Sunday, February 6, 2022

Who is Genghis khan? last part چنگیز خان کون تھا؟

      ’چنگیز خان کون تھا‘‘  آخری قسط

Who is Genghis khan? last  part  چنگیز خان کون تھا؟

  
جب چنگیز خان چین پر حملہ آور تھا تو اس کے مغرب میں ایک نئی طاقت ابھر رہی تھی۔ اس طاقت ور ریاست کا بانی ایک ترک سلطان محمد ثانی یا علاؤالدین خوارزم شاہ تھا۔ اُس نے اس وقت کی اسلامی دنیا کی سب سے بڑی سلطنت قائم کر لی تھی۔ یہ سلطنت جو خوارزمی سلطنت کہلاتی تھی قازقستان سے ایران اور موجودہ پاکستان کےعلاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ خود کو سکندر اعظم ثانی کہلوانا پسند کرتا تھا۔ وہ چین اور بغداد فتح کرنے کے خواب بھی دیکھتا تھا۔

لیکن پھر اس نے ایک تاریخی غلطی کی۔ اور یہ غلطی اسے چنگیز خان کے مقابلے پر لے آئی۔ ہوا یوں کہ اب چنگیز خان ایک بڑی سلطنت کا حکمران بن چکا تھا۔ چین کا ریشم اور دوسری دولت بھی اس کے قبضے میں تھی۔ ہنرمند فنکار، تاجر، معیشت دان اور بہت سے دوسرے ماہرین کے ساتھ وہ اپنی سلطنت کو اب ترقی دینا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اس نے اردگرد کے ممالک سے تجارت کے معاہدے کرنا شروع کیے۔ اس نے محمد ثانی کو ایک پیغام بھیجا۔ اس نے کہا میں تمہاری سلطنت پر قبضہ کر کے اپنی سلطنت وسیع نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ پرامن تجارت چاہتا ہوں۔

چنگیز خان نے سلطان کو مخاطب کر کے یہ بھی کہا کہ میں تو چـڑھتے سورج کی سرزمین کا حکمران ہوں اور تم ڈوبتے سورج کی دھرتی کے حاکم۔ سلطان خوارزم شاہ نے خط کا مثبت جواب دیا یعنی وہ چنگیز خان سے تجارت کے لیے تیار تھا۔ چنگیز خان نے فوری طور پر ایک تجارتی قافلہ خوارزم روانہ کیا۔ قافلے میں چنگیز خان کے ایک سفیر کے علاوہ 450 مسلمان تاجر اور ایک سو کے قریب منگول پہریدار تھے۔ یہ قافلہ قازقستان کے شہر ‘اورترار‘ پہنچا جو خوارزمی سلطنت کے بارڈر پر واقع تھا۔ یہاں وہ واقعہ ہوا جو خوارزمی سلطنت کی تباہی کا باعث بنا۔ شہر کے گورنر قائر خان نے چنگیز خان کے قافلے پر جاسوسی کا الزام لگا کر سب تاجروں اور محافظوں کو قتل کروا دیا۔ قافلے کا صرف ایک شخص زندہ بچ کر منگولیا پہنچا اور چنگیز خان کو سارا واقعہ کہہ سنایا۔

چنگیز خان ظاہر ہے بہت غصے میں آیا۔ لیکن اسے نے معاملے کی چھان بین کے لیے ایک مسلمان کی سربراہی میں تین رکنی وفد سلطان خوارزم کے پاس بھیجا۔ وفد نے سلطان سے مطالبہ کیا کہ اورترار کے گورنر کو منگولوں کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن ہوا یہ کہ سلطان نے یہ مطالبہ پورا کرنے کے بجائے چنگیز خان کے مسلمان سفیر کو قتل کروا دیا۔۔۔ اور باقی دو منگولوں کے سر اور داڑھیاں منڈوا کر انہیں واپس بھیج دیا۔

جب چنگیز خان کو اپنے سفیروں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا علم ہوا تو وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ ایک بار پھر اس نے مقدس پہاڑی برقان قالدون کا رخ کیا۔ اس نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کئے اور اپنے دیوتا کو پکارا۔

اس نے کہا ’’مجھے طاقت دو مجھے انتقام لینا ہے۔‘‘

پھر چنگیز خان نے علاؤالدین کو آخری پیغام بھیجا۔

اس نے کہا تم نے میرے آدمیوں اور تاجروں کو قتل کیا ہے اور میرا تجارتی سامان لوٹ لیا ہے۔ سو تجارت ختم۔ اب تم جنگ کی تیاری کرو کیونکہ میں ایک ایسی فوج کے ساتھ تم پر حملہ آور ہونے والا ہوں جسے تم روک نہیں سکو گے۔ چنگیز خان مئی بارہ سو انیس میں ایک لاکھ بیس ہزار فوج لے کر خوارزم پر چڑھ دوڑا۔ اس کی فوج میں دس ہزار ایغور سپاہیوں کے علاوہ ترک مسلمان اور چینی انجینئرز بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ چنگیز خان کے مقابلے پر سلطان کی فوج دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔ 

لیکن سلطان نے ایک غلطی کی۔

وہ یہ کہ منگولوں کا براہ راست مقابلے کرنے کے بجائے اپنی فوج کو تقسیم کر کے الگ الگ شہروں کی حفاظت کے لیے بھیج دیا۔ اس کا نتیجہ تباہ کن نکلا کیونکہ منگولوں نے ایک، ایک شہر کو گھیر کر الگ الگ تباہ کرنا شروع کر دیا۔ یوں مسلمان اپنی زیادہ تعداد کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ منگولوں نے اورترار کو پانچ ماہ میں فتح کر لیا۔ پھر اس کے گورنر قائر خان سمیت شہر کی زیادہ تر آبادی کو تہہ تیغ کر دیا۔ اوترار کے بعد بخارا اور سمرقند جیسے عظیم شہر بھی اسی انجام سے دوچار ہوئے۔

چنگیز خان نے یہ شہر اس بری طرح تباہ کیے تھے کہ مدتوں بعد بھی کوئی وہاں سے گزرتا تو اجڑا دیار دیکھ کر اس کے دل سے ہوک سی اٹھتی۔ اس کا اندازہ یوں کیجئے کہ ایک صدی بعد جب مشہور سیاح ابن بطوطہ یہاں سے گزرا تو اسے بھی یہ شہر اجڑی ہوئی بستیاں ہی دکھائی دئیے تھے۔ چنگیز خان بخارا اور سمرقند کو تباہ و برباد کرنے کے بعد سے واپس نہیں لوٹا بلکہ آگے ہی بڑھتا گیا۔ جو اس کے راستے میں آیا وہ اسے تباہ کرتا چلا گیا۔

لیکن اس نے ازبکستان کے مشہور شہر نوراتا کو تباہ نہیں کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس شہر کو تباہ نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہاں مقدس قبریں تھیں۔ کچھ ہسٹورینز کا خیال ہے کہ خوارزم سلطنت پر حملے کے دوران وہاں کے کچھ مذہبی رہنما درپردہ چنگیز خان سے مل گئے تھے۔ اس لیے چنگیز خان نے ان کو ساتھ رکھنے کی خاطر وہ مقامات چھوڑ دئیے جو ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتے تھے۔

چنگیز خان کا لشکر ایک برس کے اندر، اندر پورے خو`ارزم پر قابض ہو چکا تھا۔ اس تیز رفتار کامیابی کی وجہ یہ تھی سپیڈ۔ منگول فوج سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ ایک ہی دن میں طے کر لیا کرتی تھی۔ اس لئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ سینٹرل ایشیا، ایران اور افغانستان میں پھیل کر ان علاقوں پر قابض ہو گئے۔ 

چنگیز خان خوارزم شاہ کی سلطنت تاراج کر چکا تھا لیکن خوارزم شاہ خود کہیں غائب ہو گیا تھا۔ وہ چنگیز خان کے ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ چنگیز خان نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ سلطان محمد ثانی خواہ آسمان پر چڑھ جائے اسے ڈھونڈ کر لاؤ اور جب تک کامیابی نہ ملے مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔ چنانچہ ایک بڑا منگول لشکر شکاریوں کی طرح سلطان کے تعاقب میں لگ گئے۔ سلطان محمد ثانی منگولوں سے بچنے کیلئے ایک شہر سے دوسرے شہر میں چھپتا رہا۔ اس نے اپنے حرم کی خواتین اور بچوں کو ایک قلعے میں چھپا دیا تھا۔ لیکن منگولوں نے اس قلعے کو ڈھونڈ نکالا اور اس پر قبضہ کر کے ان خواتین اور بچوں کو پکڑ لیا۔ اب سلطان کے پاس اپنے ایک بیٹے جلال الدین خوارزم شاہ اور مٹھی بھر وفاداروں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ بھاگتے بھاگتے وقت کا سلطان اتنا خراب حال ہو چکا تھا کہ اس کے تن پر چیتھڑے جھول رہے تھے اور جیب میں ایک دمڑی تک نہیں تھی۔

بس چند وفادار تھے جو اب تک اس کا ساتھ دے رہے تھے۔ اپنے وفاداروں کے ساتھ وہ بھاگتا بھاگتا بحیرہ کیسپئن کے کنارے پہنچ گیا۔ منگول سپاہی اس کے پیچھے پیچھے تھے۔ وہ ایک کشتی میں بیٹھ کر فرار ہونے لگا کہ منگول سپاہی سر پر آن پہنچے۔ انھوں نے کشتی پر تیروں کی بارش کر دی۔ لیکن اتفاق سے کشتی اور کشتی والے بحفاظت آگے نکل گئے۔

پہلے خوارزم کا سلطان ایک شہر سے دوسرے شہر میں چھپتا رہا تھا۔ اب چنگیز خان کے سپاہوں سے بچتا ہوا ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے میں پناہ لیتا پھر رہا تھا۔ منگول کسی بھی جگہ اسے چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ یہ مسلز، اعصاب اور وقت کی بے رحم جنگ تھی۔ اس جنگ نے سلطان کو نیم پاگل سا کر دیا تھا۔ وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا تھا۔ اس کے بیٹے جلال الدین اور چند وفاداروں کے لیے اسے سنبھالنا ایک مشکل کام ہوتا جا رہا تھا۔ اسی طرح جان بچاتے، بھاگتے اور چھپتے چھپاتے ایک دن سلطان خوارزم کو نمونیہ ہو گیا۔

دس جنوری بارہ سو اکیس کو سلطان دنیا چھوڑ گیا۔ اور وہ بھی اس طرح کہ تدفین کے لیے کفن کا کپڑا تک دستیاب نہیں تھا۔ سو اسے اسی کے تن پر موجود چیتھڑوں میں دفن کر دیا گیا۔ لیکن کیا بس یہی کچھ تھا۔ نہیں ابھی چینگیز خان کے سپاہیوں کی کسر باقی تھی۔ انھیں جب اپنے آقا کا حکم پورے کرنے میں ناکامی ہوئی یعنی چنگیز خان کے سپاہی سلطان کو زندہ اپنے آقا تک نہ پہنچا سکے تو انھوں نے سلطان کی قبر ڈھونڈ نکالی۔ لاش کو باہر نکالا اور اسے آگ لگا دی۔

سلطان کی ماں اور حرم کی خواتین کا جلوس نکالا گیا اور انہیں خوارزمی سلطنت کی تباہی کا ماتم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ پھر حرم کی خواتین کو چنگیز خان کے بیٹوں اور جرنیلوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ لیکن اس سب میں یہ ہوا کہ سلطان کا بیٹا جلال الدین خوارزم شاہ جان بچا کر نکل گیا۔ وہ چنگیز خان کے سپاہیوں کے ہاتھ نہیں آیا۔ اس لیے وہی منگولوں کے خلاف مسلمانوں کی جنگ آزادی کی علامت بن گیا۔

جلال الدین جو اپنے باپ کی موت کے بعد منگولوں کے ہاتھ نہیں آ سکا تھا وہ بھی افغانستان پہنچنے کی فکر میں تھا۔ کیونکہ وہاں اس کے ہزاروں حامی غزنی میں جمع ہو رہے تھے۔ غزنی اس وقت تک آزاد تھا اور وہاں ابھی تک منگولوں کا کنٹرول نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ جلال الدین اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ بحیرہ کیسپئن کے علاقے سے نکلا اور ترکمانستان پہنچا۔ ترکمانستان سے اسے افغانستان پہنچنا تھا۔ لیکن راستے میں منگولوں کے فتح کیے ہوئے بہت سے قلعے بھی آتے تھے۔ ان کی ٹولیاں بھی موجود تھیں۔ سو ایسے میں وہ انھیں بھی شکست دیتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ اس نے نیسا کے قلعے پر قابض سات سو منگولوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ منگولوں کے چھوٹے چھوٹے دستوں کو شکست دیتا اور اپنا راستہ صاف کرتا ہوا وہ اسی سال یعنی بارہ سو اکیس میں غزنی پہنچ گیا۔

یہاں خوارزمی سلطنت کے پچاس ہزار سپاہیوں نے اس کی وفاداری کا حلف لیا۔ منگولوں کے خلاف جنگ میں ایک جرنیل تیمور ملک بھی اس کے ساتھ تھا۔

تیمور ملک، سلطان محمد ثانی کے دور میں فرغانہ کے علاقے، خجند کا گورنر تھا۔ یہ علاقہ آج تاجکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس نے ایک ہزار سپاہیوں کے ساتھ ایک جزیرے پر مورچہ بند ہو کر منگولوں کا خوب مقابلہ بھی کیا۔ اس کے بعد وہ منگولوں کا گھیرا توڑ کر افغانستان کی طرف فرار ہو گیا۔ اور جب جلال الدین غزنی پہنچا تو کچھ دیر بعد تیمور ملک بھی تیس ہزار سپاہیوں کے ساتھ پہنچ گیا۔ یہ سپاہی اس نے راستے سے بھرتی کیے تھے۔

اس کے پہنچنے سے جلال الدین کی قوت اور بڑھ گئی۔ یوں غزنی میں تقریباً اسی ہزار کے قریب فوج منگولوں سے مقابلے کیلئے تیار تھی۔ اس سے پہلے کہ چنگیز خان کا مقابلہ جلال الدین خوارزم سے ہوتا جنگ کی ہولناکیاں چنگیز خان کے گھر تک پہنچنے لگیں۔ اس کا ایک داماد ’توقوچار‘ ایرانی شہر نیشاپور کے محاصرے میں مارا گیا۔

چنگیز خان کے لیے یہ خبر ایک الم ناک حادثہ تھی۔

اس نے اپنے بیٹے تولی خان کو بدلہ لینے کیلئے نیشا پور بھیجا۔ تولی خان نے نیشا پور کو گھیر کر اس کے گرد سینکڑوں منجنیقیں نصب کر دیں۔ پھر شہر پر پتھروں کی بارش کر کے حفاظتی دیوار کے پرخچے اڑا دیئے۔ اس کے بعد منگول فوج شہر میں داخل ہوئی۔ منگول لشکر کے ساتھ چنگیز خان کی بیوہ بیٹی بھی تھی جس کی آنکھوں میں بدلے کا خون تھا اور ہونٹوں پر انتقام، انتقام، انتقام کی صدائیں تھیں۔ وہ فوج کو جوش دلا رہی تھی اور فوج جوش کھا رہی تھی۔

چنگیز خان کے داماد کا انتقام یوں لیا گیا کہ پہلے شہر کی انسانی آبادی کو قتل کیا گیا۔ پھر شہر کے کتوں، بلیوں اور چوہوں تک کو مار دیا گیا۔ ابھی چنگیز خان کی فوج اس کے داماد کا انتقام لے رہی تھی کہ ایک اور واقعہ ہو گیا۔ افغانستان میں بامیان کے قلعے کے باہر چنگیز خان کا چہیتا پوتا ’موگیتوگین‘ بھی تیر لگنے سے مارا گیا۔ اپنے داماد کی موت کے بعد چنگیز خان کیلئے یہ دوسرا بڑا جذباتی صدمہ تھا۔ غصے میں بپھرا چنگیز خان خود فوج لے کر بامیان پہنچا اور بالکل نیشا پور کی طرح بامیان کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ چنگیز خان نے حکم دیا کہ بامیان میں کوئی ایسی چیز باقی نہ بچے جو سانس لیتی ہو۔ سو انسانوں کو قتل کرنے کے بعد تمام جانور حتیٰ کہ کیڑوں مکوڑوں تک کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ختم کر دیا گیا۔

حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کیے گئے، اور بچے نکال کر انھیں کاٹ دیا گیا۔ بامیان یوں برباد ہوا کہ لوگ برسوں تک اسے منحوس شہر کے نام سے یاد کرتے رہے۔ نیشاپور اور بامیان میں کامیابی اور خوف کے جھنڈے گاڑنے کے بعد اب منگولوں کا مقابلہ تھا جلال الدین خوارزم شاہ سے۔ چنگیز خان نے اپنے ایک جرنیل کو چالیس ہزار سے زائد فوج کے ساتھ جلال الدین کے تعاقب میں روانہ کیا۔ افغان علاقے پروان کے قریب جلال الدین اس فوج کے مقابلے میں آیا۔ لیکن یہاں اسے ایسی عبرتناک شکست ہوئی کہ منگول لشکر سر پر پاؤں رکھ کر میدان جنگ سے بھاگ گیا۔ یہ مسلمانوں کے ہاتھوں چنگیز خان کے کسی بھی لشکر کی پہلی ہار تھی۔ اس لڑائی میں بہت سے منگول فوجی قیدی بھی بنائے گئے تھے۔

ان قیدیوں سے جلال الدین کی فوج نے گن گن کر بدلے لیے۔ کئی منگولوں کے کانوں میں کیل ٹھونک دئیے گئے۔ بہت سوں کو غصے میں بھرے شہریوں کے غول کے حوالے کر دیا گیا۔ شہریوں نے منگول قیدیوں کے ٹکڑے اڑا دئیے، کسی کو گھسیٹ گھسیٹ کر مار ڈالا اور کسی کو پیٹ پیٹ کر موت دے دی۔ جلال الدین خوارزم، جو اپنی سلطنت، اپنے باپ اور خواتین کا انجام انھی منگولوں کے ہاتھوں دیکھ چکا تھا اب انھیں بے بسی کی موت مرتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے کئی قیدیوں کے سر اپنے ہاتھوں سے قلم کیے۔ اب ٹیبلز ٹرن ہو چکے تھے۔ منگول سپاہیوں کو وہ موت نصیب ہو رہی تھی جو وہ دوسروں کو دیا کرتے تھے۔ منگولوں کی شکست اور ان کے قیدیوں کے قتل عام نے ان کے ناقابلِ شکست ہونے کا بھرم بھی توڑ دیا تھا۔ اور پوری اسلامی دنیا میں ان کے خلاف ایک نیا جوش اور فتح کی امید بھر گئی۔ افغانستان سے ایران اور سینڑل ایشیا تک مسلمانوں نے منگولوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تھے۔ جن جن شہروں میں منگول گورنر اور سپاہی تعینات تھے وہاں وہاں ان کے خلاف بغاوتیں ہونے لگیں اور کئی جگہوں پر انھیں قتل کیا جانے لگا۔ غرض کہ خوارزمی سلطنت میں چنگیز خان کے خلاف جنگ آزادی شروع ہو گئی۔ اس پر مزید یہ کہ یہ کہ چنگیز خان کے اپنے علاقے منگولیا سے بھی بغاوت کی خبریں آنے لگیں تھی۔

اب چنگیز خان کے براہ راست لیڈ کرنے قیادت کرنے کا وقت تھا۔ اس نے وقت ضائع کرنے کے بجائے فوری انتقام لینے کا فیصلہ کیا۔ وہ چند دنوں میں انتقام سے کھولتا لشکر لے کر جلال الدین خوارزم شاہ سے مقابلے کے لیے روانہ ہو گیا۔ یہ تعاقب اتنا تیز رفتار تھا کہ منگول لشکر کو اڑتالیس گھنٹے میں کھانے کیلئے صرف ایک بار رکنے کی اجازت ملتی تھی۔ یوں چنگیز خان چند ہی روز میں جلال الدین کے قریب پہنچ گیا۔ لیکن جلال الدین کی فوج جنگ سے پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی۔ پروان کی فتح کے بعد اس کے دو جرنیلوں تیمور ملک اور ایک دوسرے سردار میں مال غنیمت کی تقسیم پر جھگڑا ہو گیا تھا۔ جب جلال الدین نے اس جھگڑے میں تیمور ملک کی حمایت کی تو دوسرا جرنیل سردار اپنے تیس ہزار ساتھیوں کو لے کر ان کا ساتھ چھوڑ گیا۔

اب جلال الدین کے پاس پہلے سے کم فوج رہ گئی تھی۔ وہ منگولوں سے بچنے کیلئے افغانستان کے راستے موجودہ پاکستانی صوبے خیبرپختونخوا میں داخل ہوا۔ وہ ہوتے ہوتے کالا باغ کے مقام تک آن پہنچا۔ یہاں اس کی فوج دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر کھڑی دریا پار کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ کہ چنگیز خان نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اسے آ لیا۔ اب جلال الدین کے پاس مقابلے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس نے فوری طور پر اپنی کشتیاں جلا ڈالی تاکہ اس کے سپاہی بھاگنے کی کوشش نہ کریں۔ پھر اس نے اپنے پاس موجود سونا، چاندی اور ہیرے جواہرات بھی دریائے سندھ میں پھینک دیئے۔ اس کے بعد وہ خود تلوار لے کر میدان میں کود پڑا۔ دوپہر تک دونوں فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا۔

جلال الدین کے ساتھی ایک ایک کر کے قربان ہوتے رہے۔ حتیٰ کہ اس کا وفادار جنرل تیمور ملک بھی جان کی بازی ہار گیا۔ جب جلال الدین نے اپنے لشکر کو ہارتے دیکھا اور بچاؤ کی کوئی صورت بھی سامنے نہیں تھی۔ تو وہ اپنے گھوڑے کے ساتھ دریائے سندھ کے کنارے ایک چٹان پر چڑھ گیا۔ پھر اس نے ساٹھ فٹ، سکسٹی فیٹ کی بلندی سے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ دریا کے تیز بہاؤ نے جلال الدین کو اپنے ساتھ بہانا شروع کر دیا۔ جلال الدین باہر نکلنے کیلئے بری طرح ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔

چنگیز خان دریا کے  اونچے کنارے پر کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کے تیرانداز جلال الدین کو موت کی نیند سلانے کے لیے نشانہ لے رہے تھے۔ وہ کمانوں میں تیر کھینچ چکے تھے۔ لیکن چنگیز خان نے ہاتھ کھڑا کر کے انھیں روک دیا۔ اس نے جلال الدین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ایسے بہادر بیٹے کا حق تھا کہ اسے زیادہ شاندار باپ ملتا۔ تیراندازوں نے کمانیں جھکا لیں اور جلال الدین گھوڑے سمیت دریا پار کر گیا۔ دریا سے نکل کر اس نے دہلی کے سلطان التتمش سے رابطہ کیا۔

اور چنگیز خان کے خلاف مدد مانگی۔ مگر التتمش پر چنگیز خان کا اتنا خوف طاری تھا کہ اس نے جلال الدین کی مدد سے انکار کر دیا۔ ادھر چنگیز خان نے خود تو دریائے سندھ پار نہیں کیا مگر جلال الدین کی تلاش کیلئے اپنی فوج آگے بھیج دی۔ منگولوں نے پنجاب سے سندھ تک قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا۔ منگولوں نے ملتان کا بھی محاصرہ کیا، لیکن اف یہ ملتان کی گرمی۔۔۔ 

ہر طرح کے موسم کا مقابلہ کرنےو الے منگول ملتان کی گرمی سے گھبرا گئے۔ انھوں نے محاصرہ اٹھایا اور واپس لوٹ گئے۔چنگیز خان ہندوستان سے گزر کر چین جانا چاہتا تھا۔ لیکن خوارزم میں بغاوت کی وجہ سے وہ اپنا ارادہ ترک کر کے سینٹرل ایشیا واپس چلا گیا۔ جلال الدین، منگول فوج کی پنجاب اور سندھ میں موجودگی کے دوران مختلف جگہوں پر روپوش رہا اور اس کی کئی مقامی قبیلوں سے لڑائیاں بھی ہوئیں اور ایک بار اس کا بازو بھی زخمی ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک کھوکھر سردار کی بیٹی سے شادی کی تھی۔

چنگیز خان کی واپسی کے باوجود جلال الدین دو برس لاہور میں چھپا رہا۔ جب اسے پوری طرح یقین ہو گیا کہ چنگیز خان ہندوستان واپس نہیں آ رہا تو وہ سندھ پہنچا اور ایک بحری جہاز میں بیٹھ کر ایران چلا گیا۔ وہ مرتے دم تک منگولوں کے خلاف جدوجہد کرتا رہا مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ منگولوں کے علاوہ بغداد کا خلیفہ اور کئی دوسرے مسلمان حکمران بھی جلال الدین کے خلاف ہو رہے تھے۔

کیونکہ جلال الدین خوارزم شاہ اپنے باپ کی کھوئی ہوئی سلطنت کو واپس حاصل کرنے کے لیے منگولوں سے لڑ رہا تھا۔ اور اس عمل کو باقی مسلمان حکمران اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگے تھے۔ بارہ سو اکتیس میں مسلمانوں کے اس گمنام ہیرو کو ترک علاقے ’دیاربکر‘ کے قریب منگولوں سے آخری شکست ہوئی۔ اس شکست کے بعد وہ ایک بار پھر دربدر پھرنے لگا۔ یہاں تک کہ ایک جگہ کرد ڈاکوؤں نے اس کے کیمپ پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔

چنگیز خان کا ایک بہت بڑا دشمن ختم ہو چکا تھا۔ چنگیز خان نے اس سے بہت پہلے ہندوستان سے تو اپنی فوج ہٹا لی تھی۔ مگر اس نے خوارزمی سلطنت کے باغی شہروں کو عبرت کا نشان بنا دیا۔ ان شہروں میں افغانستان کے مشہور شہر غزنی، بلخ، غور اور ہرات بھی شامل تھے۔

چنگیز خان کی عمر اب ساٹھ برس سے زیادہ ہو چکی تھی۔ وہ طویل عرصے تک اور جینا چاہتا تھا۔ اس کوشش میں اس نے چین سے تاؤ ازم کے ایک پیشوا چین چُنگ کو بلا کر اس سے ہمیشہ کی زندگی کا راز پوچھا۔ چین چُنگ نے کہا

’’اگر تم اپنے ازدواجی معاملات میں احتیاط کرو، شکار اور شراب سے دور رہو تو تم لمبے عرصے تک زندہ رہ سکتے ہو۔‘‘

چنگیز خان کو اس جو اب سے مایوسی ہوئی کیونکہ وہ لمبی زندگی نہیں ہمیشہ کی زندگی، ایمورٹیلٹی چاہتا تھا۔ اس نے واپس منگولیا جانے کا فیصلہ کیا اور بارہ سو پچیس میں، یعنی چھے برس بعد اپنے وطن چلا گیا۔ اس وقت تک وہ دنیا کے ایک بڑے حصے کا حکمران بن چکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ عام منگولوں کی طرح خیموں میں رہتا اور سادہ زندگی گزارتا رہا۔ اس نے زندگی کا کوئی حصہ عیش و عشرت میں نہیں گزارا۔ یہی نصیحت وہ اپنے بعد آنے والوں کو کیا کرتا تھا۔ ایک بار اس نے کہا تھا ’’ہمارے بعد ہماری نسل کے لوگ سونے کے لباس پہنیں گے، مزیدار کھانے کھائیں گے سجے ہوئے گھوڑوں پر سفر کریں گے، ان کی بیویاں خوبصورت ہوں گی اور وہ بھول جائیں گے کہ ہمارا ان پر کیا حق ہے۔‘‘

چنگیز خان کو اپنے سب بیٹوں میں جوچی خان سب سے زیادہ پسند تھا حالانکہ وہ اس کا حقیقی بیٹا نہیں تھا بلکہ مرکد قبیلے کی اولاد تھا۔ چنگیز خان، جوچی کو اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتا تھا۔ مگر اس کے دوسرے بیٹے چغتائی خان نے اعتراض کیا اور کہا کہ ’’ہم مرکد قبیلے کی اولاد کو آپ کا جانشین نہیں مان سکتے۔‘‘ اس بات پر جوچی اور چغتائی میں مار پیٹ تک ہو گئی۔ مجبور ہو کر چنگیز خان نے اپنے تیسرے بیٹے اوغدائی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ لیکن بعد میں آپ جانتے ہیں کیا ہوا؟ جانشینی والے واقعے کو گزرے زیادہ برس ہی ہوئے تھے کہ جوچی خان اور چنگیز خان میں شدید اختلافات ہو گئے۔ یہ اختلافات اتنے بڑھےکہ چنگیز خان نے مبینہ طور پر، الیجیڈلی، جوچی خان کو زہر دے کر ہلاک کروا دیا۔ اپنے وطن واپسی کے ایک سال کے اندر، بارہ سو چھبیس میں چنگیز خان بوڑھا بھی ہو گیا تھا اور صحت بھی بہت خراب ہو چکی تھی۔ پھر بھی وہ چین کے اندر ایک بغاوت کچلنے کیلئے نکل کھڑا ہوا۔ اس نے ایک برس کے درمیان یہ بغاوت تو کچل دی لیکن کہتے ہیں کہ جنگ کے دوران ایک تیر اس کی ٹانگ میں پیوست ہو گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک شکار کے دوران وہ گھوڑے سے گر کر زخمی ہوا تھا۔ اسے گہری اندورنی چوٹیں لگی تھی۔ وہ ابھی ہرگز مرنا نہیں چاہتا تھا، لیکن زخم میں انفیکشن پھیل گئی۔ اور یہ زہر پھیلتے پھیلتے اس کے رگ وپے میں سرائیت کر گیا۔ اگست بارہ سو ستائیس کے آخری دن تھے کہ چنگیز خان نے آخری سانس لی۔

پینسٹھ سالہ بوڑھا چنگیز خان اپنے آبائی علاقوں سے بہت دور ایک بغاوت کچل چکا تھا۔ لیکن زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔ اس کے بیٹے اوغدائی خان نے اپنے باپ کی روح کو خوش کرنے کیلئے چالیس کنواری لڑکیوں کی قربانی بھی دی۔ اس کی لاش کو منگولیا میں اسی دریا اونان کے کنارے پر واپس لایا گیا جہاں کبھی اس نے یسوگئی کے خیمے میں آنکھ کھولی تھی۔ اور یہیں اسے دفن کر دیا گیا۔ منگولوں میں قبروں کو خفیہ رکھنے کا رواج تھا۔ لیکن چنگیز خان کی قبر کو چھپانے کے لیے تو حد ہی کر دی گئی۔ لیجنڈ ہے چنگیز خان کی آخری رسومات دیکھنے والے ہر شخص کو قتل کروا دیا گیا تھا۔ پھر اس زمین کو جہاں وہ دفن تھا، 800 گھڑسواروں نے گھوڑے دوڑا دوڑا کر روند ڈالا تا کہ قبر کا نشان تک مٹ جائے۔ جب یہ ہو چکا تو ان آٹھ سو گھڑسواروں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں قتل کرنے والوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ قبر کے اردگرد جانوروں تک کو مار ڈالا گیا۔ ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ ایک دریا کا رخ موڑ کر اسے قبر پر سے گزار دیا گیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ماہرین کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود چنگیز خان کی قبر کا سُراغ آج تک نہیں مل سکا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چنگیز خان کو شاید منگولیا میں ہی مقدس پہاڑی برقان خالدون پر ہی کہیں دفن کیا گیا تھا۔ کچھ مورخین کے نزدیک شاید وہ منگولیا کے اس حصے میں جو اب چین میں شامل ہے وہاں کہیں دفن کیا گیا تھا۔

کیونکہ چنگیز خان کی موت گرمی کے موسم میں ہوئی تھی۔ منگول لاش کو اتنی دور دریائے اونان کے پاس نہیں لے جا سکتے تھے۔ انہیں لاشوں کو محفوظ کرنے کا طریقہ بھی نہیں آتا تھا۔ اس لئے ممکنہ طور پر چنگیز خان کی لاش چین میں ہی کسی نامعلوم مقام پر دفن ہے۔ لیکن صرف چنگیز خان ہی کیوں، اس کے بیٹے، پوتے ’مونگ کے‘ خان اور قبلائی خان سمیت اہم ترین منگول سرداروں کی قبروں کے بارے میں بھی کسی کو معلوم نہیں۔ حالانکہ بلاشبہ وہ تاریخ کے ناقابل فراموش کرداروں میں سے تھے۔ آج چنگیز خان کو جدید منگولیا کا بانی اور قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ منگولیا کی کرنسی پر بھی چنگیز خان کا سکیچ پرنٹ کیا جاتا ہے۔

چنگیز خان تو مر گیا لیکن اس کی اولاد تیزی سے پھیلتی رہی۔ یہاں تک کہ دوہزار تین میں کی گئی ایک میل جینز پر تحقیق سے یہ حیرت انگیز بات سامنے آئے کہ دنیا کے پوائنٹ فائیو پرسنٹ مرد چنگیز خان کی اولاد ہیں۔ یہ تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی تعداد بنتی ہے۔ جب چنگیز خان مرا تو منگولیا سے روس تک 1 کروڑ 20 لاکھ مربع کلومیٹر زمین پر اس کی سلطنت پھیلی ہوئی تھی۔ یہ سلطنت آج کے امریکہ سے بھی بڑی تھی۔ اس سلطنت کے قیام کیلئے چار کروڑ انسان جو اُس دور کی کل آبادی کا گیارہ فیصد تھے، قتل کر دیئے گئے۔

دوستو چنگیز خان کون تھا کی کہانی  یہاں مکمل ہوتی ہے۔

 ہمیں کامینٹس میں یہ ضرور بتائیں کہ آپ کے خیال میں چنگیز خان ایک کامیاب انسان تھا یا ناکام؟

جو باتیں اس کے بارے میں مشہور ہیں یہ کتنی سچ ہیں آپ کے خیال میں۔

اور آپ جیسا بھی سمجھتے ہیں ویسا کیوں سمجھتے ہیں کمنٹس میں ضرور لکھیں؟

چنگیز خان منی سیریز کی آخری قسط آپ نے پڑھ لی



 

No comments:

Post a Comment