا۔

لیکن ہوا یہ کہ اس کے دماغ میں ایک مختلف آئیڈیا سما گیا۔ اس نے مارکونی سے مقابلے کے بجائے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ اگر آواز کی لہروں کو بغیر تار کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جا سکتا ہے تو بجلی کے کرنٹ کو کیوں نہیں پہنچایا جا سکتا؟

اس نے سوچا کیوں نہ ایسی ٹکنالوجی بنائی جائے جس سے بجلی کوبغیر تاروں کے پوری دنیا میں پہنچایا جا سکے۔ ٹیسلا نے اپنی لیبارٹری میں وائرلیس بجلی سے بلب روشن کرنے کے کامیاب تجربے بھی کیے۔ وہ بغیر تار کے کم فاصلے تک آسمانی بجلی کی طرح بجلی ٹرانسفر کرتا اور قریب ہی بیٹھا کتاب پڑھتا رہتا۔

جیسا کہ آپ اس تصویر میں دیکھ رہے ہیں

Who was Nikola Tesla?

یہ فوٹو شاپ ہرگز نہیں ہے اصل تصویر ہے۔ وہ اپنی اس کامیابی کا ڈیمو یونیورسٹیز اور دیگر جگہوں پر بھی دے رہا تھا تا کہ اسے انویسٹمنٹ مل سکے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس کے یہ تجربات بجلی کو بغیر تار کے پہنچا تو رہے تھے لیکن بہت کم فاصلے تک۔ لمبے فاصلے تک وائرلیس بجلی پہنچانے کا کامیاب تجربہ اس نے اب تک نہیں کیا تھا۔ سو اسی مقصد کے لیےاٹھارہ سو ننانوے میں اس نے امریکی ریاست کالوروڈو میں ایک لیبارٹری بنائی اور اپنی ساری دولت لمبے فاصلے تک بغیر تار کے بجلی پہنچانے پر لگا دی۔

وہ دن رات اس ٹکنالوجی پر کام کرنے لگا۔ وہ کبھی کبھار دو ایک گھنٹوں کے لیے سوبھی جاتا لیکن اس دوران اپنی ٹیم سے بھی بے تحاشا کام لیتا۔ اس کے خیالات اور اتنے زیادہ کام کی وجہ سے وہ سائنٹسٹ کیمیونٹی میں پاگل سائنسدان مشہور ہو گیاتھا۔ 

میڈ سائنٹسٹ۔

اسی پاگل کی لیبارٹری میں لکڑی کا ایک بلند ٹاور تھا جس پر ایک اینٹینا لگا ہوا تھا۔ ایک شام کولوراڈو کے شہریوں نے دیکھا کہ انٹینے سے بجلی کی ایک کئی سو فٹ اونچی لہر بلند ہو رہی ہے۔ ٹیسلا لمبے فاصلے تک بجلی بغیر تار کے منتقل کر رہا تھا۔ اس بجلی کی گھن گرج بھی بادلوں کی بجلی کی طرح بیس میل دور تک سنائی دی۔ لیکن جیسے ہی یہ نظارہ تھما، کالوراڈو شہر کا پاور اسٹیشن جھٹکے سے اُڑ گیا۔ پورا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔ پاگل سائنسدان پر تنقید اور بھی تیز ہو گئی۔ لیکن وہ باز نہیں آیا اور مسلسل ناکام تجربات کرتا چلا گیا۔ ان تجربات کا سلسلہ تب رکا جب اس کی جیب میں آخری سکہ بھی ختم ہو چکا تھا۔ انیس سو کے شروع میں جب وہ کولوروڈو سے نیویارک واپس آیا تو اس کا دیوالیہ نکل چکا تھا۔ بجلی کی رائلٹی وہ پہلے ہی چھوڑ چکا تھا۔ اب اس کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں رہا تھا۔

وہ ایڈیسن کے انویسٹر جے پی مورگن کے پاس پہنچا اور کہا کہ وہ اسے وائرلیس بجلی پر تجربات کے لیے فنڈنگ کرے کیونکہ وہ کامیابی کے بہت ہی قریب ہے۔ جے پی مورگن مان گیا لیکن بجلی کے لیے نہیں بلکہ وائرلیس کمیونیکیشن کے لیے۔ کیونکہ مارکونی جس نے ریڈیو ایجاد کر لیا تھا اب اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ کسی طرح یورپ سے سگنلز کو اٹلاٹنک اوشن کے پار امریکہ بھیج سکے اور وہ بھی بغیر کسی تار کے۔

ٹیسلا کے لیے یہ کام بہت آسان تھا کیونہ وہ تو وائرلیس ٹکنالوجی میں مارکونی سے بہت آگے تھا۔ بلکہ بجلی کو بغیر تار کے آگے پہچانے کے کامیاب تجربات تھوڑے فاصلے پر ہی سہی کر چکا تھا اس لیے جے پی مورگن چاہتا تھا کہ اگر ٹیسلا یہ ٹکنالوجی جلدی جلدی پریکٹیکل شکل میں لے آئے تووہ نہ صرف لمبا چوڑا منافع کما سکتا ہے بلکہ ٹیسلا بھی ایک بار پھر بہت امیر ہو سکتا ہے۔

وائرلیس کمیونیکشن پر ریسرچ کے لیے جے پی مورگن نے ٹیسلا کو ڈیڑھ لاکھ ڈالرز دینے کا پلان بنالیا۔ اس نے نیویارک شہر کے قریب ہی لانگ آئی لینڈ پر ٹیسلا کو ایک ٹاور اور لیبارٹری بنا کر دی۔ مگر ٹیسلا نے اس لیبارٹری میں ریڈیو سگنل بھیجنے کےبجائے ایک بار پھر وائرلیس بجلی پر ہی تجربات شروع کر دئیے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مارکونی کو ایک بار پھر وقت مل گیا۔ اس نے سمندر پار بغیر تار کے سگنلز بھیج لیے اور ٹیسلا کا انویسٹر جے پی مورگن منہ دیکھتا رہ گیا۔

اب مورگن کے ٹیسلا سے اختلافات شروع ہونے لگے۔ ٹیسلا نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ بغیر تاروں کے بجلی پوری دنیا میں پہنچانے کی ٹکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔ اور کامیابی کے بہت قریب ہے مورگن نے جواب میں ایک تاریخی فقرہ کہا، 

وہ بولا ’’اگر بغیر تار کے ہر گھر میں بجلی جائے گی تو ہم میٹر کہاں لگائیں گے؟‘‘

اب چونکہ ٹیسلا کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا تو مورگن کے پاس ٹیسلا کے لیے کوئی فنڈ بھی نہیں تھا۔ بلکہ اب اس کے فنڈز اب مورکونی کے لیے وقف ہو چکے تھے۔ جے پی مورگن نے ہاتھ کھینچ لیا تو ٹیسلا ایک بار پھر کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا۔ وہ بزنس کیمیونٹی میں اپنی ساکھ اپنی ریپوٹیشن بھی کھو رہا تھا۔ یہاں تک کہ انیس سو نو تک ٹیکنالوجی کی دنیا سے ٹیسلا کا نام غائب ہونے لگا۔ اس کے حریف ایڈیسن اور مارکونی اپنے کام سے شہرت اور دولت دونوں کما رہے تھے،

مگر ٹیسلا روز مرہ ضروریات کے لیے بھی پریشان رہتا تھا۔ حد تو یہ ہے کہ جس ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کو نقصان سے بچانے کے لیے اس نے اپنی رائلٹی معاف کی تھی، وہ بھی ٹیسلا کی کوئی مدد نہیں کر رہے تھے۔ اس نے اپنے دور کی بہترین ایجادات میں حصہ ڈالا تھا، دنیا بھر میں سات سو ایجادات اس کے نام پر تھیں لیکن سائنٹیفک کمیونٹی بھی اس کی مالی مدد کو نہیں آ رہی تھی۔

بلکہ وہاں اس کے ساتھ صریحاً زیادتی ہو رہی تھی انیس سو نو میں ٹیسلا کے حریف مارکونی کو نوبل انعام دے دیا گیا لیکن جس ٹیسلا کی تھیوریز سے مارکونی نے فائدہ اٹھایا تھا اسے کسی اعزاز کا مستحق نہیں سمجھا گیا۔ اس نے خود سے عدالت میں جا کر کوشش کی کہ اس ایجاد میں اس کا بھی حصہ ہے اسے بھی کچھ رقم دی جائے یا کم از کم ریکگنیشن ہی دی جائے۔ لیکن وہ یہ مقدمہ بھی ہار گیا کہ اس کے پاس کوئی اچھا وکیل کرنے کے پیسے ہی نہیں تھے۔

اس واقعہ کےچھے سال بعد ایک بار پھر اس کا نام لوگوں نے سننا شروع کیا۔ وہ یوں کہ انیس سو پندرہ میں اسے اور تھامس ایڈیسن کو مشترکہ طور پر فزکس کا نوبل انعام دینے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن پھر اچانک نامعلوم وجوہات پر دونوں کا نام فہرست سے نکال کر ایک تیسرے برطانوی سائنسدان ایچ بریگ کا نام دے دیا گیا۔

نوبل پرائز واپس لینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی لیکن لوگوں نے یہی خیال کیا کہ شاید خبطی ٹیسلا نے ارب پتی ایڈیسن کے ساتھ یہ ایوارڈ شیئر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے تقریباً دشمن ہی تھے اسی لئے یہ ایوارڈ بھی ان سے واپس لے کر کسی اور کو دیا گیا۔ وجہ کچھ بھی ہو، لیکن نوبیل انعام نہ ملنا ٹیسلا کیلئے بہت تباہ کن تھا۔

پیسہ تو کبھی بھی اس کی منزل نہیں تھا مگر جب اتنی محنت کے بعد تعریف کے دو حقیقی بول بھی نہ ملیں تو انسان مایوس ہو ہی جاتا ہے۔ ٹیسلا بھی مایوس ہو کر اپنی ذات کے خول میں بند ہونے لگا۔ وہ انسانوں سے دور بھاگنے لگا تھا۔

وہ پارک میں کبوتروں کو دانہ ڈالتا رہتا، انھیں ہی اپنا دوست سمجھتا اور انھی سے پاگلوں کی طرح باتیں کرتا رہتا۔ وہ شاید پاگل پن ہی میں مر جاتا لیکن پھر ہٹلر آ گیا۔ اور ٹیسلا کا نام ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے سربراہان کی زبانوں پر چلنے لگا۔ ہٹلر کے جنگی عزائم دیکھ کر امریکہ اور برطانیہ ایسے ہتھیاروں کی ضرورت محسوس کرنے لگے

جن کی مدد سےوہ ہٹلر کے جنگی جنون کا مقابلہ کرسکیں۔ ایسے میں ٹیسلا نے یہ دعویٰ کر دیا کہ اس نے ایک ایسا ہتھیار ڈیزائن کر لیا ہے جو اتنا خطرناک ہے کہ اس کے خوف سے ہی ساری جنگیں ختم ہو جائیں گی۔ اس ہتھیار کوبعد میں ڈیتھ رے کا نام دیا گیا۔ ٹیسلا کے مطابق وہ ڈیتھ رے سے بجلی کی صرف ایک طاقتور لہر پیدا کرے گا اور اس سےدو سو کلومیٹر میں اڑنے والے سیکڑوں جہاز تباہ ہو جائیں گے۔ اب امریکہ سے یورپ تک ٹیسلا کی اس نئی ایجاد یا ڈزائن کے چرچے ہونے لگے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ ٹیسلا نے ایسے کسی ہتھیار پر کوئی تجربہ نہیں کیا تھا۔

یہ اس کا ایک پیپر فارمولا تھا بس۔ اس فارمولے کی عملی شکل یہ ہو سکتی تھی کہ ٹنگسٹن یا مرکری یعنی پارے کے ذرات کو چارج کر کے اگر ایک گن کے ذریعے فائر کیا جائے تو بجلی کی ایک لمبی سی شعاع نکلے گی جو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دے گی۔ جیسا کہ آپ کچھ فلموں میں بھی اس قسم کی گنز دیکھتے ہیں تو ٹیسلا نے اپنی یہ تھیوری برطانیہ، سوویت روس، یوگوسلاویہ اور پھر امریکہ کو بھی بیچنے کی کوشش کی۔ برطانیہ نے اسے تیس ملین ڈالرز آفر بھی کیے۔ لیکن یہ معاہدہ نہ ہو سکا۔ کیونکہ ٹیسلا چاہتا تھا کہ اسے رقم پہلے ادا کی جائے۔ شاید اس لیے کہ وہ زندگی میں پیسوں کے معاملات میں بہت مار کھا چکا تھا اس لیے اب اسےکسی پر اعتبار نہیں رہا تھا۔

جبکہ برطانیہ کا مطالبہ تھا کہ وہ اپنے کاغذات پہلے ان کے حوالے کرے تا کہ وہ چیک کر سکیں کہ آیا اس کا فارمولا قابل عمل ہے بھی یا نہیں۔ سو بداعتمادی کی فضا میں یہ معاہدہ ٹوٹ گیا۔ ٹیسلا کو تین کے نمبر سے زندگی بھر کوئی خاص محبت رہی ہے انیس سو تیس کے شروع میں وہ امریکی ہوٹل نیویارکر کی تیتیسویں منزل کے دو کمروں ڈبل تھری ٹو سیون اور ڈبل تھری ٹو ایٹ میں منتقل ہو گیا۔

ایک میں وہ خود رہتا ایک میں اس کا سامان پڑا رہتا یہاں وہ اکیلا ہی رہتا تھا۔ یہیں وہ مختلف سائنسی تھیوریز پر کام کرتا تھا۔ اسی دوران ایک دفعہ وہ پارک کی طرف جا رہا تھا کہ ایک ٹیکسی سے ٹکرا کر زخمی ہو گیا۔ اس کی کمر پر شدید چوٹ آئی اور تین پسلیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ اس پر مزید یہ کہ اس نے ڈاکٹر کے پاس جانے سے بھی انکار کر دیا۔ جیسا کہ وہ ساری زندگی بھی یہی کرتا رہا تھا۔ اس حادثے اور بوڑھاپے نے اس کی بری حالت کر دی تھی۔ اس نے ایک بار زندگی میں غلطی سے سمجھا تھا کہ اسے خلائی مخلوق نے سگنلز بھیجے ہیں۔

اور اب اسی سال کی عمر میں چھ فٹ تین انچ کے نکولا ٹیسلا کی حالت ایسی تھی کہ وہ خود ایک ایلین سا دکھائی دینے لگا تھا۔ بس یہی وہ وقت تھا جب اس کی پرانی کمپنی ویسٹنگ ہاؤس الیکٹریک کو بھی ہوش آ گیا۔ کمپنی نے اس کا کھانے پینے اور ہوٹل کے کرائے کا خرچ اپنے ذمے لے لیا۔ جبکہ یوگوسلاویہ جو کہ ٹیسلا کا آبائی وطن تھا، اس کی حکومت بھی ٹیسلا کو وظیفہ دینے لگی۔ اس پیسے سے ٹیسلا کا گزارہ چلنے لگا۔ ٹیسلا نے اپنی زندگی کے آخری دس سال اسی ہوٹل کے انھی دو کمروں میں گزارے۔ جہاں وہ خود بھی رہتا تھا اور اس کی ریسرچ کے تمام کاغذات اور پیپر بھی یہی پڑے رہتے تھے انیس سو تنتالیس میں انھی پیپرز میں سے کچھ کو امریکہ حاصل کرنے کے لیے بے چین ہو گیا۔ وہ یوں کہ جب سیکنڈ ورلڈ وار، دوسری جنگ عظیم جوبن پر تھی

تو امریکہ کو خیال آیا کہ کیوں ناں ٹیسلا سے ڈیتھ رے کا فارمولا ہی خرید لیا جائے۔ چنانچہ وائٹ ہاؤس میں اس حوالے سے ایک ہائی لیول میٹنگ رکھی گئی جس میں ٹیسلا نے شریک ہو کر ڈیتھ رے کی تھیوری پر بات کرنا تھی۔ لیکن ہوٹل میں ٹیسلا کے کمرے کے باہر دو دن سے ڈونٹ ڈسٹرب کا سائن لٹک رہا تھا۔ جب ایک میڈ نے بلااجازت دروازہ کھول کر دیکھا تو ڈبل تھری ٹو سیون میں ٹیسلا بے سدھ پڑا تھا۔

یہ سات جنوری انیس سو تنتالیس کا دن تھا اور چھیاسی سالہ ٹیسلا مر چکا تھا۔ ٹیسلا کی آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد اس کی لاش جلا کر راکھ محفوظ کر لی گئی۔ مگر ٹیسلا کی موت نے ایک زبردست کنٹرورسی پیدا کر دی۔ امریکی ایف بی آئی کے ایجنٹس نے ٹیسلا کے ہوٹل والے کمرے پر دھاوا بول دیا اور وہاں موجود سارے کاغذات اپنے قبضے میں لے لئے۔ ایف بی آئی کےا یجنٹ ان کاغذات کا جائزہ لے کر ڈیتھ رے کا فارمولا ڈھونڈتے رہے۔

لیکن ٹیسلا کے وارثوں کو اس کے رشتے داروں کو امریکی حکومت کا یہ ایکشن ایک آنکھ نہیں بھایا وہ ٹیسلا کی راکھ اور اس کے کاغذات کو یوگوسلاویہ لے جانا چاہتے تھے۔ کیونکہ کروشیا اب یوگو سلاویہ کا حصہ تھا ٹیسلا نے چونکہ ساری زندگی شادی نہیں کی تھی۔ اس لئے اس کی وراثت کا دعویدار اس کا بھتیجا کوسانوویچ تھا جو کہ یوگوسلاویہ میں رہتا تھا۔ وہاں کی حکومت بھی یہی چاہتی تھی کہ ٹیسلا کی راکھ اور اس کے چھوڑے ہوئے کاغذات انھیں دئیے جائیں تاکہ ایک قومی ہیرو کی طرح اس کی یادگاروں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

لیکن امریکہ اس کی مخالفت کر رہا تھا کیونکہ یوگوسلاویہ اس کے مقابل سپر پاور سویت روس کا اتحادی تھا۔ امریکہ کو شک تھا کہ ٹیسلا کی ڈرائنگز اور سائنٹیفک تھیوریز روس کے ہاتھ لگ گئیں تو کہی لینے کے دینے نہ پڑ جائیں لیکن اسی دوران ٹیسلا کے کچھ کاغذات چوری یا گم ہو گئے جن کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سوویت روسکے جاسوسوں نےچُرا لیا تھا۔ نکولا ٹیسلا کے وارثوں اور یوگوسلاویہ کی کوششوں سےانیس سو باون میں امریکی عدالت نے ٹیسلا کی یادگاریں اس کے بھتیجے کے حوالے کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

لیکن یہاں پھر ایک کنٹرورسی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ کہ ایف بی آئی کے ریکارڈ کے مطابق ٹیسلا کا چھوڑا ہوا سامان اسی صندوقوں میں بند تھا۔ مگر جو سامان کوسانوویچ یوگوسلاویہ لے گیا وہ ساٹھ صندوقوں میں بھرا ہوا تھا۔ بیس صندوق غائب تھے۔ ٹیسلا کی بایوگرافی، وزرڈ: دا لائف اینڈ ٹائمز آف نکولا ٹیسلا، لکھنے والے مصنف کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سارا سامان ساٹھ صندوقوں میں پورا آ گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا کچھ حصہ امریکیوں نے غائب کر دیا ہو۔ بہرحال جو بھی تھا ٹیسلا کا بھتیجا، اس کی یادگاریں، ریسرچ پیپرز اور ٹیسلا کی راکھ لے کر یوگوسلاویہ پہنچ گیا تھا۔

ان کاغذات میں اس کی تفصیلی ڈرائنگز تھیں جن میں ٹیسلا نے ایسے طیارے بنانے کے آئیڈیاز لکھے تھے جو بغیر رن وے کے اڑ سکیں، موسم تبدیل کرنے اور مصنوعی بارش برسانے کی تھیوریز تھیں، بغیر تاروں کے بجلی ٹرانسفر کرنے کے فارمولے تھے، ڈیتھ رے پر بہت سا کام تھا، ریموٹ کنٹرول ٹکنالوجی کی کامیاب ٹیکنیکس تھیں اور سورج کی روشنی سے پوری دنیا میں بجلی پہنچانے کے آئیڈیاز بھی انھی کاغذات میں تھے۔ اور نہ جانے کیا کچھ تھا کیونکہ یہ کاغذات ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ انھی کاغذات اور اس کی یادگاروں کو انیس سو باون میں یوگوسلاویہ میں لا کر مرکزی شہر بلغراد کے ٹیسلا میوزیم میں رکھ دیا گیا۔ اگر آپ اس میوزیم میں جائیں تو یہاں ایک اونچے میز پر ایک سنہری گیند دھری ہے۔ سنہری گیند ٹیسلا کا دل پسند ڈیزائن تھا اور اسی میں آج اس کی راکھ محفوظ ہے۔ قریب ہی اس کی آخری تصویر کے طور پر اس کا ڈیتھ ماسک بھی رکھا ہوا ہے کہ جو چاہے اس کا آج بھی آخری دیدار کر سکتا ہے۔ نکولا ٹیسلا کو اپنی زندگی میں تو اپنے کاموں کا صلہ نہیں ملا لیکن مرنے کے بعد اس کی بہت عزت کی گئی، اسے مین آف فیوچر کا نام دیا گیا ہے۔

آج اس کے نام پر جدید ترین گاڑیاں بن رہی ہیں کئی یونٹس اس کے نام پر ہیں۔ امریکہ، کروشیا، سربیا اور نجانے کہاں کہاں اس کے یادگاری مجسمے نصب ہیں۔ جب وہ زندہ تھا تو کوڑی کوڑی کا محتاج تھا لیکن جب وہ مر گیا تو سربیا کے کرنسی نوٹوں پر اس کی تصاویر چھپنے لگیں۔ مرزا غالب نے شاید ایسے ہی کسی لمحے کے لیے کہا تھا کہ ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

دوستو آپ کے خیال میں ٹیسلا عظیم سائنسدان تھا یا نامکمل پراجیکٹس تیار کرنے والا ایک ان ڈسپلنڈ جینئس

ہمیں کامنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔ اگر اپ نے نیکولا ٹیسلا کے پہلے ایجاد کے بارے میں جاننا ہے توادھر کلک کریں نیکولا ٹیسلا پہلا حصہ

No comments:

Post a Comment