Monday, February 28, 2022

The Ottoman Empire ( part 5) سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال پانچواں حصہ

 سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال پانچواں حصہ 

The Ottoman Empire ( part 5) سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال  پانچواں حصہ


پندرھویں صدی میں عثمانیوں کا ایک سلطان انیس سال کا نوجوان تھا، بڑا ہی جوشیلا اور بے باک۔ ایک دن قسطنطنیہ کی مضبوط دیواروں کی پرواہ کئے بغیر اس نے شہر پر چڑھائی کر دی۔ اس کے پاس دیواریں توڑنے کیلئے ایک نیا ہتھیار بھی تھا۔ یعنی توپ۔ لیکن اس نوجوان کی بہادری کسی کام نہ آئی وہ بری طرح ناکام رہا، اس کی توپیں فیل ہو گئیں اور اسے ہار مان کر پیچھے ہٹنا پڑا۔ یہ نوجوان پھر مرتے دم تک کانسٹنٹائنوپول یعنی قسطنطنیہ کی فتح کا خواب پورا نہ کر سکا۔ یہ کیا کہانی تھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے قسطنطنیہ کی دیواروں پر بم برسانے والا یہ پہلا نوجوان سلطان کون تھا؟ یہ تھا سلطان مراد ثانی جو 1421 میں سلطنت عثمانیہ کے تخت پر بیٹھا اور اگلے ہی برس اس نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ اس کے پاس اپنے دور کا جدید ترین ہتھیار یعنی توپیں بھی تھیں۔ اس کی توپوں نے جرمن ماہرین کی نگرانی میں قسطنطنیہ کی دیواروں پر بے تحاشہ گولے برسائے۔

اس کا اندازہ یوں کیجئے کہ صرف ایک ٹاور پر ستر گولے گرے۔ لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ سلطان کے اپنے بھائی مصطفیٰ نے جو کہ ھمیت کے علاقے کا گورنر تھا، رومی شہنشاہ کے اشارے پر بغاوت کر دی۔ مراد ثانی کو مجبوراً قسطنطنیہ کا محاصرہ ختم کر کے اپنے بھائی سے جنگ کرنا پڑی۔ اس جنگ میں مصطفیٰ تو مارا گیا لیکن مراد ثانی پھر کبھی رومی سلطنت کے مرکز قسطنطنیہ کی طرف قدم نہیں بڑھا سکا۔ اور صرف قسطنطنیہ سے خراج لے کر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔

لیکن جہاں باپ ناکام رہا تھا وہاں بیٹے نے اس ناکامی سے سبق سیکھا۔ وہ بیٹا سلطان محمد ثانی جسے آج دنیا سلطان محمد فاتح کے نام سے جانتی ہے اپنے باپ کی غلطی نہیں دوہرانا چاہتا تھا۔ اس نے جو سبق سیکھا وہ یہ تھا کہ اگر قسطنطنیہ فتح کرنا ہے تو پہلے اپنی ریاست میں مکمل امن ضروری ہے۔ چاہے اس کی کچھ بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔

اور دوسرا یہ کہ اپنی فائر پاور یعنی توپوں کو اور بھی زیادہ طاقتور بنایا جائے۔ اتنا طاقتور کہ وہ قسطنطنیہ کی ایک ہزار سال سے فاتحین کا منہ چڑاتی دیواروں کو ریت کی دیوار ثابت کر سکیں۔ کیونکہ یہی سب کر کے سلطان کو وہ سرخ سیب مل سکتا تھا۔ جسے پانے کی آرزو لئے اس کا باپ منوں مٹی تلے جا سویا تھا۔ یہ سرخ سیب کیا تھا؟

قسطنطنیہ شہر میں ایک بہت بڑا چرچ تھا ہیگیا صوفیہ کہتے تھے۔ اس چرچ کے باہر ایک سو فٹ اونچے خوبصورت ستون پر ایک رومن شہنشاہ کا گھوڑے پر سوار مجسمہ نصب تھا۔ یہ مجسمہ اسی شہنشاہ کا تھا جس نے ہیگیا صوفیہ چرچ تعمیر کروایا تھا۔ مجمسے نے دیومالائی یونانی ہیرو ایکلیز جیسا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گلوب تھا جس میں صلیب گڑی ہوئی تھی۔

یہ صلیب اور گلوب پوری دنیا پر عیسائیت کے غلبے کی علامت تھی۔ یورپ میں مشہور تھا کہ جو شخص قسطنطنیہ کو فتح کر کے یہ گلوب اور صلیب حاصل کر لے گا وہی پوری دنیا کا شہنشاہ ہو گا۔ چنانچہ اس شہر کی فتح حکمرانوں کیلئے ایک چیلنج بن گئی تھی۔ ایک ہزار سال میں کئی لوگوں نے یہ چیلنج قبول کیا مگر قسطنطنیہ کی مضبوط دیواریں ہر حملہ آوور کو ناکام واپس لوٹنے پر مجبور کرتی رہیں۔

عثمانیوں نے بھی ایک سے زیادہ مرتبہ یہ شہر فتح کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ ترک اس صلیب والے گلوب کو سرخ سیب کہتے تھے۔ کیونکہ سرخ سیب ان کے نزدیک پوری دنیا پر حکمرانی کی علامت تھا۔ وہ اس سرخ سیب کو حاصل کرنے کے لیے بے قرار تھے۔ کیونکہ اس وقت وہ دنیا کی سپرپاور تو بہرحال بن چکے تھے۔

تو مراد ثانی کی وفات کے بعد تخت و تاج کے ساتھ سرخ سیب کا چیلنج بھی محمد ثانی کو وراثت میں مل گیا۔ چیلنج تو وراثت میں آ گیا تھا لیکن یہ چیلنج ایک مشکل چیلنج تھا۔ تخت و تاج ملنے سے بھی زیادہ مشکل چیلنج۔ جی ہاں سلطان محمد ثانی کو اپنی جانشینی کیلئے کوئی بڑی جنگ یا بغاوت سے نہیں لڑنا پڑا تھا۔

اور اس کے اتنے آسانی سے سلطان بن جانے کی وجوہات بہرحال دلچسپ اور پراسرار تو تھیں۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ جانشینی میں سلطان کے مقابلے پر کون کون تھا۔ محمد ثانی کے دو بڑے بھائی تھے۔ احمد اور علی۔ احمد بڑا تھا لیکن اس کا والد سلطان مراد ثانی چھوٹے بیٹے علی سے زیادہ محبت کرتا تھا۔ اور سمجھا جاتا تھا کہ وہی اگلا سلطان بھی ہو گا۔ جبکہ محمد ثانی سب سے چھوٹا تھا اور ویسے بھی اسے ضدی اور خود سر بلکہ بڑی حد تک ایک نالائق لڑکا سمجھا جاتا تھا۔

یعنی اس کے سلطان بننے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ان حالات میں لگتا تھا کہ احمد یا علی میں سے کوئی ایک سلطان بنے گا۔ جبکہ باقیوں کے حصے میں آئے گی ریشم کی ڈوری یعنی کسی ایک کے بھی سلطان بننے کا مطلب باقیوں کی موت تھا۔ لیکن پھر ہوا یہ کہ اس کا بڑا بھائی احمد جو ایمیسیا کا گورنر بھی تھا وہ چودہ سو سینتیس میں اچانک مر گیا۔ اس کی جگہ اس کے دوسرے بھائی علی کو گورنر بنا کر بھیجا گیا۔

لیکن چودہ سو تینتالیس میں حضر پاشا نام کے ایک ترک سردار نے علی اور اس کے شیرخوار بچوں کو رات کے اندھیرے میں قتل کر دیا۔ حضر پاشا کا کیا انجام ہوا اور اس نے علی بے کو کیوں قتل کی تھا؟ یہ بات تاریخ میں واضح نہیں۔

بہرحال یہ واقعات جیسے بھی ہوئے لیکن محمد ثانی کے راستے سے دونوں بڑے بھائی ہٹ چکے تھے۔ اور اس کے سلطان بننے میں کوئی خاندانی رکاوٹ باقی نہیں رہی تھی۔ وہ سلطان تو بن گیا لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ ابھی باقی تھا۔ وہ یہ کہ اس کی ایک سربین سوتیلی ماں کا ایک سال کا بیٹا جس کا نام اس کے باپ نے احمد رکھا تھا، وہ ابھی زندہ تھا۔

بظاہر یہ ایک سالہ بچہ سلطان محمد ثانی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن سلطان یہ سیکھ چکا تھا کہ اگر سرخ سیب حاصل کرنا ہے تو امن و امان ہر صورت میں برقرار رکھنا ہو گا چاہے کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔ یہ ایک سالہ بچہ اسی وقت نہیں تو مستقبل میں اس کے نزدیک ایک پوٹینشل تھریٹ بہرحال تھا۔ چنانچہ عین اس وقت جب اس کی سربین سوتیلی ماں سلطان کو تخت نشینی کی مبارک باد دے رہی تھی۔

سلطان کے حکم پر ایک ملازم ایک سالہ احمد کو حوض میں ڈبو رہا تھا۔ اگلے روز سلطان نے اس ملازم کو بھی احمد کے قتل کے الزام میں قتل کروا دیا۔ پھر محمد ثانی نے ایک سالہ احمد کی ماں کی شادی ایک ترک سردار سے کر کے اسے دارالحکومت سے باہر بھیج دیا۔

سلطان محمد ثانی ہی سلطنت عثمانیہ کا وہ سلطان تھا جس نے یہ قانون بنا دیا تھا۔ کہ اس کے بعد اس کے بیٹوں میں سے جو تخت پر بیٹھے گا۔ اس کیلئے لازمی ہو گا کہ وہ تخت کے دوسرے وارثوں یعنی اپنے بھائیوں کو قتل کر دے۔ تاکہ ریاست میں امن قائم رہے۔ جانشینی کے مسئلے کے علاوہ سلطان نے اردگرد کی ریاستوں سے بھی امن و امان قائم کر لیا تھا۔ یورپی طاقتوں ہنگری، وینس اور جنیوا سے امن اور تجارت کے معاہدے کر کے اس نے جنگ کا امکان ختم کر دیا۔

یوں سلطان محمد ثانی نے سلطنت میں امن کا پہلا چیلنج کامیابی سے پورا کر لیا تھا۔ اب اسے دوسری شرط پوری کرنا تھی یعنی ایک ایسی طاقتور توپ تلاش کرنا تھی یا بنوانا تھی۔ جو قسطنطنیہ کی دیواریں توڑ کر سلطانی فوج کو شہر میں داخل کر سکے۔ پندرہویں صدی کے شروع میں جو توپیں بن رہی تھیں۔ ان میں ایک مسئلہ تھا کہ ان کے گولے تارکول، سالٹ پیٹر اور سلفر سے تیار کئے جاتے تھے۔ ان ساری چیزوں کو میدان جنگ میں ہی مکس کر کے توپ میں بھرا جاتا تھا۔ اور جب فائر کیا جاتا تو یہ گولہ ٹارگٹ پر گرنے کے بعد دھماکے سے پھٹتا نہیں تھا آہستہ آہستہ جلتا رہتا تھا۔

جس کی وجہ سے ٹارگٹ کو زیادہ نقصان بھی نہیں پہنچتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سلطان ایک نئی اور بہتر توپ چاہتا تھا۔ اس کی خوش قسمتی کہ ان دنوں گولوں کی ٹیکنالوجی پہلے سے کافی بہتر ہو چکی تھی۔ یہ گولے گرتے یا دیوار سے ٹکراتے ہی دھماکے سے پھٹ جاتے تھے جس سے ٹارگٹ کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا تھا۔ گولوں کے ساتھ توپیں بھی اپ ڈیٹ ہو گئیں، یہ اب لوہے کے بجائے برونز سے بننے لگیں تھیں۔ جس سے خرچ تو زیادہ ہوا لیکن ڈیزائن بہتر ہو گیا تھا۔ اور برونز حاصل کرنا زیادہ مشکل بھی نہیں تھا۔

اس سلسلے میں سلطنت میں شامل بلقان کی ریاستوں سے فائدہ اٹھایا گیا۔ ان ریاستوں کے گرجا گھروں میں برونز ہی سے بنی منوں وزنی گھنٹیاں نصب تھیں۔ دیگر ذرائع کے علاوہ ان گھنٹیوں کو توڑ کر بھی توپوں کیلئے برونز حاصل کر لیا جاتا تھا۔ نئی توپیں سولہ فٹ تک لمبی اور ساڑھے سات سو پاؤنڈ وزنی گولے پھینک سکتی تھیں

لیکن سلطان کو اس سے بھی بڑی توپ چاہیے تھی، اتنی بڑی کہ اس کے کم سے کم گولوں میں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔ کیونکہ وہ کسی صورت ناکامی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ حالانکہ اس کا وزیراعظم خلیل پاشا اسے ڈرا رہا تھا کہ قسطنطنیہ پر حملہ نہ کیا جائے۔ ورنہ پورا یورپ عثمانیوں کے خلاف نئی صلیبی جنگ شروع کر سکتا ہے۔

وہ سلطان محمد کے قسطنطنیہ فتح کرنے کے خواب کو ایک جنونی نوجوان کی بیوقوفی سمجھتا تھا۔ لیکن سلطان اپنے اس خواب کو ہر صورت پورا کرنے کا عزم کر چکا تھا۔ اور اسے ضرورت تھی ایک توپ انجینئر کی۔ جو اس کی مرضی کی طاقتور توپیں تیار کر سکے۔

سلطان محمد ثانی جو سکندر اعظم کو اپنا آئیڈیل سمجھتا تھا وہ اس معاملے میں خود بھی مقدر کا سکندر ہی نکلا اور اس کی خواہش پوری ہو گئی۔ ہوا یوں کہ ہنگری سے ایک نوجوان انجینئر توپیں بنانے کی پیشکش لے کر قسطنطنیہ کے شہنشاہ کونسٹینٹائن الیون کے پاس آیا۔ اور اسے توپ سازی کی پیشکش کی۔ لیکن ان توپوں کے بدلے میں اوربن نے بہت بڑی تنخواہ اور انعام کا مطالبہ بھی کر دیا۔

قسطنطیہ کی مالی حالت ان دونوں بہت خراب تھی۔ قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ تھا اور خزانہ خالی۔ تو ایسے میں کونسٹینٹائن کو شہر کے دفاع سے زیادہ خزانہ بھرنے کی فکر تھی۔ ویسے بھی وہ عثمانیوں کے نوجوان سلطان کو کوئی خاص خطرہ نہیں سمجھتا تھا۔

بلکہ محمد ثانی کے حکمران بننے پر تو قسطنطنیہ سے لے کر فرانس تک یورپی حکمرانوں نے ایک دوسرے کو مبارکبادیں دی تھیں۔ کہ عالمی طاقت کے تخت پر ایک کمزور سلطان آن بیٹھا ہے۔ کونسٹینٹائن الیون چونکہ عثمانیوں سے کوئی فوری خطرہ محسوس نہیں کر رہا تھا۔ اس لئے اس نے ہنگیرین توپ انجینئر اوربن کو ٹال دیا اور محض بہلاوے کیلئے اس کی تھوڑی سی تنخواہ مقرر کر دی۔ تاکہ اتنا ماہر انجینئر کہیں اور نہ چلا جائے۔ لیکن باصلاحیت اوربن مطمئن نہیں ہوا۔ کیونکہ ایک تو تنخواہ اس کی صلاحیت سے بہت کم تھی۔

دوسرے وہ بھی وقت پر نہیں ملتی تھی تیسرے یہ کہ سرکاری کلرک اس معمولی تنخواہ میں بھی ڈنڈی مارتے تھے۔ چنانچہ اوربن نے وہی کیا جو اس وقت کے زیادہ تر یورپی نوجوان کر رہے تھے یعنی سلطنت عثمانیہ میں نوکری کا فیصلہ کر لیا۔ اسے چونکہ اپنی صلاحیت کا بہت زیادہ منافع چاہیے تھا اس لیے وہ سلطان کو ایسی پیشکش کرنا چاہتا تھا کہ سلطان محمد ثانی انکار نہ کر سکے۔ اسے معلوم تھا کہ سلطان قسطنطنیہ کی دیواریں توڑنے کیلئے بے قرار ہے۔

چنانچہ اس نے شہر کی دیواروں کا اچھی طرح سے جائزہ لیا اور پھر وہاں سے نکل کر ایک سو چالیس میل دور ایڈرین شہر میں سلطان محمد ثانی کے دربار میں پہنچا۔ جب سلطان کو بتایا گیا کہ ہنگری کا ایک انجینئر اوربن توپیں بنانے کی پیشکش لے کر آیا ہے۔ تو سلطان نے اسے فوری طلب کر لیا۔

سلطان خود بھی جنگی ٹیکنالوجی کی بہت زیادہ سمجھ رکھتا تھا۔ اس لئے اس نے اوربن سے چند ٹیکنیکل سوالوں کے بعد سیدھا سوال کیا کیا تم اتنی ایسی توپ بنا سکتے ہو جس سے قسطنطنیہ کی دیواریں گر جائیں اور اس کا گولہ اتنا بڑا ہو؟

سلطان نے ہاتھ کے اشارے سے گولے کا سائز سمجھایا۔ اوربن نے کئی ماہ اسی ایک سوال کی تیاری میں تو گزارے تھے۔ اس نے پرجوش آواز میں کہا ’’میں نے قسطنطنیہ کی دیواروں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میری توپیں اتنی طاقتور ہیں کہ قسطنطنیہ کی دیواریں تو ایک طرف۔۔۔

اگر بابل جیسی عظیم سلطنت کی دیواریں بھی راستے میں ہوں تو ملیا میٹ ہو جائیں گی۔‘‘ سلطان کو یہی جواب چاہیے تھا۔ اس نے اوربن کو اس کے مانگے ہوئے معاوضے سے بھی چار گنا زیادہ دینے کا وعدہ کیا۔ اور جلد سے جلد توپیں تیار کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔ تین ماہ بعد اوربن نے پہلی توپ تیار کر لی۔

اس توپ کو باسفورس کے ساحل پر ایک ترک قلعے رومیلی حضار میں بھیج دیا گیا۔ نومبر چودہ سو باون میں اس توپ سے فائر ہونے والے ایک گولے نے وینس کے ایک بحری جہاز کو ڈبو دیا۔ یہ جیاز قسطنطنیہ پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

وینس کا بحری جہاز ڈوبنے سے اوربن کی بنائی توپ کی طاقت ثابت ہو گئی تھی۔ سلطان اوربن سے خوش تھا اور اب اس نے اوربن کو حکم دیا کہ اب وہ اس سے بھی بڑی ایک سپر گن تیار کرے۔ سپر گن کی تیاری شروع ہو گئی۔

سپرگن کی تیاری کا مرحلہ سب سے دلچسپ تھا۔ اس کیلئے مٹی اور رسیوں کی مدد سے ایک ستائیس فٹ لمبا سانچہ تیار کیا گیا۔ اوربن نے اینٹوں اور پتھروں سے دو بڑی بھٹیاں تیار کیں جنہیں ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا جاتا تھا۔ اور ان کے چاروں طرف تارکول کی ایک پہاڑی سی بنا دی۔ یہ پہاڑی اتنی بلند تھی کہ اوپر سے جھانکنے پر بھٹیوں کا صرف دہانہ نظر آتا تھا۔

پھر بھی بھٹیوں کی تپش اتنی تھی کہ اوپر کھڑے شخص تک بھی پہنچتی تھی۔ جب اس بھٹی میں لکڑیاں ڈال کر آگ جلائی گئی تو وہاں کام کرنے والے تمام لوگ ایک جگہ جمع ہو کر اللہ اللہ پکارنے لگتے۔ تیاری کے آخری دنوں میں جب بھٹی میں ٹن ڈالا جانا تھا۔ اس دن سلطنت کے وزیروں، مفتیوں اور شیوخ کو بلایا گیا تاکہ ان کی موجودگی سے برکت رہے۔ ان کے علاوہ کسی شخص کو بھٹیوں کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی۔

تاکہ نئے ہتھیار کو کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ بھٹیوں کے عملے کے علاوہ صرف چالیس لوگ وہاں موجود تھے۔ علماء اور وزیر بھٹیوں سے سو فٹ کی دوری پر بیٹھ گئے اور مسلسل خدا کی بڑائی بیان کرنے لگے۔ بھٹیوں کے نگرانوں نے وزیروں اور علماء سے کہا کہ وہ صدقے کے طور پر سونے اور چاندی کے سکے بھی بھٹیوں میں ڈال دیں۔ انھوں نے سونے اور چاندے کے سکے دیئے جنہیں بھٹی کے اندر جلتے ہوئے مواد میں مکس کر دیا گیا۔

آخر اس بھٹی سے ستائیس فٹ لمبی کانسی کی توپ تیار ہوئی جس کا دہانہ تیس انچ کا تھا۔ یہ وہی سائز تھا جو سلطان نے اوربن کو بتایا تھا۔ یعنی سلطان کی مرضی کی توپ تیار ہو چکی تھی۔ اب مرحلہ تھا اسے ٹیسٹ کرنے کا۔ اس توپ کو جنوری چودہ سو تریپن میں ٹیسٹ فائر کیلئے نکالا گیا۔ شہر کے لوگوں کو ایک دن پہلے خبردار کر دیا گیا تھا کہ کل ایک ایسا دھماکہ ہو گا۔ جس سے لگے گا کہ بادل گرج رہے ہیں اس لیے خبردار رہیں اور پریشان نہ ہوں۔

یہ منادی بھی شہر میں کروائی گئی کہ دھماکے کی آواز سے حاملہ عورتوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ توپ کو شہر کے گیٹ کے پاس لایا گیا۔ کئی لوگوں نے مل کر پتھر کا گولہ توپ میں فکس کیا۔ پھر ایک موم بتی کے ذریعے توپ کے پیندے میں موجود بارود کو آگ دکھائی گئی۔ ایک کان پھاڑ دینے والے دھماکے کے ساتھ گولہ توپ سے نکلا اور ایک میل دور جا کر گرا۔

گولہ گرنے کی جگہ پر چھے فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔ یہ تجربہ کامیاب رہا تھا۔ دھماکے کی آواز دس میل تک سنی گئی تھی۔ سلطان نے اس کامیاب تجربے کی خبریں جان بوجھ کر قسطنطنیہ تک پہنچائیں تاکہ وہاں کے محافظوں اور شہنشاہ کا مورال گر جائے۔ اس تجربے کے بعد بھی اوربن کی بھٹی میں مزید توپیں بنتی رہیں۔ لیکن بعد میں بننے والی کوئی بھی توپ سپر گن جتنی بڑی نہیں تھی۔

ان کا عمومی سائز چودہ فٹ سے کچھ زیادہ ہوتا تھا۔ اوربن نے ایسی ساٹھ سے زائد توپیں بنا ڈالیں۔ اب سلطنت میں امن و امان بھی تھا اور توپیں بھی تیار ہو چکی تھیں۔ یعنی قسطنطنیہ پر حملے کی دونوں شرائط سلطان محمد ثانی کے نزدیک پوری ہو چکی تھیں۔

جنگ میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ تو سلطان نے یہ کیا کہ ترکوں کے قبائلی رواج کے مطابق گھوڑے کی دم سے بنا ہوا اپنا پرچم محل کے صحن میں گاڑ دیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ سلطان جنگ شروع کرنے جا رہا ہے۔ پرچم گاڑنے کے ساتھ ہی ساری سلطنت میں قاصد دوڑا دیئے گئے اور تمام امیروں کو حکم دیا گیا کہ وہ فوجیں لے کر ایڈرین پہنچیں۔ جنگ کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہر امیر کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ سپاہی ساتھ لائے۔

ان سپاہیوں کے ہتھیاروں، زرہ بکتر اور سواری کا بندوبست بھی اسی امیر کو کرنا ہوتا تھا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے چودہ سو ترپن کے موسم بہار تک دو لاکھ کا لشکر جمع ہو گیا۔ جس میں ایک سو اسی بحری جنگی جہازوں کا طاقتور بیڑہ بھی شامل تھا۔ قسطننیہ ایک ہزار سال پہلے رومی شہنشاہ کونسٹنٹائن نے آباد کیا تھا اپنے دارالحکومت کے طور پر۔ اور تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ جب اس شہر کی دیواروں کو ملیامیٹ کر دینے کے لیے ایک آخری لشکر تیار ہو رہا تھا۔

اس وقت کے شہنشاہ کا نام بھی کونسٹنٹائن ہی تھا، کونسٹٹائن الیون۔ اس آخری شہنشاہ کے پاس نہ تو سلطان محمد ثانی جیسی توپیں تھیں اور نہ ہی 2 لاکھ کا لشکر۔ لیکن مسلم اور غیر مسلم دونوں کی کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ ایک بہادر آدمی تھا۔ آخری سانس تک لڑنے والا شہنشاہ تھا۔

لیکن ظاہر ہے صرف بہادری توپوں اور بڑے لشکروں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے لیے حققی وسائل چاہیے تھے۔ تو ایسے ہی وسئلے پر اسے بہت بھروسہ تھا۔ یہ ایسی چیز تھی جس کا توڑ نہ تو عثمانیوں کی توپوں کے پاس تھا اور نہ ہی دو لاکھ کے لشکر کے پاس۔ یہ کیا چیز تھی جس پر انتہائی کمزور شہنشاہ کو سب سے زیادہ بھروسہ تھا؟

یہ بات ہم آپ کو ابھی نہیں اگلی قسط میں دکھائیں گے۔

 

No comments:

Post a Comment