Saturday, February 5, 2022

Who is Genghis Khan? Part 2

چنگیز خان (حصہ دوم)

Who is Genghis Khan part 2




تموجن کا جگری دوست، بلڈ برادر جموکا اس کے سامنے گرفتار کر کے لایا گیا۔ تموجن نے اسے دوبارہ دوست بن جانے کی پیش کش کی لیکن جموکا نے اسے جو جواب دیا وہ تموجن کے لیے ایک سرپرائز تھا۔ یہ جواب کیا تھا؟ 

تموجن ایک معمولی سے سردار سے چنگیز خان کیسے بنا؟ اور یہ کٹھن سفر بہت سی بے وفائیوں اور ان گنت خون کے دھبوں سے سرخ ہے۔لیکن یہ سفر ہے کیا؟ تموجن کے بچپن میں ایک دوسرا منگول قبیلہ ’’جیدارد‘‘ یا ’’جاڈیراڈ‘‘ہر موسمِ سرما میں تموجن کے قریب آ کر کیمپ لگایا کرتا تھا۔ یہ لوگ تموجن کی طرح شکاری نہیں تھے، بلکہ یہ بھیڑ بکریاں چرانے والے پُرامن خانہ بدوش تھے۔ ان کے تموجن کے قبیلے سے اچھے مراسم تھے۔

وہ ایک دوسرے پر حملے بھی نہیں کرتے تھے۔ اسی قبیلے کے ایک بچے ’جموکا‘ سے تموجن کی گہری دوستی ہو گئی۔ اتنی گہری دوستی کہ دونوں اکٹھے شکار کھیلتے، ایک برتن میں کھانا کھاتے یہاں تک کہ دا سیکرٹ ہسٹری آف دا منگولز، جو چنگیز خان کے بارے میں لکھی گئی سب سے پرانی کتاب ہے۔ اس میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ تموجن اور جموکا ایک ہی بستر میں سوتے تھے۔ یہاں تک کہ بارہ برس کی عمر میں دونوں ایک دوسرے کا خون بھی پی چکے تھے۔ منگولوں میں روایت تھی کہ جب کوئی دو افراد گہرے دوست بنتے، وفاداری کا حلف لیتے تو علامتی طور پر ایک دوسرے کو تحفہ دیتے تھے۔ 

اس دوران وہ ایک دوسرے کے خون کے چند قطرے بھی پیتے تھے۔ اس رسم کو منگول ’اینڈا‘ کہتے تھے، انگلش میں آپ اسے بلڈ برادرز کہہ سکتے ہیں۔ تو ایک دن جموکا نے شکار کے بعد بچھڑے کے سینگ اکھاڑ لیے۔ ان میں سوراخ کر کے ہار بنایا اور تموجن کو تحفتاً پیش کر دیا۔ تموجن نے بھی جواب میں ایک تیر کا تحفہ جموکا کو دیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خون کے چند قطرے بھی پیئے۔ اب وہ دونوں روایتی طور پر یک جان دو قالب بن چکے تھے۔ اب وہ ایک دوسرے کے لیے جان بھی دے سکتے تھے اور لے بھی سکتے تھے۔ کیونکہ یہ تحفے اور یہ رسم غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔ لیکن ظاہر ہے تھے تو وہ خانہ بدوش ہی ناں۔ کبھی اس ندی کے کنارے تو کبھی اُس پہاڑ کے دامن میں۔ تو بچپن کے چند برس ساتھ گزارنے کے بعد دونوں دوست بچھڑ گئے۔ بچھڑ تو وہ گئے لیکن بھولے نہیں۔ وہ آتے جاتے قافلوں سے ایک دوسرے کی خیر خبر لیتے رہتے تھے۔ اسی لیے جب تموجن کی بیوی بورتے اغوا ہوئی تو اسے چھڑوانے کے لیے جو بیس ہزار کا ایک مددگار لشکر آیا تھا وہ جموکا ہی کا تو تھا۔ اور یہ کہانی ہم آپ کو پچھلی قسط چنگیز خان حصہ اول میں پڑھ چکے ہیں۔ تو بورتے کی واپسی کے بعد سے جموکا اور تموجن ایک ہی کیمپ میں رہنے لگے تھے۔ اس وقت تک جموکا اپنے قبیلے کا سردار بھی بن چکا تھا۔ اور تموجن بھی اپنے گرد بہت سے وفادار جمع کر چکا تھا جن کا کہ وہ اب سردار ہی تھا۔

اب یہ ہوا کہ دونوں دوستوں نے ایک بڑی فوج بنانا شروع کر دی۔ انھوں نے خانہ بدوش منگولوں کو اپنے اردگرد اکٹھا کرنا شروع کیا تاکہ ایک بڑی فوج بنائی جا سکے۔ دونوں نے بڑی فوج تو اکٹھی کرنا شروع کر دی تھی لیکن بات یہ تھی کہ یہی تو مسئلہ تھا۔ کہ دونوں ہی پورے منگولیا پر حکومت کرنا چاہتے تھے۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ منگولیا میں کہاوت تھی کہ جیسے دو سورج نہیں ہو سکتے ایسے ہی منگولوں کے دو سردار بھی نہیں ہو سکتے۔ اور اقتدار کی جنگ میں تو خون کے رشتے پھیکے پڑ جاتے ہیں پھر یہ بلڈ برادرز یا اینڈا کی رسم کے نتیجے میں بنے ہوئے بھائی تھے۔ سو دونوں میں مکمل اقتدار کے لیے رسہ کشی شروع ہو گئی۔ یہ رسہ کشی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کی شکل میں ظاہر بھی ہونے لگی تھی۔ جموکا نے تموجن سے شکایت کی کہ وہ فوج میں نیچ ذات کے لوگوں کو کمانڈرز کیوں بنا رہا ہے؟ اور اعلیٰ ذات کے لوگوں کو آخر کیوں نظرانداز کر رہا ہے۔ اس کی یہ شکایت دور نہیں ہوئی تو وہ تموجن سے اکھڑا اکھڑا رہنے لگا۔

ایک روز اس نے تموجن سے کہا تم اپنی گائیوں اور بھیڑوں کے ساتھ دریا کے کنارے کیمپ لگا لو۔ جبکہ میں اپنے گھوڑوں کو لے کر گھاس کے میدان میں کیمپ لگانے جا رہا ہوں۔ یہ بات تموجن کی بیوی بورتے نے جب سنی تو اس نے اپنے شوہر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جموکا تمہاری دوستی سے بیزار ہو چکا ہے۔ اس لئے اسے چھوڑ کر آگے بڑھو اور رات کے وقت سفر کرنا ہوشیار رہنا۔ تموجن نے ایسا ہی کیا۔ چنانچہ تموجن اور اس کے ساتھی جموکا اور اس کے خاندان کو پیچھے چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں کیمپ سے نکل گئے۔ انھوں نے جموکا کے کیمپ سے بہت دور پہنچ کر اپنا الگ کیمپ لگا لیا۔ یوں ڈیڑھ برس اکٹھے رہنے کے بعد دونوں دوستوں کے راستے الگ الگ ہو گئے۔

اب دونوں دوست اپنی الگ الگ فوج بنانے لگے۔ اور پھر ایک دن تموجن کو کسی نے اطلاع دی اس کا پرانا قبیلہ، جس کا سردار کبھی اس کا باپ تھا۔ اور جس نے اس پر حملہ بھی کیا تھا اور قیدی بھی بنایا تھا وہ قبیلہ اور اس کے لوگ جموکا سے دوستی کا رشتہ گانٹھ چکے ہے۔ یہ تموجن کے بچپن کے دوست، بلڈ برادر جموکا کی طرف سے دوستی ختم کرنے کا عملاً اعلان تھا۔ بلکہ ایک طرح سے دشمنی کا آغاز تھا۔ سو یوں ہوا کہ دونوں کیمپوں میں ایک الگ الگ تقریب منعقد ہوئی۔

اور منگولیا میں یوں تھا جیسے دو سورج نکل رہے ہوں۔ جموکا کے کیمپ میں ایک تقریب جاری تھی۔ جس میں اس کے بہت سے حامی قبائل جمع تھے۔ انھوں نے جموکا کو گورخان کا خطاب دیا۔ اس کا مطلب تھا منگولوں کا سب سے بڑا سردار۔ یہ خطاب دینے والے تیرہ سے سولہ قبائل تھے۔ لیکن ہوا یہ کہ جموکا کے کچھ حامی کسی وجہ سے اسے چھوڑ کر اس دوران تموجن سے آن ملے تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے تموجن کو بتایا کہ اس نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا ہے۔ اس نے دیکھا ہے کہ زمین اور آسمان ایک ہو گئے ہیں۔ اور ایک ہو کر کہہ رہے ہیں کہ سب سے بڑا خان صرف تِموجن ہی کو ہونا چاہیے۔ سو تموجن کے یمپ میں بھی ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تموجن کو چنگیز خان یعنی پوری کائنات کے سردار کا لقب دیا گیا اور خوب جشن منایا گیا۔ آپ غور کیجئے کہ دونوں منگولوں کے سب سے بڑے سردار بننا چاہتے تھے لیکن کسی نے خاقان کا لقب اختیار نہیں کیا۔ حالانکہ منگولوں میں سب سرداروں کے سردار کو خاقان کہا جاتا تھا۔ ظاہر ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں جانتے تھے کہ جب تک ان میں سے ایک ختم نہیں ہو جاتا یا دوسرے کی اطاعت قبول نہیں کر لیتا، دوسرا کبھی خاقان نہیں کہلا سکتا۔

سو کبھی جو ایک دوسرے کا خون پی کر خون کے رشتے میں بندھے تھے آج ایک دوسرے کا خون بہانے کی تیاری کر رہے تھے۔ سچ ہے طاقت کی جنگ میں اخلاق نام کا کوئی ہتھیار نہیں ہوتا۔ دو بلڈ برادرز میں اقتدار کی جنگ سامنے کھڑی تھی، بس ایک چنگاری جیسے معمولی سے بہانے کی ضرورت تھی۔ اور پھر دیکھئے کہ بہانہ بنا ایک بہت ہی معمولی سا واقعہ ۔۔۔ دا سیکرٹ ہسٹری آف منگولز کے مطابق جموکا کے بھائی تیچار نے چنگیز خان کے ایک دوست کے گھوڑے چرا لئے۔ چنگیز خان کے ساتھی نے چور کا پیچھا کیا اور اسے تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ جب جموکا کو اپنے بھائی کی موت کا علم ہوا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے تیس ہزار کا لشکر تیار کیا اور چنگیز خان پر دھاوا بھول دیا۔ چنگیز خان کے پاس صرف تیرہ ہزار کی فوج تھی۔ مختصر فوج نے جموکا کی بڑی فوج کا خوب مقابلہ کیا لیکن میدان جموکا کے ہاتھ رہا۔ چینگیز خان شکست کھا کر بھاگ نکلا اور ایک گھاٹی میں پناہ لے کر چھپ گیا۔ ایک تو وہ ہار کا زخم چاٹ رہا تھا دوسرا ستم یہ ہوا کہ اسے ایک دردناک خبر اور ملی۔ خبر یہ تھی کہ اس کے ایک اتحادی قبیلے جرکن کے کچھ لوگوں کو جموکا نے پکڑ لیا تھا۔ اور اس خبر میں دردناک یہ تھا کہ ان میں سے ستر لوگوں کو جموکا نے کھولتے ہوئے پانی میں ڈبو کر ہلاک کر دیا تھا۔ جب چنگیز خان کو اس کا علم ہوا تو اس نے ایک قسم کھائی۔

قسم یہ کہ اب وہ خود کو یوں تیار کرے گا کہ اسے کبھی دوبارہ شکست کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس نے ایک بار پھر فوج جمع کرنا شروع کی۔ اس نے اپنے پرانے اتحادی کرائیت قبیلے کے سردار اونگ خان سے رابطہ کیا۔ اونگ خان نے چنگیز کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور ایک بڑی فوج لے کر چنگیز خان کی مدد کو پہنچ گیا۔ جموکا کے خلاف اب ایک بڑا لشکر تیار ہو چکا تھا۔ لیکن جموکا کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے پہلے چنگیز خان تاتاریوں سے دو دو ہاتھ کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ یہ لوگ صدیوں سے ان کے خاندانی دشمن تھے۔ انھوں نے ہی چنگیز خان کے باپ یسوگئی کو قتل کیا تھا اور یہ کہانی ہم آپ کو دکھا چکے ہیں۔ تو چنگیز خان اور اس کے اتحادی اونگ خان نے فیصلہ کن حملہ کر کے تاتاری قبائل اور ان کی طاقت کو تتر بتر کر کے رکھ دیا۔ تو چنگیز خان نے فوج کو حکم دے دیا کہ جس بھی تاتاری مرد کا قد، ہائیٹ، ایک چھکڑے کے پہیے سے اٹھتا ہوا ہے، اس کی گردن اتار دی جائے۔

یہ حملہ اتنا زور دار تھا کہ تاتاریوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ وہ اتنے کمزور ہو گئے کہ لمبے عرصے کے لیے مقابلے کی سکت ہی کھو بیٹھے۔ تاتاریوں کے خلاف مہم کے دوران چنگیز خان اور اونگ خان کو چین کے چن شاہی خاندان کی بھی بھرپور مدد حاصل تھی۔ وجہ یہ تھی چینی حکمران بھی اپنے بارڈر کے قریب رہنے والے تاتاری قبائل سے پریشان رہتے تھے۔ ایسے ہی گروہوں کے حملوں سے بچنے کے لیے وہ دیوار چین چیسی عظیم دیواریں کھڑی کرتے آئے تھے۔ 

اس لیے جب تاتاریوں کو عبرتناک شکست ہوئی تو چینی حکمران بھی بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے اونگ خان کو ’وانگ‘ کا خطاب دیا جس کا مطلب تھا شہزادہ، پرنس۔ لیکن حیرت انگیز طور پر وہ چینگیز خان کی صلاحیتوں کو پہچان نہ سکے۔ انھوں نے اسے صرف کمانڈر کا خطاب دیا۔ اور اس خطاب کی چین میں کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ لیکن وقت کا ستم تو دیکھئے کہ جسے وہ معمولی کمانڈر سمجھ رہے تھے وہ چند برس بعد ان ہی کا بادشاہ بننے والا تھا۔ تاتاریوں کے بعد چنگیز خان پھر جموکا کی طرف متوجہ ہوا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چنگیز خان کے مقابلے میں اس بار جموکا کے ساتھ جادوگر بھی شامل تھے۔ لیجنڈس کے مطابق ان جادوگروں نے جموکا کو یقین دلا دیا تھا کہ وہ جادو سے ایک زبردست طوفان لے آئیں گے اور چنگیز خان کا لشکر اس طوفان میں بہہ جائے گا۔ جنگ شروع ہوئی، جادوگروں نے منتر پھونکنے شروع کیے۔ اور ہاں ایک طوفان بھی آیا لیکن اس کا نشانہ الٹا ہو گیا۔ وہ یوں کہ جادوگری کے تماشے کے دوران ہی کسی وقت اتفاق سے برفباری شروع ہو گئی اور طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ لیکن تموجن کی جگہ جموکا کی فوج اس طوفان میں اپنی ترتیب کھو بیٹھی۔ اس کے مختلف دستے ایک دوسرے سے بچھڑنے لگے اور فوج کی کمان ٹوٹ گئی۔ جب اپنی چالوں کو الٹا لڑتے دیکھا تو جادوگر بھی سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ نکلے۔ وہ بھاگتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ آسمان کو ہم سے محبت نہیں رہی۔ آسمان ہم سے خوش نہیں آسمان ہم سے دور ہو گیا ہے۔ جب طوفان کا زور ٹوٹا تو چنگیز خان بھی جموکا کی بچی کھچی فوج پر آسانی سے ہاتھ صاف کرنے لگا۔ اس بار جموکا میدان سے بھاگ گیا تھا اور چنگیز خان کے قہر سے بچ رہا تھا۔

لیکن چنگیز خان کے ہاتھ اس کے کچھ خاص لوگ آ چکے تھے۔ یہ لوگ چنگیز خان کو ویسے بھی بہت مطلوب تھے۔ کیونکہ یہ وہی لوگ تھے جو دراصل اس کے باپ کی سرداری میں اسی کے قبیلے کے لوگ تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے یسوگئی کی موت کے بعد چنگیز خان اور اس کی ماں کو چھوڑ کر اپنا راستہ لیا تھا۔ چنگیز خان کو یہ لوگ قیدی بھی بنا چکے تھے۔ چنگیز خان نے یہ کیا کہ اس نے اس ایک خاندان کو جس نے اس کی ماں سے اور اس سے سرداری چھینی تھی ان کے بچوں تک کو قتل کروا دیا اور ان کی نسل ختم دی۔ لیکن قبیلے کے دوسرے افراد کو چنگیز خان نے معاف کر کے اپنی سرداری میں دوبارہ قبول کر لیا۔ ویسے بھی ان لوگوں کے پاس دو ہی چوائسز تھیں، چنگیز خان کی بلا چوں چرا اطاعت یا گردن کے بغیر جسم۔ سو گردن کے بغیر جسم سے بہت بہتر تھا کہ وہ اطاعت قبول کر لیں سو انھوں نے کر لی  جنگ تو چنگیز خان جیت گیا تھا لیکن اس جنگ کے دوران ایک بار وہ گردن میں شدید زخم آنے سے مرتے مرتے بچا بھی تھا۔ ہوا یہ تھا جموکا اور اس کے اتحادیوں سے لڑائی کے دوران چنگیز خان کی گردن پر ایک گہرا زخم آ گیا تھا۔

شاید چنگیز خان کی کہانی اسی گردن کے زخم میں بہتے خون کے ساتھ ختم ہو جاتی۔ لیکن یہاں اس کا ایک وفادار جیلمی کام آ گیا۔ جیلمی رات بھر چنگیز خان کے سرہانے بیٹھا رہا اور اس کے زخم میں جمنے والے خون کے لوتھڑے چوس کر نکالتا رہا۔ پھر جب چنگیز خان کو پیاس لگی تو جیلمی اس کیلئے دودھ تلاش کرنے کیلئے بھی نکل گیا۔ اتفاق سے چنگیز خان کے خیمے اور اس کے اردگرد کسی علاقے میں دودھ دستیاب نہیں تھا  لیکن دشمن کا کیمپ بھی چنگیز خان کے کیمپ سے زیادہ دور نہیں تھا۔ جیلمی نے جرات سے کام لیا اور چھپتا چھپاتا دشمن کے کیمپ سے دودھ کا ایک برتن چوری کر کے لے آیا۔ اس سے چنگیز خان کی پیاس بجھی اور رفتہ رفتہ زخم بھی بھر گیا۔ صحت یاب ہونے کے بعد جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں چنگیز خان نے اپنے دشمنوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور انہیں میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

چنگیز خان کو جموکا کے خلاف ایک اہم کامیابی مل چکی تھی۔ اور اس کا پرانا قبیلہ بھی اس کی اطاعت میں آ چکا تھا۔ لیکن اس دوران چنگیز خان کو ایک دھچکا بھی لگا۔ اونگ خان دوست کے بجائے اس کا دشمن ہو گیا تھا۔ اس دشمنی کی وجہ یہ تھی کہ اونگ خان کے بیٹے نے تموجن کے بیٹے جوچی خان کیلئے اپنی بہن کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پھر اس نے اپنے باپ کو بھڑکایا کہ وہ چنگیز خان کو زیادہ اہمیت نہ دے۔ اس کے بعد تموجن کو بہانے سے بلا کر قتل کرنے کی بھی ناکام کوشش کی گئی۔ وہ اپنے باپ سے کہنے لگے تھے کہ چنگیز خان ہمارے سابق اتحادی اور موجودہ مخالف ترک قبیلے نیمان سے دوستی کر رہا ہے۔ اونگ خان اپنے بیٹوں اور جموکا کی باتوں میں آ گیا اور چنگیز خان جیسے طاقتور دوست کو دشمن بنانے کی بہت مہنگی غلطی کر بیٹھا۔ کبھی نہ شکست کھانے کی قسم تو وہ پہلے ہی کھا چکا تھا۔ سو اس نے بجائے اونگ خان کا انتظار کرنے کے خود اس کے کیمپ پر حملہ کر دیا۔ اپنے پرانے اتحادی کے کیمپ کو گھیرے میں لے کر چنگیز خان نے جنگ شروع کر دی۔ تین دن تک دونوں میں خوفناک لڑائی ہوئی۔ تیسرے دن اونگ خان کیمپ چھوڑ کر بھاگ گیا۔ وہ بھاگتا ہوا اپنے سابق اتحادی اور موجودہ مخالف نیمان قبیلے کے علاقے میں پہنچ گیا۔ یہاں ایک پہرے دار نے اونگ خان کو پہچانا نہیں اور چور اچکا سمجھ کر قتل کر دیا۔

 اس قتل کے فوری بعد چنگیز خان اور نیمان قبیلے کے درمیان بھی لڑائی چھڑ گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ دراصل اس کے پیچھے بھی ایک لیجنڈ ہے، ایک داستان ہے۔ کہتے ہیں جب نیمان قبیلے کو علم ہو گیا کہ اونگ خان کو ان کے پہریدار نے قتل کر دیا ہے تو انہیں بہت دکھ ہوا۔ کیونکہ نیمان قبیلہ بھلے اونگ خان کے قبیلے کا مخالف ہو گیا تھا۔ لیکن ماضی کے اچھے تعلقات کی وجہ سے وہ اونگ خان جیسے معزز سردار کی موت نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنی روایات کے مطابق اس کا سر کاٹ کر اپنے کیمپ کے ایک خیمے میں لے آئے۔ یہاں اسے خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے اسے عزت دینے کیلئے ایک بڑی دعوت منعقد کی۔ دعوت میں اونگ خان کا نام لے کر شراب کے جام لنڈھائے گئے۔ لیجنڈ کے مطابق اسی دوران اونگ خان کے کٹے ہوئے سر سے مبینہ طور پر ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں۔ شاید یہ بہت شراب پی جانے کے بعد ان کے وہم کا شاخسانہ تھا۔ لیکن سر کو ہنستا دیکھ کر نیمان قبیلے کا سردار تیانگ خان بوکھلا گیا۔ اسی بوکھلاہٹ میں اس نے اونگ خان کے سر کو پاؤں تلے کچل کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ جب وہ ایسا کر رہا تھا تو باہر سے کتوں کے زور زور سے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔ جس سے لوگوں نے یہ برا شگون اخذ کیا کہ ان پر کوئی بڑی آفت آنے والی ہے۔ اور ہاں آفت آنے والی بھی تھی اور اس آفت کا نام تھا چنگیز خان ۔

ہوا یوں کہ جب نیمان قبیلے کے سردار کو معلوم ہوا کہ چنگیز خان نے منگولیا کے بڑے حصے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے تو اسے اپنا قبیلہ خطرے میں نظر آیا۔ چنگیز خان نے تیانگ خان کے ایک بھائی کو بھی ایک لڑائی میں شکست دی تھی۔ لیکن تیانگ خان خود کو اپنے بھائی سے زیادہ طاقتور جنگجو سمجھتا تھا۔ سو اس نے چنگیز خان سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا۔ اپنی طاقت بڑھانے کیلئے اس نے چنگیز خان کے دشمن جموکا کو بھی ساتھ ملایا اور جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ مگر ہوا یہ کہ ان کے حملے کا پلان پہلے ہی لیک ہو گیا۔ اس کی مخبری چنگیز خان تک پہنچ گئی۔ چنگیز خان تو نہ ہارنے کی قسم کھائے بیٹھا تھا، سو اس نے ایک بار پھر پرایمپٹیو سٹرائیک کی۔ وہ فوری طور پر جنگ کیلئے نکل کھڑا ہوا۔ جب وہ نیمان قبیلے کے علاقے میں پہنچا تو اس نے یہ حکم دیا کہ اس کا ہر سپاہی رات کو آگ کے پانچ، پانچ الاؤ روشن کرے۔ سپاہیوں نے ایسا ہی کیا۔ جب میدان جنگ میں اتنے زیادہ اور اتنا دور الاؤ روشن ہوئے تو نیمان قبیلے کے وہ جاسوس جو دور پہاڑوں اور جنگلوں میں چھپے جاسوسی کر رہے تھے، ڈر گئے۔ انہوں نے اپنے سردار کو اطلاع دی کہ منگولوں کے کیمپ میں اتنے الاؤ جل رہے ہیں جتنے آسمان پر ستارے۔ یعنی منگولوں کا لشکر اندازوں سے بہت ہی بڑا ہے۔

اس خبر نے نیمان لشکر کے حوصلے پست کر دئیے۔ چنانچہ اگلے روز جب وہ میدان جنگ میں نکلے تو وہ ہاؤ ہوؤ تو کر رہے تھے لیکن اس میں ہاؤ ہوؤ میں جوش و خروش نہیں تھا۔ دوسری طرف چنگیز خان پوری طرح تیار تھا۔ اس نے اپنے لشکر کو کئی چھوٹے چھوٹے لشکروں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ہر لشکر مخالف سمت سے نیمان قبیلے اور جموکا کی فوج کو گھیرنے لگا تھا۔ چنگیز خان کے سپاہی مسلسل تیروں کی بارش کر کے نیمان قبیلے کو پیچھے پہاڑوں کی طرف دھکیلنے لگے تھے۔ لیکن نیمان قبیلہ کوئی معمولی قبیلہ نہیں تھا۔ اسے شکست دینا اتنا آسان کام نہیں تھا۔ مگر یہاں ایک ٹرننگ پوائنٹ آچکا تھا۔ وہ یہ کہ چنگیز خان کا پرانا دوست اور پھر دشمن جموکا ڈبل گیم کرنے لگا۔ وہ نیمان قبیلے کا اتحادی تھا، جنگ میں شریک تھا لیکن اس نے چنگیز خان کو خفیہ پیغامات بھیجنا شروع کر دیئے۔ شاید وہ چنگیز خان سے کئی لڑائیاں لڑنے کے بعد سمجھ گیا تھا کہ اسے ہرانا ممکن نہیں۔ اسی لیے وہ چینگیز خان کو خفیہ طور پر اعتماد میں لے کر نیمان قبیلے کے سردار تیانگ خان کو بھی مسلسل پیچھے ہٹنے کے مشورے دے رہا تھا۔

چنگیز خان بھی مسلسل آگے ہی بڑھتا رہا۔ اور پھر یوں جموکا کی بے وفائی سے تیانگ خان اور اس کے ساتھی پہاڑوں میں اس طرح پھنس کر رہ گئے کہ چنگیز خان ان کا جیسے چاہے شکار کھیل سکتا تھا۔ وہ سب اس کے گھیرے میں تھے۔ ایسے میں جموکا اپنے پانچ ساتھیوں کو لے کر فرار ہو گیا۔ چنگیز خان نے نیمان قبیلے کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا اور کرتے کرتے ان کے سردار تک کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ اس کے سامنے قبیلے کے سردار تیانگ خان کی ماں گوربیسو لائی گئی۔ یہ عورت کہا کرتی تھی کہ اسے منگولوں سے بدبو آتی ہے۔

چنگیز خان نے اسے سزا سنانے کا فیصلہ کیا۔ اور سزا یہ تھی کہ وہ اب چنگیز خان کی بیوی بنے گی۔ بہرحال ایک اور بڑا سردار تیانگ خان چنگیز خان سے لڑائی کے بعد مارا جا چکا تھا اور جموکا مفرور تھا۔ جموکا نے بھلے چنگیز خان کا خفیہ ساتھ دیا تھا، لیکن چنگیز خان جموکا پر اب اندھا بھروسہ کرنے پر تیار نہیں تھا۔ وہ اسے ہر قیمت پر اپنے قبضے میں لانا چاہتا تھا۔ ماڈرن ہسٹورینز یہ بھی کہتے ہیں کہ جموکا چنگیز خان کا ڈبل ایجنٹ تھا اور اب وہ اس ڈبل ایجنٹ کو اپنی کمزوری سمجھتے ہوئے ختم کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے چنگیز خان کے سپاہی اسے ہر جگہ ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔

چنگیز خان نے جموکا کی گرفتاری پر ایک بڑے انعام کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔ جموکا اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ ایک سال تک پہاڑوں میں دربدر پھرتا رہا اور خانہ بدوش قبائل کو لوٹ کر گزر بسر کرتا رہا۔ لیکن جب اس کے ساتھیوں کو پتا چلا کہ چنگیز خان نے جموکا کی گرفتاری پر انعام رکھ دیا ہے تو وہ لالچ میں آ گئے۔ ایک رات جب جموکا کھانا کھا رہا تھا تو اس کے پانچ ساتھیوں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے باندھ کر چنگیز خان کے پاس لے آئے۔ انہیں چنگیز خان سے بڑے انعام کی توقع تھی۔ مگر ان کی خوشی تب غارت ہو گئی جب چنگیز خان نے انہیں انعام دینے کے بجائے سزائے موت کا حکم سنا دیا۔

اصل میں چنگیز خان کو ان لوگوں سے سخت نفرت تھی جو اپنے آقا سے وفاداری کا خلف توڑتے ہیں اور غداری کرتے ہیں۔ چنانچہ اس نے انعام کے لالچ میں اپنے سردار کو پکڑوانے والوں کو قتل کروا دیا۔ پھر وہ جموکا کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کے بچپن کا بلڈ برادر، ساتھ کھانے پینے اور سونے والا جموکا، رسیوں میں بندھا ہوا اس کے سامنے پڑا تھا۔ چنگیز خان نے جموکا سے کہا ہم دونوں کو قسمت ایک بار پھر قریب لے آئی ہے تو کیوں نہ ہم پھر سے ایک ہو جائیں۔

لیکن جموکا کے جواب نے چنگیز خان کو حیران کر دیا۔ جموکا نے کہا ’جیسے آسمان میں صرف ایک سورج رہ سکتا ہے اسی طرح منگولوں میں بھی ایک ہی حکمران ہو سکتا ہے۔ اگر میں زندہ رہا تو میں تمہارے لئے ہمیشہ مصیبت بن کر رہوں گا اس لئے بہتر ہے کہ تم مجھے قتل کر دو۔ ہاں مجھے ایسی موت دینا جس میں میرا خون نہ بہے۔‘ سو پرانی کتابوں میں لکھا ہے کہ جموکا کو چنگیز خان نے گردن سے ریڑھ کی ہڈی توڑ کر قتل کر دیا گیا۔ چنگیز خان کے حکم پر جموکا کی آخری رسومات اچھے طریقے سے ادا کی گئیں۔ لیکن ماڈرن ہیسٹورینز اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ چنگیز خان نے اپنے بلڈ برادر سے دشمنی کی ایکٹنگ کر کے اسے اپنے دشمنوں کے خلاف اصل دشمنوں کو کمزور کرنے کیلئے استعمال کیا۔ پھر کام نکل جانے کے بعد راز کھل جانے کے ڈر سے چنگیز خان نے جموکا کو قتل کروا دیا۔ ماڈرن ہیسٹورینز تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جموکا کا خون نہ بہانے والی کہانی بھی جھوٹ ہے۔ اور منگولوں نے اپنے بڑے لیڈر چنگیز خان کی عزت رکھنے کے لیے یہ کہانی خود سے گھڑی ہے۔

اصل میں تو جموکا کو بے دردی سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے قتل کیا گیا تھا۔ کہتے ہیں جموکا نے مرنے سے پہلے چنگیز خان سے یہ آخری الفاظ کہے تھے ’’میں تاریک راتوں میں میں آ کر تمہیں ستاؤں گا، تمہاری نیندیں برباد کر دوں گا‘‘۔ بہرحال قتل جیسے بھی ہوا لیکن جموکا اب نہیں رہا تھا۔ اونگ خان۔۔ تیانگ خان جیسے بڑے سردار مر چکے تھے۔ چنگیز خان ہی اب بلا شک و شبہ منگولیا کا سب سے بڑا لیڈر بن چکا تھا۔ بارہ سو چھے میں وہ جگہ جہاں سے دریائے اونان کے سوتے پھوٹتے ہیں جہاں سے دریائے اونان نکلتا ہے۔ وہاں منگولوں کے تمام قبائل کا ایک بہت بڑا اجتماع ہوا۔ اسے منگولوں کی زبان میں ’قرولتائی‘ کہا جاتا تھا۔ اس اجتماع میں سفید رنگ کا ایک برا سا جھنڈا لہرایا گیا۔ جھنڈے پر نو دُمیں، ٹیلز لہرا رہی تھیں۔

اس اجتماع میں تمام منگول قبائل نے متفقہ طور پر چنگیز خان کو اس پورے ریجن کا سب سے بڑا خان مان لیا۔ اب وہ اس ریجن کا سب سے بڑا خان، خاقان یا بادشاہ بن گیا تھا۔ اس موقع تک پہنچتے پہنچتے اس کے دل و دماغ میں نا جانے یہ خیال کیوں بیٹھ چکا تھا۔ کہ منگولوں کے دیوتا نیلے آسمان نے پوری دنیا پر حکومت کرنا چنگیز خان کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اب اس کا اگلا ہدف، اگلا ٹارگٹ وہی ملک تھا جس نے اسے چند برس پہلے ایک عام سے کمانڈر کا خطاب دیا تھا۔ چین۔ وہی چین جس کے حکمران خود کو منگولوں سے برتر، سوپیرئیر قوم سمجھتے تھے۔ اب منگولوں کو چنگیز خان کی قیادت میں چینیوں سے لڑنا تھا، لیکن چینیوں کے پاس تو بارود تھا۔ چینیوں کی بندوقوں اور توپوں کا مقابلہ گھوڑوں کی ننگی پشتوں پر بیٹھنے والے منگولوں نے کیسے کیا؟

چنگیز خان مسلمانوں کیلئے موت کا فرشتہ نہیں ایک مسیحا ثابت ہوا، کیا واقعی؟

یہ سب اپکو ملے گا چنگیز خان حصہ سوم میں جو جلد اپکی خدمت پیش کیا جائے گا۔  
اگر اپ نے چینگیز خان کے ابتدائی زندگئ کے بارے میں ابھی تک نہیں پڑھا تو ابھی چنگیز خان حصہ اول پر کلک کریں اور جانیے دلچسپ حقائق

No comments:

Post a Comment