Monday, February 7, 2022

Who was Nikola Tesla? part 1

نیکولا ٹیسلا کون تھا؟ پہلا حصہ

Who was Nikola Tesla? part 1


 کروشیا کے ایک گاؤں کے قریب ایک چھوٹے سے ڈیم کے کنارے پر ایک بچہ کھڑا تھا۔ اس نے پانی میں غوطہ لگایا اور اپنے دوستوں سے پہلے ڈیم کے دوسری طرف نکل جانے کی کوشش کی۔ لیکن جب اس نے غوطے سے سانس لینے کے لیے ایک بار سر اٹھایا تو اس کا سر بجائے کھلے پانی میں آنے کے لکڑی کی ایک چھت سے ٹکرا گیا۔ توبہ ۔۔۔

وہ ڈیم کے اس حصے میں پھنس چکا تھا جس کے نیچے سے پانی گزرتا تھا اور اوپر لکڑی کی ایک مضبوط چھت تھی۔ سانس لینے کے لیے ایک انچ کی جگہ بھی نہیں تھی۔ مزید یہ کہ یہاں گھپ اندھیرا تھا۔ نوعمر لڑکا سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ اسے کس سمت کو تیرنا چاہیے کہ وہ باہر نکل سکے۔

وہ پانی کے نیچے ہی نیچے کچھ میٹر تیرتا اور پھر کسی لکڑی کے پلر یا چھت سے ٹکرا جاتا۔ کچھ ہی دیر بعد جب وہ بے دم ہو چکا تھا اور سانس کی ڈوری ٹوٹنے ہی والی تھی تو اس کی آنکھوں سے ایک روشنی ٹکرائی۔ اس نے روشنی کی سمت اوپر کو اٹھنا شروع کیا تو یہ روشنی اوپر تختے میں چند انچ کی درز سے اندر آ رہی تھی۔ اس رخنے یا درز سے اس نے اپنا چہرہ تھوڑا سا اوپر کر کے سانس بحال کیا۔ اب اس چھوٹی سی درز سے وہ باہر تو نکل نہیں سکتا تھا

سو ایک بار پھر وہ راستہ تلاش کرنے کے لیے نیچے پانی میں غوطہ لگا گیا۔ راستہ تلاش کرتے جب سانس ٹوٹنے لگتا تو وہ اسی درز پر واپس آ کر سانس بحال کر لینا۔ ایسا کئی بار کرنے کے بعد آخر ایک سمت اسے راستہ مل گیا وہ لکڑی کی چھت سے وہ باہر کھلے پانی میں نکل آیا۔

یہ نوعمر لڑکا اگر اس دن مر جاتا تو شاید آپ کے ہاتھ میں آج نہ تو ریموٹ کنٹرول ہوتا نہ دنیا کے ہر ملک میں سستی بجلی پہنچ رہی ہوتی، نہ ایکسرے مشینز ہوتیں اور نہ ہم سولر پینلز سے بجلی بنا رہے ہوتے۔ اس ننھے لڑکے کو آج دنیا نکولا ٹیسلا کے نام سے جانتی ہے۔۔

یہ نو جولائی اٹھارہ سو چھپن کی رات تھی۔ جہاں آج یورپی ملک کروشیا ہے اس کے ایک گاؤں سمیلیان لیکا میں طوفان آیا ہوا تھا۔ رات کے بارہ بجے تھے کڑکتی بجلی اور طوفان سے گاؤں کے قریب جنگل میں سیٹیاں بج رہی تھیں۔ جنگل کے کنارے ایک لکڑی کے مکان میں طوفان کے علاوہ ایک بچے کے رونے کا شور بھی اٹھ رہا تھا۔ یہ ایک ایسے بچے کی آواز تھی جو ابھی ابھی دنیا میں آیا تھا۔ اس کی بیمار ماں ابھی اپنے بچے کا منہ ہی دیکھ رہی تھی کہ پاس کھڑی نرس نے کہا

’’ یہ طوفانوں کا بچہ ہے، نجانےکیسی قسمت لایا ہو۔‘‘

ماں نے کہا، ’’نہیں میرا بیٹا روشنی کا جنا ہے۔‘‘

اور قدرت کا ستم دیکھیے کہ دونوں باتیں سچ نکلیں۔ وہ روشنیوں سے کھیلتا رہا اور طوفانوں سے لڑتا رہا۔

محاورے میں نہیں اصل میں بھی۔ یہی بچہ سات سو ایجادیں کرنے والا نکولا ٹیسلا تھا جسے گھر میں سب پیار سے نکی کہتے تھے۔ نیکی کے نانا اور پرنانا دونوں سائنس دان تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی ایجادات کر کے انھیں رجسٹر کرواتے رہتے تھے۔ نیکی کی ماں بھی اپنے والد سے بہت متاثر تھی وہ بھی گھر میں اپنے خاندان کی مدد کے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں ڈیزائن اور تیار کر لیتی تھی۔ وہ اپنے چار بچوں کے لیے انڈے بنانے لگتی تو اسے انڈے پھینٹنے میں کافی وقت لگتا۔ سو اس نے دو فورکس ساتھ جوڑ کر پیچھے ایک گول لکڑی لگا لی اوردونوں ہاتھوں سے مسل کر اسےچلانےلگی اب وہ کم وقت میں انڈے پھینٹ لیتی تھی۔ لیکن یہ کرتے ہوئے اس کے ہاتھ دکھنے لگتے تھے۔

نکی، اپنی ماں کا لاڈلا تھا۔ پھر بڑے بیٹے کے ایک حادثے میں مر جانے کے بعد نیکی ہی سب سے بڑا بھی تھا۔ وہ اپنی ماں کا بہت خیال رکھتا تھا اور ماں کو دیکھتا رہتا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کی ماں کے ہاتھ تھک جاتے ہیں تو وہ سوچنے لگا مجھے کیا کرنا چاہیے کہ ماں کی مدد ہو سکے؟ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی ماں نے کہا

’’کاش میں اتنی سائنس دان ہوتی کہ ایک چھوٹی سی موٹر بنا لیتی جو اس انڈے پھینٹنے والی مشین کو خود بخود چلاتی تو میرے ہاتھ نہ تھکتے۔‘‘

نکولا ٹیسلا، ننھا نکی دس سال سے بھی چھوٹا تھا۔ اس نے دل میں سوچا میں اپنی ماں کے لیے ایسی موٹر ضرور بناؤں گا۔ نیکی کی امیجینشین بہت سٹرانگ تھی۔ وہ سوچتے ہوئے تصور میں ایسی چیزیں ایجاد کرنے لگا جو اس کے خیال میں اسے بڑا سائنس دان بنا سکتی تھیں۔ اسے اپنے گھر کے کاٹھ کباڑ میں ایک لکڑی کی کھپچی ملی۔ اس نے کھپچی کو کسی طرح کانٹ چھانٹ کر ایک طرف سے تیز کیا اور اپنے طور پر تلوار ایجاد کر ڈالی۔ اب ایک سائنس دان کی طرح اس نےاپنی ایجاد کا ٹیسٹ کرنے کے لیےکھیتوں کا رخ کیا۔ مکئی کی فصل تیار کھڑی تھی۔ اس نے خود کو ایک جنگجو تصور کرتے ہوئے تلوار نکالی اور مکئی کی فصل کے ایک ایک پودے کو دشمن سمجھ کر کاٹنے لگا۔ وہ کہتا ہے کہ میں فصل کاٹتے ہوئے جنگجو قسم کی آوازیں بھی نکال رہا تھا۔

اپنی پہلی ایجاد کو کام کرتے دیکھ کر وہ اتنا پرجوش ہوا کہ جب تک تھک نہیں گیا دشمن کا قلع قمع کرتا رہا۔ شام کو وہ ان گنت دشمنوں کو دھول چٹا کر فاتحانہ گھر میں داخل ہوا اور پکارا

’’اماں دیکھو میں نے کیا ایجاد کیا، دیکھو میں انوینٹر، موجد بن گیا ہوں۔ ‘‘

ماں نے اس کے ہاتھ میں تلوار اور اس کے کپڑوں کو دیکھا تو بھاگ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے گئی۔ چند ہی لمحوں میں وہ سمجھ گئی کہ تلوار ایجاد اور ایک سال کی فصل برباد ہو چکی ہے۔ پھر ماں نے اپنے پیارے بیٹے کی ایسی دھلائی کی کہ اسے دن میں تارے نظر آ گئے۔ پھر یوں ہوا کہ کئی روز تک اس کا ذہین دماغ ایک اور مسئلہ حل نہ کر سکا۔ وہ یہ کہ آخر اس کے گھر آنے والے لوگ اس کی ایجاد پر باتیں کرنے کے بجائے، فصل کی تباہی کا افسوس کیوں کررہے ہیں؟

اس سانحے سے اسے یہ تو سمجھ لگ گئی تھی کہ ایسی ایجاد کا کوئی فائدہ نہیں جس کی کوئی تعریف ہی نہ کرے یا وہ کسی کے کام ہی نہ آسکے۔ چنانچہ اب وہ پریکٹیکل ایجادات کے بارے میں سوچنے لگا۔ وہ گھر کے باہر کھیتوں کے پاس بیٹھا ایسی ہی باتیں سوچتا رہتا تھا۔

ایک دن اس نے غور کیا کہ اس کا کوئی دوست بھی گاؤں میں موجود نہیں ہے۔ سب کے سب ایک ایسے لڑکے کے ساتھ مینڈک پکڑنے چلے گئے تھے جس کے پاس ایک نئی فشنگ راڈ تھی۔ نکی حسد اور غصے میں جل بھن گیا۔ اسے لگا کہ اسے تنہا چھوڑ کر اس کے دوستوں نے بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ اس نے اپنے دوست کی فشنگ راڈ نہیں دیکھی تھی لیکن اسے ایک ایسی جگہ کا علم تھا جہاں مینڈک بہت زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں۔ اس نے اب اپنی دوسری ایجاد پرکیا۔ اس نےلوہے کا ایک تار لیا اور اسے ہک کی شکل دی، اس کے پیچھے ڈوری باندھی اور اسے ایک راڈ سے جکڑ کر اس جگہ چلا گیا جہاں مینڈک بہت تھے۔ اس نے راڈ کے آگے بیٹ یعنی چارہ لگایا اور باہر بیٹھے ایک مینڈک کے آگے پھینک دیا۔

مینڈک جھٹ سے اس پر جھپٹا اور پکڑا گیا۔ نکولا نے کچھ محنت کے بعد اپنی ایجاد کو بہتر بھی کیا اور شام تک کافی سارے مینڈک پکڑ کر جب وہ گاؤں واپس آیا تو اسنے دیکھا کہ اس کے دوست تو خالی ہاتھ آئے تھے۔ یہ بات ننھے نکولا ننھے نکی کے لیے بہت فخر کی بات تھی۔

اس کے دوست حیران رہ گئے کہ نکولا نے بغیر فشنگ راڈ کے اتنےسارے مینڈک کیسے پکڑ لیے؟ نکولا بھی غصے میں تھا۔ اس نے کئی دن بتایا ہی نہیں کہ اس نے اپنی ایک راڈ خود سے بنا لی ہے ایجاد کر لی ہے۔ ہاں جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو اس نے سب دوستوں کو اپنی اس نئی ایجاد کو دکھایا بھی اور سب کو وہ بنا کربھی دی۔ بس پھر کیا تھا دوستو اگلی بار برسات کا موسم آیا تو ہر بچے کے پاس اپنی فشنگ راڈ تھی اور اتہاس کے پنوں میں درج ہے کہ وہ سال مینڈکوں کے لیے بہت برا سال تھا۔ مینڈک یا مچھلیاں پکڑنا اور جھیلوں میں تیرنا اس کے لیے فطری چیزیں تھیں وہ اپنے بارے میں کہتا ہے کہ اسے تیرنا سیکھنا نہیں پڑا، وہ فطری طور پر بہت اچھا تیراک تھا۔ پانی اور پانی کی طاقت اس کی ان کہی محبتیں تھیں۔ اسے کسی نے کہہ دیا کہ امریکہ میں ایک نیاگرا آبشار ہے جس کا پانی سیکڑوں فٹ بلندی سے نیچے گرتا ہے۔ تو اس نے سوچا کیوں نہ اس پانی کی طاقت سے ایک بڑا سا پہیہ گمایا جائے اور پھر اس سے بجلی پیدا کی جائے۔ آسمانی بجلی سے اس کا رشتہ جنم کے پہلے لمحے سے تھا اور اب وہ اپنے اردگرد سے بجلی پیدا کرنے اور اسے استعمال کرنے کے بارے میں سنتا پڑھتا بھی رہتا تھا۔

چودہ سال کی عمر سے اس کی ہائی سکول تعلیم بھی شروع ہو چکی تھی۔ اس دوران دنیا میں بجلی اور بجلی سے چلنے والی چیزیں سائنسدان بہت ڈسکس کرتے تھے، خبریں چھپتی تھیں اور جیسے آجکل آئی ٹی سیکٹر میں نئے نئے آئیڈیاز آتے ہیں کچھ چھا جاتے ہیں کچھ پٹ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح نکولا ٹیسلا کے سکول کے دنوں میں بجلی کے بارے میں اور اس کے استعمال کے بارے میں ایسی ہی گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ نکولا ٹیسلا کا دماغ بھی بجلی کے موضوع پر بہت تیز تھا

سبھی طالب علم اور استاد اس کے معترف تھے،

اس کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا

کہ اس کا باپ ٹھہرا ایک مقامی پادری۔ وہ اپنے بیٹے کو بھی چرچ ہی میں لانا چاہتا تھا۔ بلکہ بچپن میں تو اس نے نکولا کی تریبت کے لیے اس کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ چرچ کی گھنٹی وہ بجایا کرے۔ دراصل نکولا ٹیسلا کا باپ کچھ سال پہلے اپنا بڑا بیٹا جو بہت ذہین اور انجیرننگ مائنڈ سیٹ کا تھا، ایک خطرناک حادثے میں کھو چکا تھا۔ اس لیے اب شاید وہ انجینئرنگ یا انوینٹر کے نام سے ہی خوفزدہ ہو گیا تھا اور کہتا تھا کہ ہمارے خاندان میں ایک انوینٹر ایک موجد ہی کافی تھا۔ اور نہیں چاہیے اپنے باپ کے سخت روئیے کے باوجود ٹیسلا کو یقین تھا کہ وہ اپنے باپ کو منا ہی لے گا۔

دوستو نکولا ہائی سکول کی تعلیم کے بعد اپنے باپ کو منانے جب گھر واپس آیا تو کولرا یعنی ہیضے کی بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ اب یہ اس دور کی ایک خطرناک بیماری تھی۔ آج کی طرح اس کا علاج اتنا آسان اور عام نہیں تھا۔ بے شمار لوگ اس وقت اس بیماری سے مر جاتے تھے۔ نکولا کے ماں باپ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ایک بیٹا وہ پہلے کھو چکے تھے، دوسرا بستر مرگ پر پڑا تھا۔ آٹھ مہینے تک جب نکولا کے صحت مند ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے تو اس کا باپ امید چھوڑنے لگا۔ اس نے مایوسی میں کہا اگر میرا بیٹا بچ گیا تو میں اسے دنیا کے بہترین ادارے میں اس کی مرضی کی تعلیم دلاؤں گا۔ شاید اس بات نے نکولا کے دماغ میں امید جگا دی اور اس میں بیماری سے لڑنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ گئی۔ نویں یا دسویں مہینے میں اس نے بستر چھوڑ دیا اور اس کے باپ نے اسے پادری بنانے کی ضد چھوڑ دی۔

نکولا انجینرنگ پڑھنے اٹھارہ سو ستر میں آسٹریا کی گراز یونیورسٹی آ گیا۔ اس وقت تک امریکہ سمیت دنیا کے کچھ حصوں میں بجلی کا انڈسٹریل استعمال شروع ہو چکا تھا۔ اس سے مشینیں چلائی جاتی تھیں۔ لیکن ابھی اس سے گھروں میں کوئی کام نہیں لیا جاتا تھا۔ یہ ویسے بھی ڈائریکٹ کرنٹ تھا۔ یعنی سرکٹ کے ایک طرف سے چلتا اور دوسری طرف جا کر ختم ہو جاتا۔ یعنی بجلی ضائع ہو جاتی تھی۔ یہاں ٹیسلا کا جینئس دماغ پھر تصور میں گم ہو جاتا وہ سوچتا کیوں نہ کوئی ایسا طریقہ نکالا جائے کہ یہ کرنٹ ضائع نہ ہو بلکہ واپس آئے اوردوبارہ استعمال ہو سکے۔ جب اس نے یہ تھیوری اپنی کلاس میں استاد سے ڈسکس کی تو اس کا خوب مذاق اڑا۔ اسے احمق سٹوپڈ تک کہا گیا۔ سب نے اس کی ہمت توڑنے کی کوشش کی لیکن اس کے دل نے اسے کہا

’’ آپ نے گھبرانا نہیں۔‘‘

سو وہ نہیں گھبرایا، اس نے خود پر اعتماد کیا اور اس تھیوری پر کام کرتا چلا گیا۔ اس تھیوری کو اس نے الٹرنیٹنگ کرنٹ کا نام دیا۔ جسے عرف عام میں ہم اے سی کرنٹ کہتے ہیں۔ یہ ایک انقلابی تھیوری تھی۔ لیکن اسے پریکٹیکل کرنا ایک مسئلہ تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ٹیسلا کو انویسٹمنٹ چاہیے تھی۔ کیونکہ اگر وہ کرنٹ کو ضائع ہونے سے بچانے والی موٹر بنا لیتا تو ظاہر ہے یہ موٹر ہر بجلی کی نئی ایجاد میں استعمال ہونا تھی اور اس سے ٹیسلا اور اس کا انویسٹر اتنے پیسے کما سکتے تھے کہ دنیا میں شاید اس وقت ان سے دولت مند اور کوئی نہ ہوتا۔ مگر نکولا ایک نوجوان ارلی ٹوینٹیز کا لڑکا تھا اور کوئی اس کے آئیڈیا پر بھروسہ کر کے ایک بڑی رقم داؤ پر نہیں لگانا چاہتا تھا پھر بھی اس دوران بھاگ دوڑ سے اسے ذاتی طور پریہ فائدہ ضرور ہوا کہ وہ لوگ جو بجلی سے متعلق تھے اس بزنس کے بارے میں کام کررہے تھے

انھیں ٹیسلا کےمتعلق پتا چل گیا اور یہ بھی علم ہو گیا کہ ایک انرجیٹک نوجوان کچھ کر گزرنا چاہتا ہے۔ اور اس کے پاس کوئی آئیڈیا بھی ہے سو ایسے ہی ایک شخص نے اٹھارہ سو بیاسی،1882میں چھبیس سالہ نکولا ٹیسلا کو اپنے پاس نوکری دے دی۔ اب یہاں سے وہ کہانی شروع ہوتی ہے جو ماڈرن دور کی ایک لیجنڈ ہے۔ جسے آپ اور ہم وار آف دا کرنٹس کے نام سے جانتے ہیں۔ کیونکہ یہ نوکری تھی مشہور زمانہ سائنس دان تھامس ایلوا ایڈیسن کی، کانٹی نینٹل ایڈیسن کمپنی پیرس میں۔ اس کمپنی میں کام کرتے ہوئے ٹیسلا نے اپنے طور پر انڈکشن موٹر جیسا کہ پانی کھنیچنے والی آج کل ہر گھر میں لگی ہوتی ہے، اسی کی ایک سادہ سی شکل بنا لی تھی۔

لیکن اسے پورے یورپ میں اپنے آئیڈیاز پر پیسے لگانے والا اب بھی نہیں مل رہا تھا۔ سو اسی دوران ایک دن اسے پیرس آفس کے ہیڈ چارلز بیچلر نے نیویارک میں ایڈیسن کی کمپنی ’ایڈیس مشین ورکس‘ میں کام کرنے کی پیش کش کی۔ اور اپک سفارشی خط ایڈیسن کے نام لکھ کر اسے دیا۔

ٹیسلا یہ خط لے کر اٹھارہ سو چوراسی میں نیویارک پہنچا۔ اس نے ایڈیسن کو خط دکھایا اور ایڈیسن نے ٹیسلا کو سو ڈالر ماہانہ پر الیکٹرک انجینئر کی جاب دے دی۔ ٹیسلا کی جاب یہ تھی کہ اسے ورکشاپ کے تمام جنریٹرز کو ری ڈیزائن کرنا تھا۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ ٹیسلا سے اس نےوعدہ کیا تھا کہ تنخواہ کے علاوہ اس کام کیلئے وہ اسے پچاس ہزار ڈالر بونس بھی دے گا۔ ٹیسلا کو اپنے تجربات اور ایجادت کے لیے پیسے تو چاہیے تھے، سو وہ خوشی خوشی دن رات ایک کر کے کام کرنے لگا۔ وہ روزانہ صبح ساڑھے دس بجے کام شروع کرتا اور اگلے روز صبح پانچ بجے تک کام کرتا رہتا۔ یعنی مسلسل سترہ سترہ گھنٹے وہ کام کرتا۔ پھر دو یا تین گھنٹے سو کر دوبارہ کام شروع کر دیتا۔

وہ خود کہتا ہے کہ وہ کبھی مسلسل دو گھنٹوں سے زیادہ ایک دن میں نہیں سویا۔ اس کے خیال میں کسی ایجاد کرنے والے کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی کوئی اور بات نہیں ہو سکتی ہے کہ اس کے ذہن میں سوچے ہوئے خیال ایک نئی مشین کی شکل میں ڈھل رہے ہوں۔ ایسے میں انسان کھانا، سونا دوستیاں، محبت سب کچھ بھول جاتا ہے۔ تو دوستو اس نے چھ مہینوں کے اندر اندر تمام جنریٹرز ری ڈیزائن کر دیئے۔ مگر جب اس نے ایڈیسن سے بونس مانگا تو ایڈیسن نے کہا، ارے وہ تو میں نے مذاق کیا تھا، تم امریکی مزاح کو امریکن ہیومر کو نہیں سمجھتے کیا؟ ٹیسلا تو اپنے ایجادات کے لیے بڑی رقم کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ سو یہ جواب اس کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں تھا۔ جنوری اٹھارہ سو پچاسی میں اس نے اپنی ڈائری میں کیپیٹل لیٹرز میں ایک لائن لکھی

، ’’گڈ بائے ایڈیسن مشین ورکس۔‘‘

وہ بیروززگار ہو چکا تھا۔ اس کے پاس ایک دنیا بدل دینے والا آئیڈیا یعنی اے سی کرنٹ کو پریکٹیکل کرنے کا آئیڈیا تو تھا لیکن اس پر پیسے لگانے کے لیے امریکہ میں بھی کوئی انویسٹر تیار نہیں تھا۔ اس کے مقابلے میں مہنگے اور کم صلاحیت والے کرنٹ ڈی سی کرنٹ پر ایڈیسن کی اجارہ داری تھی اور اسے کے پاس انویسٹمنٹ بہت تھی۔ ویسے بھی ایڈیسن امریکہ میں ایک ڈارلنگ سلیبرٹی تھا۔ وہ ٹیسلا کے آنے سے دو سال پہلے امریکی گھروں میں بلب کی روشنی پہنچا کر دنیا بھر میں نام، عزت اور پیسہ کما چکا چکا تھا اور کما رہا تھا۔ اس کے مقابلے میں کروشیا سے آنے والے ایک ناکام ییروزگار کی بات کون سنتا۔ ٹیسلا اپنے اے سی کرنٹ کا آئیڈیا لے کر انویسٹر ڈھونڈ رہا تھا لیکن اسے کوئی مل نہیں رہا تھا۔ ہاں ایک چھوٹی سی نوکری اسے مل گئی۔ اس میں دو ڈالر روز کے ملتے تھے اور کام یہ تھا کہ نیویارک کی سڑکوں پر آرک لائٹس لگانے کے لیے گڑھے کھودنے تھے یعنی ایک مزدوری تھی یہ اور گلیوں میں لائٹس لگانے کا ٹھیکا ایڈیس کی کمپنی کو ملا تھا۔

یعنی یہ کام بھی ایک عذاب سے کم نہیں تھا اس کے لیے۔ مگر پیٹ تو بھرنا تھا۔ نکولا کے مطابق اٹھارہ سو چھیاسی اور ستاسی کی سردیاں اس کی زندگی کے تلخ ترین سال تھے۔ اسے دو ڈالر روززانہ کے لیے کام کرنا پڑتا تھا۔ اس دوران اسے اپنی ساری تعلیم ایک مذاق لگنے لگی تھی۔ اس انتہائی مایوسی میں بھی اس نے اپنا خواب نہیں چھوڑا اور دوستو آپ تو جانتے ہیں خواب ضرور دیکھنے چاہیے انہیں زندہ رکھنا چاہیے کیونکہ موقعہ ہر شخص کی زندگی میں آتا ہے اگر آپ تیار ہوں تو اس موقعہ سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن اگر آپ تیار نہ ہوں تو موقعہ ضائع ہو جاتا ہے اور آپ کے پاس پھچتانے کے سوا کچھ نہیں بھجتا سو ایک ایسا ہی موقع، ایسا ہی چانس ٹیسلا کو مل گیا۔ ہوا یوں کہ ٹیسلا نے ایک دن فورمین کو اپنی انڈکشن موٹر کے متعلق بتایا۔ یہ وہی موٹر تھی جس کا ڈیزائن وہ یورپ میں تیار کر چکا تھا اور اس میں اے سی کرنٹ ہی استعمال ہوتا تھا۔ فورمین پتا نہیں آئیڈیے کو کتنا سمجھا لیکن وہ ٹیسلا سے متاثر ضرور تھا کہ یہ مزدور باقیوں سے بہت ہی مختلف تھا۔

اُس نے اِس مزدور ٹیسلا کی ملاقات ایک انجینئر الفریڈ براؤن سے کروا دی۔ جب ٹیسلا نے الفریڈ کو اپنی موٹر اور اے سی کرنٹ کے کامیاب پریکٹیکل استعمال کے بارے میں بتایا تو اسے کچھ بات سمجھ آ گئی۔ اپریل اٹھارہ سو ستاسی میں، یعنی ایڈیسن کو چھوڑنے کے دو سال دو مہینے بعد ٹیسلا نے الفریڈ براؤن کے ساتھ پارٹنرشپ پر ایک کمپنی ’’ٹیسلا الیکٹرک‘‘ قائم کر لی، اس میں ٹیسلا کو اڑھائی سو ڈالر تنخواہ بھی ملتی تھی۔

ٹیسلا محنتی تو تھا ہی، اس نے جلد ہی اے سی کرنٹ سے بجلی پیدا کرنے کا ایک مکمل نظام تیار کر لیا۔ اس نے اے سی کرنٹ اور اس سے وابستہ پاور جنریٹرز، ٹرانسفارمرز اور پاور سپلائی کے حقوق بھی اپنے نام رجسٹر کروا لئے۔ اب وہ اپنے سابق باس کا کمپی ٹیٹر بھی بن چکا تھا۔ امریکہ میں بجلی سپلائی کی بہت سی کمپنیاں تھیں۔

لیکن یہ سب ڈائیرکٹ کرنٹ کے اصول پر قائم تھیں۔ اب جب ڈائریکٹ کرنٹ سب کو اچھا پے کر رہا تھا

تو نئی ٹکنالوجی پر پیسے کیوں لگائے جائیں؟ یہ سوچ بہت سے انویسٹرز کی تھی۔ اب ایسے میں نکولا ٹیسلا اپنے کمپی ٹیٹرز سے اسی صورت میں جیت سکتا تھا جب وہ اے سی کرنٹ کو سستے میں، جو کہ وہ تھا، ہر گلی اور گھر تک کامیابی سے پہنچانے کا یقین دلا سکے۔ اس کے لیے اسے مزید انویسٹمنٹ چاہیے تھی۔ سو اس نے بڑے بڑے انویسٹرز کو اپنی ورکشاپ میں ڈیموز دینا شروع کیے تا کہ انھیں یقین دلائے کہ ٹیسلا آئیڈیاز ورک موور دین ایڈیسن۔ انھیں ڈیموز میں اسے پہلا بڑا انویسٹر ملا جس کا نام تھا جارج ویسٹنگ ہاؤس۔ ویسٹنگ ہاؤس اے سی کرنٹ پر کام کر رہا تھا لیکن وہ اسے زیادہ سستا اور پریکٹیکل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ بس چھوٹے پیمانے پر اس سے مشینیں وغیرہ تیار ہو رہی تھیں۔

لیکن جب جارج ویسٹنگ نے دیکھا کہ ٹیسلا اس کا مسئلہ حل کر رہا ہے اور اس کے پاس موقع ہے کہ وہ پورے امریکہ میں اپنے کمپی ٹیٹرز کو ٹیسلا کی مدد سے شکست دے دے تو اس نے دس لاکھ ڈالرز سے زیادہ میں ٹیسلا سے اے سی کرنٹ کے حقوق کا سودا کر لیا۔

یہی نہیں، یہ بھی طے کیا گیا کہ اے سی کرنٹ کے جنریٹرز سے پیدا ہونے والی ہر ایک ہارس پاور پر ٹیسلا کو اڑھائی ڈالر رائلٹی بھی ملے گی۔ یعنی جب تک جارج کی کمپنی اے سی کرنٹ سے بجلی بناتے رہے گی ٹیسلا کو یہ رائلٹی ملتی رہے گی۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ٹیسلا کتنا امیر ہونے والا تھا۔ وہ راتوں رات ککھ پتی سے لکھ پتی بن چکا تھا۔ جارج ویسٹنگ ہاؤس نے، ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کے نام سے نئی کمپنی بنائی اب جارج ویسٹنگ ہاؤس نے ٹیسلا کی اے سی ٹیکنالوجی استعمال کر کے بجلی کے ٹھیکے حاصل کرنا شروع کر دیے

یہ ڈی سی کرنٹ کی شکست کا آغاز تھا۔ کیونکہ ڈی سی کرنٹ کم وولٹیج والا کرنٹ تھا جو لمبے فاصلے تک نہیں جا سکتا تھا۔ کسی بڑے شہر کو بجلی فراہم کرنے کیلئے ہر ایک میل پر ایک نیا بجلی گھر بنانا ضروری ہوتا تھا۔ یعنی ڈی سی کرنٹ پر بھاری رقم، ہیوی انویسٹمنٹ کی ضرورت ہوتی تھی۔ جبکہ ٹیسلا کا اے سی کرنٹ ہائی وولٹیج تھا لیکن اسے تاروں اور کھمبوں کی مدد سے ہزاروں کلومیٹر دور تک پہنچایا جا سکتا تھا۔

صرف ایک بجلی گھر سے پورے شہر کو بجلی دی جا سکتی تھی۔ یوں اے سی کرنٹ، ڈی سی کے مقابلے میں بہت سستا اور بہتر تھا۔ یہ ایڈیسن اور ڈی سی کرنٹ کی دوسری کمپنیز کے لیے ایک بری خبر تھی۔ اگر ٹیسلا کا آئیڈیا کامیاب ہوجاتا تو ان سب کا دھندا بند ہو جانا تھا۔ لیکن ایڈیسن تو امریکیوں کا ڈارلنگ بوائے تھا، ان کا ہیرو تھا۔ اس کے سامنے ٹیسلا کیا بیچتا تھا۔ تو ایڈیسن نے ٹیسلا کے آئیڈیے کو ناکام کرنے کے لیے ہر وہ غلط حربہ استعمال کیا جو وہ کر سکتا تھا۔ اس نے امریکی عوام کو کہا کہ اے سی کرنٹ بہت خطرناک ہے اور ویسٹنگ ہاؤس یعنی ٹیسلا کی کمپنی اپنے کسی بھی کسٹمر کو بجلی سپلائی کے چھے ماہ میں ہی ہلاک کر دے گی۔ بلکہ اس نے یہ مظاہرہ کرنا بھی شروع کر دیا اور نیویارک کے چوراہوں پر کتوں اور گھوڑوں کو اے سی کرنٹ لگا کر مارنا شروع کر دیا۔

وہ عام لوگوں، سرکاری افسران اور انویسٹرز میں یہ خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ اے سی کرنٹ سے دور رہیں ورنہ مارے جائیں گے۔ ایڈیسن اس لڑائی میں اس حد تک چلا گیا کہ اس نے سزائے موت کے ایک مجرم کو اے سی کرنٹ سے مارنے کا مشورہ دیا۔ جب ایسا کیا گیا تو بیچارہ ملزم بہت تڑپا۔ سزائے موت پانے والے مجرم ولیم کیملر کو مرنے میں پورے چار منٹ لگے، بلکہ کہا جاتا ہے اخباروں میں لکھا گیا کہ اس کا جسم بری طرح جل گیا تھا اور لاش کو ٹھنڈا ہونے میں بھی کئی گھنٹے لگے۔

اخبارات نے اس تکلیف دہ موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کیملر کو بیچارہ مجرم قرار دیا۔ لیکن جب یہ خبریں ایڈیسن تک پہنچیں تو اسے کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ بلکہ اس نے کہا کہ چونکہ یہ پہلی بار تھا کہ اے سی کرنٹ سے لوگوں کو مارا جا ریا ہے تو جوش میں ان سے کچھ غلطیاں ہوگئی ہوں گی۔ اس نے تجویز دی کہ اگلی بار کسی شخص کو بجلی کی کرسی پر بٹھایا جائے تو اس کے دونوں ہاتھ پانی سے بھرے برتن میں ڈبو دیئے جائیں اور پھر کرنٹ چھوڑا جائے۔ تو اب صورتحال یہ تھی کہ امریکن پبلک اے سی کرنٹ سے جانوروں اور انسانوں کے مرنے کا دردناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ پھر ان کا ہردلعزیز سائنسدان ایڈیسن بھی اے سی کرنٹ کی مخالفت کر رہا تھا۔

چنانچہ پراپیگنڈہ کام کرنے لگا،اور اس نے پبلک اوپینئن میں آگ لگا دی اور لوگ اے سی کرنٹ کے خلاف ہونے لگے۔ اس دوران ایک اور حادثے نے بھی اے سی کرنٹ اور ٹیسلا کی ساکھ کو اور اس کے بزنس کونقصان پہنچایا۔ ہوا یہ کہ اٹھارہ سو اکانوے میں نیویارک میں ایک لائن مین اے سی کرنٹ کے کھمبے پر کرنٹ لگنے سے مر گیا۔ اس واقعے کے بعد نیویارک شہر کی انتظامیہ نے حکم دیا کہ اے سی کرنٹ کی تاروں کو زیرزمین زمین کے نیچے انڈرگراؤنڈ وائرنگ کر کے بچھایا جائے۔کھمبے ختم کر دیئے جائیں۔ اور ساری وائرینگ اور تاریں زمین کے نیچے بچھائی جائیں اب ایڈیسن کے ڈی سی کرنٹ کی وائرنگ تو پہلے ہی انڈر گراؤنڈ تھی،

مگر ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کو اپنی پہلے سے بچھائی ہوئی تاروں کو کھمبوں سے اتار کر زمین کے نیچے بچھانا پڑا جس سے کمپنی پر اضافی مالی بوجھ پڑا اور انھیں بجلی کی قیمت بھی تھوڑی بہت بڑھانا پڑی۔ وار آف دا کرنٹس میں ٹیسلا کو شکست ہو رہی تھی۔ عام لوگ اے سی کرنٹ سے ڈرنے لگے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ اے سی کرنٹ مارکیٹ سے غائب ہو جائے گا۔ لیکن قدرت نے ٹیسلا کو ایک موقع اور دیا۔

اٹھارہ سو ترانوے میں شکاگو میں ورلڈ کولمبین ایگزیبیشن ہو رہی تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے شریک ہونا تھا۔ اس نمائش میں نئی مشینوں کی نمائش ہونا تھی اور بزنس کمیونٹی نے بھی بڑی تعداد میں یہاں آنا تھا۔

یہ دنیا کی پہلی عالمی نمائش تھی جسے بجلی سے روشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کے لیے نمائش کی جگہ پر ایک لاکھ سے زیادہ بلب روشن کیے جانا تھے۔ اب یہ بہت بڑا ٹھیکا تھا۔ اس کے لیے ایڈسن اور ٹیسلا کی کمپنیز نے بھی بولیاں دی ہوئی تھی۔ اب یہ صرف ٹھیکے ہی کی لڑائی نہیں رہی تھی اس بات کی بھی جنگ تھی اس بات کا بھی فیصلہ ہونا تھا کہ کون سا کرنٹ باقی رہے گا،

ٹیسلا کا اے سی یا ایڈیسن کا ڈی سی۔

تو دوستو اس نمائش کیلئے ٹیسلا کی کمپنی ویسٹنگ ہاؤس نے پانچ لاکھ اور ایڈیسن کی پارٹنر کمپنی جنرل الیکٹرک نے دس لاکھ کی بولی دی۔ نمائش کے منتظیمین نے تمام پروپیگنڈے کے باوجود ٹیسلا کے اے سی کرنٹ کو یہ ٹھیکا ایوارڈ کر دیا۔ بس ایک بات تھی جو ایڈیسن ہی کے پروپیگنڈا سے پھیلی تھی کہ اس کرنٹ سے لوگ مر جائیں گے۔ اسے تاثر کو رد کرنے کے لیے ٹیسلا نمائش میں پہنچا اور اس نے بہت سے لوگوں کے سامنے بجلی کے ایک ٹرمینل پر ہاتھ رکھا اور کرنٹ اس کے جسم میں داخل ہو گیا۔ اس کا جسم کسی بلب کی طرح ہی چمکنے لگا۔ مگر کرنٹ نے ٹیسلا کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، کیونکہ وہ کارک کے تلوے والے جوتے پہنے ہوئے تھا۔ یعنی وہ دکھا رہا تھا کہ تھوڑی سی احتیاط کی جائے تو یہی کرنٹ دنیا کا مستتقبل ہے۔ اور محفوظ ہے

لیکن دوستو یہاں یہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہیے کہ ہو سکتا ہے کہ ایڈیسن صرف ٹیسلا کی مخالفت ہی میں یہ سب کچھ نہ کر رہا ہو بلکہ پورے خلوص سے یہی سمجھتا ہو کہ اے سی کرنٹ واقعی انسانی جان کے لیے زیادہ خطرناک ہے ڈی سی کی نسبت۔ اس لیے اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ آج بھی ہمارا عام مشاہدہ ہے کہ ذرا سی بے احتیاطی سے اے سی کرنٹ لوگوں کو جلا دیتا ہے یا ان کی جان لے لیتا ہے۔ تو بہرحال اٹھارہ سو ترانوے تک ٹیسلا نے اپنے پہلے باس ایڈیسن کو تاریخی وار آف دا کرنٹس میں چاروں شانے چت کر دیا تھا۔

لیکن اس کے بعد کی کہانی تھوڑی مختلف ہے۔ ٹیسلا جسے اب اربوں پتی ہو جانا چاہیے تھا، کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا؟

کیوں؟

ریموٹ کنٹرول، فلائنگ کارز، ریڈیو اور وائرلیس ٹکنالوجی ڈیزائن کرنے والا سائنس دان ناکام کیوں ہوا؟

آخر دنیا کی دو بڑی طاقتیں اس کے لکھے کاغذات پر کیوں لڑ رہی تھیں؟

نکولا ٹیسلا گمنامی میں کیوں چلا گیا اور آج اسے ایڈیسن سے بڑا انسان اور اس سے بڑا سائنسدان کیوں مانا جاتا ہے؟

No comments:

Post a Comment