Thursday, February 3, 2022

Who was Genghis Khan?( PART 1)

                                  چنگیز خان حصہ (اول)                           
Who was Genghis Khan?( PART 1)

 
           
چنگیز خان کا اصل نام تموجن تھا 

والد کا نام یسوگنی تھا 

 دریائے انان  کے کنارے  میدانوں میں کبھی ایک قبیلہ بستا تھا۔ اس قبیلے کا نام تھا بورجیگن اور اس کا سردار تھا یسوگئی تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال پہلے کی بات ہے کہ اس قبیلے کی تاتاری قبائل سے جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں ایک اہم تاتاری جنگجو تموجن گرفتار ہو گیا۔ زنجیروں میں جکڑا تموجن بورجیگن قبیلے کے سردار کے سامنے پڑا تھا۔ ایسے میں یسوگئی کو اطلاع ملی کہ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔

یسوگئی نے اسی قیدی کے نام پر اپنے بیٹے کا نام تموجن رکھ دیا۔ تموجن جب پیدا ہوا تو اس کے ہاتھ میں خون کا ایک لوتھڑا تھا۔ لیجنڈ ہے قبیلے کے بڑوں نے یہی جان کر کہا دیا کہ ایک دن آئے گا یہ لڑکا عظیم فاتح بنے گا اور تاریخ نے ثابت بھی یہی کیا۔

Who was Genghis Khan?

 
یہ کہانی ہے اسی بچے تموجن کی جسے آج دنیا چنگیز خان کے نام سے جانتی ہے۔۔۔ یہ دریائے اونان ہے ۔۔۔ یہ منگولیا سے بہتا ہوا روس میں داخل ہو جاتا ہے۔ آٹھ سو اٹھارہ کلومیٹر طویل اس دریا کے دونوں طرف گھاس کے وسیع و عریض میدان اور سر سبز پہاڑیاں ہیں۔ صدیوں پہلے اسی دریائے کے کناروں پر یہیں کہیں منگول قبائل بستے تھے۔ قدیم منگولوں کا خیال تھا کہ سب منگول اسی دریا کے کنارے رہنے والے ایک بھیڑیئے کی اولادیں ہیں۔ ساڑھے آٹھ سو برس پہلے کی بات ہے اسی دریائے اونان کے کنارے، ایک منگول گھڑ سوار اپنے شکرے، فیلکن کے ساتھ شکار کھیل رہا تھا۔

یہ بورجیگن قبیلے کا سردار یسوگئی تھا۔ شکار کے دوران اچانک اس کی نظر ایک چھکڑے پر پڑی۔ چھکڑے کو ایک اور منگول قبیلے مرکد کا ایک شخص لیے جا رہا تھا۔ یسوگئی چھکڑے کے قریب ہوا، تو اس نے دیکھا کہ چھکڑے میں ایک سولہ سالہ لڑکی بیٹھی ہے۔ اس کے دل کو یہ لڑکی ایسی بھائی کہ وہ اس سے شادی کرنے کے لیے بیقرار ہو گیا۔یسوگئی نے اپنے دو بھائیوں کے ساتھ اس شخص پر دھاوا بول دیا۔ مرکد قبیلے کا شخص مقابلے کی سکت نہیں رکھتا تھا سو اس لڑکی کو جو کہ اس کی بیوی تھی، وہی چھوڑا اور بھاگ نکلا۔ یہ لڑکی جو اب یسوگئی کے قبضے میں آ گئی تھی، دراصل ایک اور قبیلے اولخوند سے تعلق رکھتی تھی اور اس کا نام ہوئلن تھا۔ یسوگئی نے اپنی خواہش کے مطابق اس سے شادی کر لی۔

گیارہ سو باسٹھ کی بات ہے کہ اسی یسوگئی کے ہاں ہوئلن کے بطن سے ایک بچے نے جنم لیا۔ جس کا نام تموجن رکھا گیا۔ تموجن کا لفظی مطلب ہے لوہار۔ یہ شمال مشرقی منگولیا کا وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چنگیز خان کی پیدائش یہیں ہوئی تھی۔ جس وقت کی یہ بات ہے اس وقت منگول قبائل بہت پسماندہ ہوا کرتے تھے۔ وہ خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے تھے۔ کبھی اِس چراہ گاہ تو کبھی اُس پہاڑی کے دامن میں رہتے تھے۔ مطلب جہاں کھانا اور چارہ بہتر نصیب ہو جائے وہی ان کا ٹھکانہ ہوتا تھا۔ وہ شکار میں اتنے ماہر تھے کہ گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے تیر چلا کر اپنے دشمن تک کو ڈھیر کر دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ننھا تموجن بھی بچپن ہی میں گھڑسواری اور تیراندازی میں طاق ہو گیا ماہر ہو گیا۔ جب وہ نو برس کا ہوا تو اس کے باپ نے اس کی منگنی اوینگرات قبیلے میں جا کر وہاں کی ایک دس سالہ لڑکی بورتے سے کر دی۔

یسوگئی نے منگنی کے بعد تموجن کے ہونے والے سسر کی درخواست پر اسے انھی کے قبیلے میں چھوڑ دیا اور خود گھر لوٹ گیا۔ لیکن واپس جانے سے پہلے اس نے انھیں ہدایت کی کہ تموجن کا ذرا خیال رکھیے گا، اسے کتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اپنے نوعمر بیٹے کی منگنی کے بعد یسوگئی خوشی خوشی اپنے پڑاؤ کی طرف واپس لوٹ رہا تھا کہ اسے راستے میں شدید پیاس لگی۔ کچھ تلاش کے بعد اسے ایک جگہ کچھ منگول دعوت اڑاتے نظر آئے۔

Who was Genghis Khan?

یہ تاتاری قبیلے کے لوگ تھے جن سے یسوگئی کی دشمنی چل رہی تھی۔ لیکن اس نے سوچا یہاں کون مجھے پہچانے گا۔ چند گھونٹ پانی اور پیٹ بھر کھانا کھا کر نکل جاؤں گا۔ چنانچہ وہ ان لوگوں کی دعوت میں شامل ہو گیا۔ منگولوں میں اجنبیوں کو بھی اپنی دعوتوں میں شریک کرنے کا رواج تھا۔ لیکن یہ یسوگئی کی خام خیالی تھی کہ اسے کوئی نہیں پہچانے گا۔ دعوت میں ایک آنکھ نے اسے دیکھا اور پہچان لیا اور چپکے سے یہ راز کچھ اور لوگوں کو بھی بتا دیا۔

اب اسے حملہ کر کے مارنے کے بجائے انھوں نے محفوظ داؤ کھیلا اور اس کے کھانے میں زہر ملا دیا۔ یسوگئی اپنی طرف سے پرلطف دعوت اڑا کر وہاں سے نکل گیا۔ مگر راستے میں اس کی حالت بگڑنے لگی اور وہ بات سمجھ گیا۔ زہر اپنا اثر دکھانے لگا تھا۔ پھر بھی وہ کسی طرح گھر پہنچ گیا۔ زہر کھانے کے تیسرے دن اس نے اپنے خیمے میں آخری سانس لیا۔ لیکن مرنے سے پہلے اپنے لوگوں کو بتا دیا کہ اس کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہےاور کہاں پیش آیا ہے۔ یسوگئی کی موت کے ساتھ ہی قبیلے کی سرداری کا مسئلہ بھی کھڑ اہو گیا۔ اس کا چھوٹا سا خانہ بدوش قبیلہ تھا۔ مگر روایات کا اسیر تھا۔ وہ صرف اسی کو سردار مانتے تھے جو اپنی طاقت اور صلاحیت سے خود کو سردار منوا بھی لے۔

سو اس کے قبیلے کے لوگ یسوگئی کی بیوی اور چھوٹے بچوں میں سے کسی کی سردار ماننے پر تیار نہیں تھے۔ بلکہ وہ جلد ہی انہیں چھوڑ کر جانا شرع ہو گئے۔ اس وقت تک تموجن بھی اپنے سسر کے گھر سے واپس آ چکا تھا۔ اس نے اور اس کی ماں نے قبیلے والوں کو روکنے کی کوشش کی، مگر چند وفاداروں کے سوا وہ کسی کو نہ روک سکے۔ پیچھے بچ جانے والے چند لوگ اب دریا کے کنارے کنارے رہنے لگے اور وہیں سے کچھ کھا پی کر یا پرندوں کا شکار کھیل کر دن گزارنے لگے۔ وہ لکڑی اور نوکیلی ہڈیوں سے تیر بناتے اور چوہوں اور کتوں کی کھالوں سے بنے کپڑے پہنتے تھے۔

تموجن کے خاندان کے لیے یہ بہت مشکل وقت تھا۔ اور انھی مشکلات نے تموجن کو سخت جان بنا دیا اور ساتھ میں پتھر دل بھی۔ خوراک کے حصول اور خطروں سے کھیلنے کے دوران وہ اتنا بے رحم ہو گیا تھا کہ ایک دن اپنے سوتیلے بھائی بیکتر سے الجھ پڑا۔ حالانکہ بات صرف اتنی تھی کہ اس کے بھائی نے اس کا شکار کیا ہوا پرندہ اٹھا لیا تھا۔ وہ اتنا سنگ دل ہو چکا تھا جب اسی بھائی نے دوسری بار اس کی مچھلی اٹھائی تو تموجن نے اسے تیر مار کر ہلاک کر دیا۔

تموجن اپنے سگے پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس کے دو سوتیلے بھائی بھی تھے جن میں سے ایک کو تو وہ پہلے ہی قتل کر چکا تھا۔ سو تموجن نوجوانی میں ہی عملاً اپنے خاندان کا سربراہ بن گیا تھا۔ اس کی صلاحیتیں اور لڑائی کے جوہر آتے جاتے لوگ دیکھ رہے تھے۔ اور یہی آتے جاتے لوگ اس کے بچھڑے ہوئے قبیلے والوں سے ملتے تو بتاتے کہ یسوگئی کا بیٹا تموجن بہت پر پرزرے نکال رہا ہے اور وہ خاصے کی چیز بن رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی وقت وہ سرداری واپس لینے کی کوشش بھی کرے۔

شاید یہی خدشہ تھا کہ ایک روز اسی کے قبیلے کے کچھ لوگوں نے تموجن کے عارضی سے کیمپ پر حملہ کر دیا۔ لیکن تموجن اور اس کے ساتھی بالکل بے خبر نہیں تھے۔ انھوں نے کیمپ کے گرد ایک مضبوط باڑ نما دیوار سی بنا رکھی تھی۔ اسی باڑ کے پیچھے پوزیشن لے کر انھوں نے کچھ دیر حملہ آووروں کو روکے رکھا۔ حملہ آور بھی کوئی بہت زیادہ تعداد میں نہیں تھے۔ سو انھوں نے لمبے مقابلے کے بجائے مطالبہ کیا کہ اگر صرف تموجن کو ان کے حوالے کر دیا جائے تو وہ باقی لوگوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔ لیکن کیمپ میں سے کسی ایک نے بھی اس مطالبے کو نہیں مانا۔ لیکن اس بات چیت کے دوران تموجن کو فرار ہونے کا موقع مل گیا۔ وہ ایک گھوڑے پر سوار ہو کر کیمپ کے پیچھے سے نکل کر جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔ حملہ آوروں نے اسے بھاگتے دیکھا تو اس کے کیمپ کا محاصرہ ختم کر کے اس کے پیچھے لپکے۔

اب تموجن آگے اور دشمن پیچھے پیچھے تھے اس کی جان کو سخت خطرہ تھا لیکن وہ پھر بھی کسی طرح ان سے بچ کر گھنے جنگل میں پہنچ کر چھپ گیا۔ اس کے دشمنوں نے جنگل کے اس حصے کو گھیر لیا اور انتظار کرنے لگے کہ تموجن کب بھوک پیاس سے نڈھال ہو کر باہر نکلے اور وہ اسے پکڑ لیں۔ دا سیکرٹ ہسٹری آف منگولز کے مطابق تموجن نے بغیر کچھ کھائے پیے پہلے تین دن اور تین راتیں اسی جنگل میں گزار دیں۔ چوتھے روز اس نے باہر نکلنے کا سوچا۔ لیکن جب وہ نکلنے لگا تو گھوڑے کی زین گر گئی۔

اس نے اسے غیبی اشارہ سمجھا کہ اسے ابھی جنگل سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ سو وہ پلٹا اور وہیں چھپ گیا۔ وہ اگلے تین دن بھی وہیں دبک کر بیٹھا رہا۔ وہاں کچھ بھی ایسا نہ تھا جو ایک انسان رغبت سے کھا سکے۔ نہیں معلوم وہ وہاں کیسے پیٹ بھرتا رہا، پتے کھاتا رہا، درختوں کی چھال چباتا رہا یا شاید کچھ اور ۔۔۔ جو بھی تھا اِس دوران اُس نے زندگی کی ڈور ٹوٹنے نہیں دی۔ پھر چوتھے دن وہ باہر نکلا۔ مگر اب کی بار پھر یہ ہوا کہ گھنے جنگل سے نکلتے ہوئے اس کے راستے میں ایک سفید چٹان گر گئی۔ تموجن پھر اسے غیبی اشارہ سمجھا اور واپس چلا گیا۔ اس نے تین دن اور جنگل میں چھپ کر ہی گزار دئیے۔ لیکن اب بھوک اور پیاس اس کے بس سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ ہر قیمت پر جنگل سے نکل جانا چاہتا تھا۔ ویسے بھی اسے خیال تھا کہ اب تک اس کے دشمن محاصرہ چھوڑ کر جا چکے ہوں گے۔ چنانچہ اس نے اپنا چاقو نکالا اور جس جگہ چٹان گرنے سے راستہ بند ہوا تھا اس کے اردگرد کی جھاڑیاں کاٹنا شروع کر دی اور اس طرح ایک راستہ بنتا گیا۔ کچھ دیر میں راستہ بن گیا اور وہ جنگل سے باہر نکلا۔ مگر یہ کیا؟ اس کے دشمن کہیں نہیں گئے تھے، باہر کھڑے اسی کا انتظار کر رہے تھے۔

انہوں نے تموجن کو قیدی بنا لیا اور ساتھ لے گئے۔ اب تموجن کی زندگی اور موت انھی کے ہاتھ میں تھی۔ لیکن جلد ہی انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ تموجن کو فی الحال قید ہی میں رکھیں گے قتل نہیں کریں گے۔ دشمنوں نے اس کے گلے میں لکڑی کا ایک شکنجا کس دیا تاکہ وہ آسانی سے بھاگ نہ سکے۔ پھر اسی خوشی میں ایک جشن منعقد کیا گیا۔ اس میں بھی تموجن شریک تھا، مگر ظاہر ہے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کی زنجیر ایک نوعمر لڑکے کے ہاتھ میں تھی۔ تموجن کے اردگرد قبیلے والے ناچ رہے تھے، گا رہے تھے اور فتح کی خوشیاں منا رہے تھے۔ لیکن پھر جلد ہی قبیلے کے لوگ مدہوشی میں ادھر ادھر بکھرنے لگے۔ بکھرتے لوگوں میں تموجن موقع تلاش کرنے لگا۔ اور موقع پا کر اس نے اپنا گردن میں پڑا بھاری شکنجا زور سے گھمایا جو زنجیر پکڑنے والے لڑکے کے سر پر لگا۔ لڑکا چوٹ کھا کر زمین پر گرا، اس کے ہاتھ سے زنجیر چھوٹی اور تموجن بھاگ نکلا۔ زخمی لڑکے نے شور مچا دیا لیکن جشن مناتے لوگوں کو صورتحال سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ لیکن جیسے ہی انہیں صورتحال کا ادراک ہوا وہ تیزی سے حرکت میں آئے اور اردگرد کے جنگل اور ندی نالوں کو ناپنے لگے۔

رات چاندنی تھی، دور دور تک ہر چیز صاف دکھائی دے رہی تھی۔ پھر تموجن کی گردن میں جو شکنجہ پڑا تھا وہ بھی بہت بھاری تھا۔ تموجن کا بچ نکلنا بظاہر ناممکن تھا۔ قبیلے والوں کو یقین تھا کہ وہ بھاگ کر زیادہ دور نہیں جا سکتا۔ وہ اسے جلد ہی ڈھونڈ نکالیں گے لیکن چپہ چپہ چھان مارنے کے باوجود انھیں تموجن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ آخر تموجن کہاں غائب ہو گیا تھا؟ دراصل ہوا یہ تھا کہ تموجن نے بہت ہوشیاری دکھائی تھی۔ وہ اس کیمپ سے زیادہ دور گیا ہی نہیں تھا۔

وہ قریب ہی ایک ایسی ندی میں لیٹ گیا تھا جس میں پانی بہت کم تھا۔ وہ مناسب موقع کی تاڑ میں تھا، لیکن پھر یہ ہوا کہ اسے ایک شخص نے ندی میں چھپے ہوئے دیکھ لیا۔ یہ دن تموجن کا آخری دن بھی ہو سکتا تھا، لیکن ہوا یہ کہ یہ شخص تموجن کا خفیہ ہمدرد نکلا۔ اس نے خبر عام کرنے کے بجائے تموجن کو چپکے سے اپنے بھائیوں اور ماں کے پاس چلے جانے کا مشورہ دیا اور خود خاموش رہنے کا وعدہ کیا۔ یہ مشورہ دے کر وہ خاموشی سے کسی کو بتائے بغیر اپنے خیمے میں لوٹ آیا۔ لیکن پھر رات میں کسی پہر اس کے خیمے میں کوئی داخل ہوا۔ یہ تموجن ہی تھا اور اسے ایک بار پھر اپنے خفیہ ہمدرد کی مدد چاہیے تھی۔ کیونکہ وہ گردن میں پڑے بھاری شکنجے کے ساتھ آسانی سے حرکت نہیں کر سکتا بھاگ نہیں سکتا تھا۔

وہ شخص ایک بار پھر کام آیا۔ اس نے اور اس کے بیٹوں نے تموجن کا شکنجہ اتارا کر جلا دیا۔ لیکن اسی دوران تموجن کو تلاش کرنے والے بھی ایک ایک جگہ کو دیکھتے ہوئے اسی طرف آ رہے تھے۔ سو ہمدرد کے گھر والوں نے تموجن کو اپنے خیمے کے پیچھے کھڑے ایک چھکڑے میں چھپا کر اس پر اون کا ڈھیر لگا دیا۔ ڈھونڈنے والے اس اون کے ڈھیر تک بھی آن پہنچے۔ انھوں نے چھکڑے سے اون ہٹانا شروع کر دی تاکہ دیکھ سکیں کہ کہیں وہ اس میں چھپا ہوا تو نہیں ہے۔ قریب تھا کہ وہ لوگ تموجن کو ڈھونڈ نکالتے۔

لیکن ایسے میں اس کے ہمدرد میزبان کی ہوشیاری کام آ گئی۔ اس نے دیکھا کہ تلاشی لینے والے پسینے میں شرابور ہو رہے ہیں۔ اس نے سپاہیوں سے کہا کہ اتنی شدید گرمی میں جب اون کے پاس کھڑے رہنا تک مشکل ہے ایسے میں اس کے اندر کوئی چھپا ہو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سپاہی شاید پہلے ہی ڈھونڈ ڈھونڈ کر اکتائے ہوئے تھے۔ یہ جملہ ان کے لیے بہانہ بن گیا اور وہ تلاش چھوڑ کر ’’بالکل۔۔ بالکل ‘‘ کہتے ہوئے جہاں سے آئے تھے اسی طرف لوٹ گئے۔

تموجن ایک بار پھر بال بال بچا تھا۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد اس شخص نے تموجن کو چھکڑے سے نکالا۔ اسے سفر کیلئے ایک گھوڑی دی، ساتھ میں کھانے کیلئے گوشت، ایک کمان اور دو تیر بھی دیئے۔ ایک لمبا چکر کاٹتے ہوئے تموجن جب اس جگہ پہنچا جہاں اس کے بھائیوں اور وفاداروں نے آخری بار اسے بھاگنے میں مدد کی تھی، جہاں کبھی اس کا کیمپ تھا۔ لیکن وہاں تو اب کچھ بھی نہیں تھا، اس کے گھروالے مزید حملے کے خوف سے وہ جگہ چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے تھے۔

لیکن تموجن باقی منگولوں کی طرح ایک ماہر کھوجی بھی تھا۔ اس نے راستے میں گھوڑوں کے ٹاپوں کے نشانات اور دوسری چیزوں سے اندازہ لگا لیا کہ اس کے ساتھی کس طرف کو گئے ہیں۔ کھوجتا کھوجتا جلد ہی وہ اپنوں سے آن ملا۔ اس کے بعد تموجن اپنے مختصر سے قافلے کو لے کر پہاڑوں کی طرف نکل گیا۔ تا کہ اس کی تلاش میں نکلے ہوئے دشمن اس کی اور اس کے پیاروں کی جان نہ لے سکیں۔ وہ ایک ایسی جگہ پڑاؤ کے لیے ٹھہرے جو کسی قدر محفوظ تو تھی۔ لیکن وہاں انھیں بھوک مٹانے کیلئے بہت مسائل کا سامنا تھا یہاں تک کہ انھیں کئی بار چوہے تک کھانا بڑے۔ کئی دفعہ انھیں ڈاکوؤں کے حملوں کا بھی سامنا ہوا لیکن وہ یہ سب جھیلتے رہے اور دن گزرتے رہے۔ اور اس سب میں آپ یقیناً بھول گئے ہوں گے کہ تموجن کی ایک منگیتر بھی تھی۔

 تموجن سولہ برس کا ہو چکا تھا۔ اسے اپنی منگیتر کی یاد ستانے لگی۔ سو وہ اپنے ہونے والے سسر کے گھر جا پہنچا۔ یہاں اس نے بورتے سے شادی کی اور تحفے میں سسرالیوں نے اسے سمور کی انتہائی قیمتی پوستین دیا تموجن اپنی دلہن اور قیمتی پوستین کو لے کر اپنے گھر واپس چلا آیا اس نے ایک نئی اور پر امن شروعات کر دیں۔ لیکن اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ اس کی دلہن بورتے اور سمور کی قیمتی پوستین اسے تاریخ میں ایک ناقابل فراموش موڑ کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔

تموجن خانہ بدوشوں کی طرح دریاؤں کے کنارے کنارے زندگی گزار رہا تھا۔ جنگلی جانوروں، مچھلیوں اور پھلوں پر اس کا گزارا تھا۔ پھر ایک دن اسے معلوم ہوا کہ جس جگہ اس کا پڑاؤ ہے اس کے قریب ہی منگولوں کے ایک طاقتور قبیلے کیرائیت کا پڑاؤ بھی ہے۔ کیرائیت قبیلے کا سردار طغرل تھا جو اونگ خان کے نام سے مشہور تھا۔ وہ اور تموجن کا باپ یسوگئی گہرے دوست رہ چکے تھے۔ چنانچہ تموجن نے اونگ خان سے ملنے کا فیصلہ کر لیا۔ چلتے ہوئے تموجن نے سسرال سے ملی سمور کی پوستین بھی ساتھ رکھ لی۔ اونگ خان کے پاس پہنچ کر اس نے پوستین کا تحفہ پیش کیا اور اپنے باپ کی پرانی دوستی یاد کروائی۔ پرانے دوست کے بیٹے کو مل کر اونگ خان تموجن کا اتحادی بن گیا۔ وہ پوستین کے تحفے سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے تموجن سے کہا ’’میں اس کے بدلے میں تمہارے بکھرے ہوئے قبیلے کو واپس تمہاری سرداری میں لاؤں گا۔‘‘

تموجن، اونگ خان کے کیمپ سے واپس چلا آیا۔ وہ بہت خوش تھا اور اسے یقین تھا کہ جلد ہی اسے اپنے قبیلے کی سرداری بھی مل جائے گی اور اسے دربدر بھٹکنا نہیں پڑے گا۔ لیکن واپسی کے چند روز بعد ہی اس کے ساتھ ایک خوفناک واقعہ پیش آ گیا جو اس کی انا کیلئے بہت بڑا جھٹکا تھا۔

ایک صبح ابھی سورج نکل رہا تھا۔ تموجن اور اس کے گھر والے پوری طرح بیدار نہیں ہوئے تھے کہ زمین بے شمار گھوڑوں کے ٹاپوں سے دہلنے لگی۔ تموجن پر اس کے باپ کے ایک دشمن قبیلے مرکد نے حملہ کر دیا تھا۔ یہ وہی قبیلہ تھا جس کے ایک شخص کی سابقہ بیوی ہولن کو تموجن کا باپ یسوگئی راستے سے چھین کر اپنے قبیلے میں لے آیا تھا۔ اس حملے کو دیکھتے ہوئے تموجن سمجھ گیا تھا کہ اب یہ بدلہ لینے کے لیے آ رہے ہیں۔ سو تموجن نے فوری طور پر اپنی بیوی بورتے کو ایک بیل گاڑی میں چھپا دیا۔ پھر اپنے بوڑھے ملازم کو کہا کہ اسے جتنا دور ہو سکے لے جاؤ۔ بیوی کو ایک طرف بھیج کر تموجن اپنے بھائیوں اور ماں کے ساتھ دوسری طرف نکل گیا۔ تاکہ حملہ آور اس کے پیچھے جائیں اور اس کی بیوی کو نہ پکڑ سکیں۔ لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ اس کی بیوی والی بیل گاڑی پکڑی گئی اور تموجن بحفاظت پہاڑوں میں پہنچ گیا۔ مرکد قبیلے نے اپنا پرانا حساب چکا لیا تھا۔

تموجن کی بیوی ان کے قبضے میں تھی جیسے کبھی ان کی لڑکی ہوئلن، تموجن کے باپ یسوگئی کے قبضے میں تھی۔ جب تموجن کو خبر ہوئی کہ اس کی بیوی اغوا کر لی گئی ہے تو وہ غصے میں کھولتا ہوا کرائیت قبیلے کے سردار اونگ خان کے پاس پہنچا۔ اس نے اپنی بیوی کو واپس لانے کیلئے اس سے مدد مانگی۔

اونگ خان نے اپنے وعدے اور تعلق کی خوب لاج رکھی۔ اس نے کرائیت قبیلے کے بیس ہزار سپاہی تموجن کے ساتھ بھیج دیئے۔ اسی دوران اس کا بچپن کا دوست جموکا بھی بیس ہزار جنگجو لے کر اس کی مدد کو آن پہنچا۔ یہ بڑا لشکر اپنے ساتھ دیکھ کر تموجن کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے۔ وہ مرکد قبیلے کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے اسے تلاش کرتا ہوا جنگلوں اور میدانوں کو ماپنے لگا۔ لیکن ظاہر ہے وہ قبیلہ بھی ایک خانہ بدوش ہی تھا۔ کوئی ایک ٹھکانہ تو اس کا تھا نہیں۔

سو یہ لشکر بھی مرکد قبیلے کا تعاقب کرتا ہوا چار سو کلومیٹر دور سائیبیریا تک پہنچ گیا۔ یہاں تک کہ ایک ایسی جھیل آ گئی جو دنیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ہے۔ روس میں واقع یہ جھیل دنیا کی سب سے گہری جھیل بھی ہے۔ شاید یہ بات اس وقت کےلوگوں کے علم میں نہ ہو لیکن اسی انمول جھیل کے کنارے پر تموجن نے مرکد قبیلے کو دیکھ لیا۔

اس نے رات کے وقت اچانک حملہ کیا۔ بہت سے لوگ تو اتنا بڑا لشکر دیکھ کر ہی بھاگ نکلے۔ جو باقی بچے وہ مقابلہ کرنے لگے۔تلواروں، انسانی چیخوں اور گھوڑوں کا ایک شور قیامت برپا تھا۔ اور اسی ہنگامے کے بیچ میں تموجن دیوانہ وار آوازیں دے رہا تھا۔۔۔ بورتے۔۔۔ بورتے۔۔۔ بورتے۔ لیکن ستم ظریفی تو دیکھئے کہ بورتے کو علم ہی نہیں تھا کہ حملہ کرنے والے اس کے اپنے قبیلے کے لوگ ہیں اور تموجن ان کے ساتھ ہے۔ اس لیے وہ بھی باقی لوگوں کے ساتھ ایک چھکڑے پر سوار بھاگ رہی تھی۔ لیکن پھر جب اس کے کانوں میں تموجن کی آواز پڑی تو وہ پہچان گئی۔ وہ چھکڑے سے اتری اور اپنے محبوب شوہر کی طرف بھاگی۔

Who was Genghis Khan?  چنگیز خان

تموجن نے اسے گھوڑے پر بٹھا لیا اور دونوں پھر سے ایک ہو گئے اور بورتے مرتے دم تک تموجن کے ساتھ رہی۔ اس کے بعد مرکد قبیلے کی وہ شامت آئی کہ جو بھاگ سکے وہ بھاگ گئے، لیکن جو موجود رہے ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچ سکا۔ بورتے تموجن کے پاس پہنچ چکی تھی لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا۔ آٹھ ماہ کی قید کے دوران وہ امید سے بھی ہو گئی تھی۔ واپسی کے کچھ ہفتوں بعد اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔

اس بیٹے کا نام جوچی خان رکھا گیا۔ تموجن کے گھروالوں نے تو جوچی کو مرکد قبیلے کی اولاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔لیکن تموجن نے بورتے کی محبت میں اس بچے کو بھی اپنا لیا اور اسے کبھی سوتیلے پن کا احساس نہیں دلایا۔ یہ وہ وقت تھا جب تموجن تاریخ میں نام پیدا کرنے جا رہا تھا۔ پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اسے تموجن سے چنگیز خان بنا دیا۔

اسے چنگیز خان کا خطاب کیسے ملا تھا؟

چنگیز خان نے اپنے قریبی دوست سے پہلی بڑی جنگ کیوں کی؟

چنگیز خان نے پوری دنیا فتح کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

یہ سب جاننے کےلیے چنگیز خان حصہ دوم جلد اپ کئ خدمت میں پیش کیا جائے گا 

No comments:

Post a Comment