Saturday, February 19, 2022

The Ottoman Empire ( part 3) سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال حصہ سوم

سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال حصہ سوم 
سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال حصہ سوم


ہم تھے اس پانچ سو تیس کلومیٹر طویل پہاڑی سلسلے پر جسے بلقان مونٹین رینج یا سلسلہ کوہ بلقان کہتے ہیں۔ اس سلسلے کے نیچے ایک تکون سی بنتی ہے جس کے تینوں کناروں پر سمندر ہے۔

اس تکون کو بلقان پیننسولا کہتے ہیں۔ تیرہ سو ستر کے قریب عثمانی ترکوں نے اسی ایریا سے غلاموں کی ایک ایسی فوج

 تیار کرنا شروع کی۔ جو اگلے پانچ سو سال تک عثمانی فوج کا سب سے طاقتور حصہ رہی۔ یہ فوج کیسے تیار کی گئی؟ اور 

تاریخ کی عجیب و غریب جنگ کون سی تھی۔۔۔

جس میں آٹھ سو کے ایک چھوٹے سے دستے نے پچاس ہزار کے لشکر کو شکست دے دی۔ مگر کیسے شکست دی؟

سلطنت عثمانیہ کا مقابلہ جس رومی اور یورپین آرمی سے تھا وہ بہت تربیت یافتہ اور منظم فوج تھی۔

جبکہ ترکوں کے پاس اس کے مقابلے کے لیے طاقت اور جذبہ تو تھا لیکن وہ ڈسپلن نہیں تھا۔ جو انھیں دیر تک یورپ کی 

طاقتور ریاستوں اور بازنٹائن ایمپائر کے مقابلے میں کھڑا رکھ سکے۔ سو سلطان کو اپنی فوج مضبوط بنانا تھی اور ساتھ میں 

ایک ایسی ایلیٹ فورس بھی تیار کرنا تھی۔ جو اس کی ذاتی محافظ ہو اور اس لیول کی ٹرینڈ ہو کہ کوئی دوسری فوج اس کا 

مقابلہ نہ کر سکے۔ یہ فوج ترکوں کے اندر سے بہترین مسلمان نوجوان جمع کر کے بھی تیار کی جا سکتی تھی۔

لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا۔

وہ یہ کہ سلطنت عثمانیہ میں موجود ترکوں پر عثمانی ترک اعتبار نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ ترکوں کی پہلی وفاداری اپنے 

قبیلے اور خاندان کے ساتھ ہوتی تھی اور یہ کسی بھی وقت پرانی وفاداری پر واپس جا سکتے تھے۔ سلطان کو چیلنج کر 

سکتے تھے، اپنے قبیلے کے لیے خبریں لیک بھی کر سکتے تھے۔ تو نئی فوج کے لیے ایسے نوجوان چاہیے تھے جو ہر 

طرح کے شک و شبے سے بالاتر ہوں۔ تو سلطان مراد نے بلقان کے اس علاقے سے عیسائی بچوں کو بھرتی کرنا شروع 

کیا۔ وہ یوں کہ یہاں موجود عیسائی خاندان جو اب عثمانیوں کی رعایا تھے ان پر لازم تھا کہ وہ گھر کا ایک بیٹا سلطان کی 

ایلیٹ فورس کے لیے وقف کریں۔

چنانچہ سالانہ لیویز کے طور آٹھ سے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کو بلقان کے عیسائی گھرانوں سے لیا جاتا۔ انھیں سمندر 

پار اناطولیہ کے ریجن میں لا کر پالا جاتا۔ انھیں ترک زبان اور کلچر سکھایا جاتا، انھیں اسلام قبول کروایا جاتا ان کی آٹھ سال 

تک زبردست جنگی تربیت ہوتی۔ اس دوران یہ بچے ایک ماڈرن ایلٹ سولجر میں ڈھل چکے ہوتے تھے۔


پھر انھیں مختلف شعبوں کے سپیشلسٹ بنایا جاتا۔ جیسے تیر اندازی، گھڑسواری اور موسیقی وغیرہ۔ ان کی تنخواہ اور 

مراعات فوج میں کسی بھی دوسرے عہدے سے بہتر ہوتی تھیں۔ اس فوج کو ینی چیری یا جینسری کہتے تھے۔


جس کا مطلب ہے نئی فوج۔

یہ انتہائی منظم اور باوقار فوج تھی۔ اور کیوں نہ ہوتی؟ کیونکہ اس میں کسی بھی بدعہدی کی کم از کم سزا، سزائے موت تھی۔

جینسری، سلطان کے ذاتی غلاموں کی فوج تھی، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غلاموں کی جو معروف شکل ہمارے ذہن 

میں آتی ہے یہ اسی طرح کے غلام تھے۔ بلکہ یوں تھا کہ ان کے حقوق عام غلاموں سے کہیں زیادہ تھے

یہاں تک کہ انھیں ان کی خدمات کا معاوضہ بھی باقیوں سے بہتر ملتا تھا۔ تو یہ وہ فوج تھی جسے سلطنت عثمانیہ کے لشکر 

کی سب سے بڑی طاقت بننا تھا۔ جس نے قسطنطنیہ فتح کرنا تھا۔ جس نے آنے والے دنوں میں کئی سلطانوں کی قسمت کا 

فیصلہ بھی کرنا تھا اور جس نے صدیوں بعد ایک تاریخی بغاوت بھی کرنا تھی۔ شروع میں عیسائی والدین بہت دکھی ہوتے 

تھے کہ ان کے بچوں کو ان سے چھینا جا رہا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے جینیسری آرمی کا 

اثرورسوخ اور شان و شوکت سامنے آتی گئی۔ والدین خوشی سے اپنے بچوں کو اس کا حصہ بنانے کے لیے بھیجنے لگے


کیونکہ شاہی دربار میں سلطنت کے انتہائی مرکز میں اثرورسوخ بڑھ جاتا تھا۔ اب تیرہ سو ستر میں سلطنت عثمانیہ میں ایک 

طاقتور فوج بھی بن رہی تھی۔ اور ساتھ میں سلطان مراد اول عثمانیوں کی غازہ کی روایت کو بھی آگے بڑھا رہا تھا۔ غازہ یعنی 

عیسائی علاقوں پر قبضے کے لیے جہاد کرنا اور اسلامی سلطنت کو وسعت دینا۔

یہ جہاد اب سمندر پار یورپ میں ہونا تھا لیکن سلطنت عثمانیہ کا مرکز ابھی بروصہ ہی میں تھا یعنی اناطولیہ میں۔ سمندر پار 

لشکروں کی رہنمائی کے لیے ضروری تھا کہ وہاں بھی ایک فوجی مرکز ہو جہاں سلطان وقت ٹھہرے اور یورپ میں غازہ کی 

خود قیادت کرے۔ سو سلطان مراد اول نے یورپ کا اہم شہر ایڈرین فتح کیا اور اسے سلطنت عثمانیہ کا نیا دارلحکومت بنا 

دیا۔ سلطان خود کبھی اناطولیہ اور کبھی یورپ میں ہوتا لیکن ایڈرین پر اس کا استاد لالاشاہین پاشا بطور گورنر خدمات سرانجام 

دیتا رہتا۔

لالا، کا لفظ ترک اپنے اتالیق یا ٹیوٹر کو عزت دینے کے لیے استعمال کرتے تھے تو لالا شاہین پاشا اس کا ٹیوٹر رہا 

تھا۔ عثمانیوں کے یورپ میں داخل ہونے اور ایڈرین پر قبضے کی وجہ سے یورپی عیسائی بہت پریشان تھے۔ اور کیوں نہ 

ہوتے ان کی آزادی ختم ہو رہی تھی۔ اور خاص طور پر سربین ایمپائر کا شہنشاہ خوش نہیں تھا۔ کیونکہ ایڈرین شہر اس کی 

سرحد کے بالکل ساتھ ہی تھا۔

اسے خطرہ تھا کہ اگر عثمانی ترک یہاں تک آ گئے ہیں تو انھیں آگے آنے سے کون روکے گا۔ سو اس نے اس خطرے کو 

شروع ہی میں ختم کرنے کا ارادہ کیا اور موقعے کی تلاش میں رہنے لگا۔ جہاں چاہ وہاں راہ۔ تو یہ موقع اسے جلد ہی مل گیا۔


ہوا یوں کہ تیرہ سو اکہتر میں سلطان مراد اول نئے درالحکومت ایڈرین میں موجود نہیں تھا۔ وہ اپنی زیادہ تر فوج اور ذاتی 

غلاموں یعنی جینیسری کے ساتھ درہ دانیال کے پار اناطولیہ میں تھا۔ جہاں وہ سلطنت کے اندر موجود کچھ بغاوتوں کو کچلنے 

میں مصروف تھا۔ ایڈرین شہر میں گورنر شاہین پاشا اور ایک ہزار کے لگ بھگ فوج موجود تھی۔

سربین شہنشاہ نے اس موقعے کو غنیمت جانا۔۔۔

اور 50 ہزار سپاہ پر مشتمل ایک بڑا لشکر مقابلے کے لیے تیار کر لیا۔ یہ عمارتوں کے درمیان گھرا خوبصورت دریا جو آپ 

دیکھ رہے ہیں، یہ دریا موریٹسا ہے۔ تقریباً سات صدیوں قبل تیرہ سو اکہتر میں اسی دریا کے کنارے پر سربوں کی ایک بڑی 

فوج خیمہ زن تھی۔ اور عثمانی ترکوں پر کاری وار کے لیے تیار کھڑی تھی۔ لیکن ۔۔۔ لالا شاہین پاشا جو صرف گورنر ہی نہیں 

بلکہ ترکوں کا ماہر ترین جرنیل تھا۔

اسے یہ خبر مل گئی کہ سربین لشکر تیار کر کے ایڈرین پر حملہ کرنے والا ہے ۔ جنگوں میں سب سے بڑا ہتھیار ایٹم بم ہوتا 

ہے۔ نہیں۔۔۔ فوج کی تعداد ہوتی ہے۔ یہ بھی نہیں۔۔۔ جنگوں میں اصل طاقت ور ہتھیار انفارمیشن ہوتی ہے۔ خفیہ معلومات، جو کہ 

جاسوس لاتے ہیں۔

تو شاہین پاشا کے جاسوسوں نےا سے بتا دیا تھا کہ رات میں سرب فوج ایک جشن منا رہی ہے جس کے بعد عثمانیوں پر حملہ 

کیا جائے گا۔ پاشا نے اسی موقعے کو غنیمت جانا اور خاموشی سے آٹھ سو جانبازوں کے ساتھ دریا کے قریب چھپ کر بیٹھ 

گیا۔ رات کے وقت جب سربین لشکر جشن منا کر تھکن اتار رہا تھا تو اچانک آٹھ سو ترکوں نے سربوں پر حملہ کر دیا۔ اب 

آدھے سوئے اور آدھے نشے میں مست سربین لشکر کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ حملہ آوروں کی تعداد ایک ہزار 

سے بھی کم ہے۔

بے خبر لشکر نے اسے ایک بڑا حملہ سمجھا اور پھر جس کا جدھر منہ اٹھا بھاگ نکلا۔ اب نقشہ کچھ یوں تھا کہ سربوں کے 

ایک طرف دریا اور ایک طرف ترکوں کی شکل میں موت تھی۔ عیسائی لشکر دریا کی طرف بھاگا۔ لیکن اس بھاگنے بھاگنے میں 

بھی ہزاروں سربین قتل ہو گئے۔ یہ جنگ چونکہ دریائے موریٹسا کے کنارے ہوئی تھی اس لیے اسی بیٹل آف موریٹسا کے نام 

سے یاد کیا جاتا ہے۔ موریٹسا کی اس تاریخی جنگ میں سربین اتنی بڑی تعداد میں قتل ہوئے کہ دریا کا پانی سرخ ہو گیا۔

ترکوں کی تاریخ میں یہ ایک ڈیسائیسو بیٹل تھی۔


یہ تاریخ کی ان چند حیران کن جنگوں میں سے ایک تھی۔ جس میں انتہائی چھوٹے لشکر نے خود سے بہت بڑے لشکر کو 

صرف جنگی مہارت کی بنا پر شکست فاش دی۔ بیٹل آف موریٹسا کو تاریخ میں سربوں کی عظیم تباہی کے نام سے بھی یاد کیا 

جاتا ہے۔ جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سرب جو عثمانیوں کو شکست دینے آئے تھے اپنا علاقہ بھی ہار بیٹھے۔ سربین ایمپائر جو 

ایک بہت بڑی سلطنت تھی، کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ اور یہ ٹکڑے آٹومن ایمپائر کی برتری تسلیم کرنے لگے، یعنی اسے خراج 

دینے لگے۔ سربوں کی عظیم تباہی اور عثمانی ترکوں کا یورپ کی اہم ترین سلطنت، سربیا کو شکست فاش دینا یورپ کی 

عیسائی ریاستوں کے لیے موت کا پیغام تھا۔

کیونکہ انھوں نے یورپی ملک سپین میں مسلمانوں کی آٹھ صدیوں تک پھیلی سلنطت غرناطہ اور اندلس دیکھی تھی۔ جسے وہ 

پوری طاقت کے باوجود بیٹل آف موریٹسا کے وقت تک پوری طرح ختم نہیں کر سکے تھے۔ سپین میں مسلمانوں کی حکومت 

غرناطہ کی شکل میں تھوڑے سے علاقے میں اس وقت بھی قائم تھی۔ یعنی عیسائیوں کے نزدیک یورپ میں مسلمانوں کی ایک 

سلطنت ختم ہو رہی تھی تو دوسری جنم بھی لے رہی تھی۔ ایسے میں اس سلطنت، یعنی سلطنت عثمانیہ کے مقابلے کے لیے 

یورپ کے عیسائی اکٹھے ہو گئے۔ عیسائیوں کے سب سے بڑے روحانی پیشوا پوپ نے یورپ بھر میں عیسائیوں کو آٹومن 

ایمپائر کے مقابلے میں متحد کرنا شروع کر دیا۔

یعنی ایک اور صلیبی جنگ کی ابتدا ہونے جا رہی تھی۔

اس سے پہلے بیت المقدس کے لیے مسلمانوں اور یورپ کے عیسائیوں میں طویل صلیبی جنگیں ہو چکی تھیں جن میں 

مسلمان فاتح رہے تھے۔ اور اُس وقت، جس کی ہم بات کر رہے ہیں بیت المقدس پر مسلمانوں کی مملوک سلطنت کا راج 

تھا۔ ادھر عثمانی ترک بھی یورپی عیسائیوں کے خلاف جنگ کو جہاد کہتے تھے۔ اور یورپی بھی اسے مذہبی جنگ یعنی 

کروسیڈ ہی کا نام دیتے تھے۔ سو مذہب کے نام پر دونوں طرف طبل جنگ بجا دیا گیا۔


سلطنت عثمانیہ کی فوج متحد اور منظم تھی لیکن یورپ بکھرا ہوا تھا۔

اسے عثمانی ترکوں جیسی زبردست جنگی مہارت رکھنے والی فوج سے مقابلے کے لیے ایک لیڈر چاہیے تھے۔ جو کہ اس 

وقت یورپینز کے پاس نہیں تھا۔ لیکن پھر یہ لیڈر انھیں سربیہ کی ٹوٹی ہوئی ریاست کے ایک کنارے سے مل گیا۔ یہ ایک سرب 

شہزاد لازار تھا جس نے تیرہ سو اسی کی دہائی کے آخر میں ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ یعنی انھیں وہ جزیہ جو وہ بیٹل 

آف موریٹسا کے بعد سے ادا کر رہے تھے، وہ دینے سے انکار کر دیا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ ایک جھڑپ میں لازار نے عثمانی 

سپاہیوں کو ایک شکست بھی دے ڈالی۔ پرنس لازار کی اس فتح نے یورپ میں امید کی کرن جگا دی، انھیں اپنی آزادی واپس 

ملنے کی امید ہونے لگی۔ اسی دوران بلقان ہی میں بوسینیا نے بھی سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی اور ترکوں کے 

ایک دستے کو شکست دے ڈالی۔

ان دونوں فتوحات سے یورپی عیسائیوں کا مورال بلند ہو گیا۔ اور یورپ کو لگا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کو کم از کم یورپ سے تو 

باآسانی نکال باہر کر سکتے ہیں۔ سلسلہ کوہ بلقان کے نیچے پرنس لازار کے جھنڈے تلے اب وہ لشکر جمع ہونے لگا 

تھا۔ جسے عیسائی روحانی پیشوا پوپ کی بھی حمایت حاصل تھی۔

یہی نہیں بلکہ پوپ کی خاص فوج کے جنگجو یعنی نائٹس بھی اس فوج کا حصہ تھے۔ ایک لاکھ کا لشکر مذہبی نعرے کے 

نیچے آزادی کی جنگ لڑنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ اور پرنس لازار، جو یورپی عیسائیوں کا ہیرو بن چکا تھا اس کی قیادت کر رہا تھا۔

اس بار عثمانی ترک بھی غافل نہیں تھے۔

سربیوں اور بوسینیا سے دو چھوٹی لڑائیوں میں شکست کے بعد سلطان مراد اناطولیہ میں اپنے بیٹے یعقوب کو چھوڑ کر خود 

یورپی ہیڈکوارٹر ایڈرین واپس آ چکا تھا۔ سلطان مراد کی ذاتی فوج، جنیسری آرمی کے دو ہزار جوان اس کے ساتھ تھے۔

یکم اگست تیرہ سو نواسی کو یورپ میں ٹھیک اس جگہ جہاں آج کیچنکشہر ہے۔ سلطان مراد اول ساٹھ ہزار کا لشکر لیے، 

ایک لاکھ صلیبیوں کے سامنے کھڑا تھا۔ اس لڑائی کو جنگ کوسوو کہتے ہیں۔

یورپ میں عثمانیوں کے لیے یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔ سلطان مراد کے لشکر میں اس کا بیٹا بایزید بھی ایک حصے کی 

قیادت کر رہا تھا۔ جبکہ مرکز میں سلطان خود اپنی انتہائی تربیت یافتہ فوج کے گھیرے میں موجود تھا۔ جنگ شروع ہوئی تو 

عیسائیوں کا پلڑا آغاز میں بھاری رہا۔ انہوں نے عثمانیوں کے لشکر کے ایک حصے کو پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔ عثمانیوں 

کے پاؤں لڑکھڑانے کے قریب تھے کہ سلطان مراد نے ایک بہت دلیرانہ فیصلہ کیا۔

اس نے اپنے بہترین سپاہیوں کو جو اس کے محافظ بھی تھے، لڑںے کے لیے آگے بھیج دیا اور خود تنہا پیچھے رہ گیا۔ یہ 

ایک خطرناک ترین چال تھی، ایک بہت بڑا رسک تھا۔

سلطان مارا بھی جا سکتا تھا اور اس کے مارے جانے سے عثمانی یہ جنگ ہار بھی سکتے تھے۔ اور پھر دیکھئے کہ ہوا بھی 

یہی۔ ایک عیسائی نائٹ کسی طرح سلطان تک جا پہنچا اور اس نے خنجر کے وار سے سلطان مراد کو قتل کر دیا۔ قسمت کا ستم 

دیکھئے کہ ادھر سلطان مراد میدان جنگ میں جان سے گیا۔

تو دوسری طرف صلیبیوں کا سالار، پرنس لازار بھی لڑتے ہوئے میدان جنگ میں مارا گیا۔ اب ایک طرف لازار کا بیٹا اور 

دوسری طرف سلطان مراد کا بیٹا بایزید، اپنے اپنے لشکر کی قیادت کرنے لگے۔ جنگ کی ہولناکی بڑھ چکی تھی اور لاشوں پر 

لاشیں گر رہی تھیں۔ لیکن ایسے میں ایک ناقابل یقین بات ہوئی۔ یورپی لشکر کے ایک اہم حصے نے پسپائی شروع کر دی، 

یعنی پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔

اس سے عیسائی لشکر کی کمر ٹوٹ گئی۔ ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ اس حصے کا سردار شروع ہی سے ترکوں کے ساتھ مل چکا 

تھا۔ ہو سکتا ہے مل چکا ہو، ہو سکتا ہے جنگ کو بے نتیجہ دیکھتے ہوئے اس سردار نے اپنی سپاہیوں کی جانیں بچانا زیادہ 

ضروری سمجھا ہو۔ لیکن جو بھی تھا، جنگ کوسوو یوں ختم ہوئی کہ دونوں فوجیں ہزاروں لاشیں اور اپنے اپنے سالار کی 

جانیں گنوا کر واپس چلی گئیں۔ بظاہر میدان جنگ میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا لیکن یہ ترکوں کی سٹریٹیجک وکٹری تھی۔ اس 

جنگ نے سربوں کو اتنا نقصان پہنچا دیا کہ انہوں نے عثمانیوں کے خلاف جدوجہد کا ارادہ ہی ختم کر دیا۔


بلکہ عثمانیوں کو خراج دے کر ان کی ویسل اسٹیٹ یا باجگزار ریاست بن گئے۔ صرف سربیا ہی نہیں بلکہ 1390 تک رومن 

بظنٹائن ایمپائر سمیت بلقان کا تقریباً سارا علاقہ سلطنت عثمانیہ کا باجگزار بن گیا۔ یہ عثمانیوں کو سالانہ خراج بھی دیتے 

تھے۔ اور ضرورت پڑنے پر لڑنے کے لیے سپاہی بھی فراہم کرنے کے پابند تھے۔ جنگ کووسو میں سلطان مراد اول کی جان 

تو چلی گئی۔ لیکن وہ اپنے جانشینوں کیلئے ایک لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل ایک بڑی سلطنت چھوڑ گیا تھا۔ یعنی اس نے 

اپنے بات سلطان اورحان سے ملی سلطنت کو تین گنا پھیلا دیا تھا۔ سلطنت تو پھیل چکی تھی لیکن سلطان مراد اب دنیا میں نہیں 

رہا تھا۔

اتنی بڑی عثمانی سلطنت کو فوری طور پر نیا سلطان چاہیے تھا۔ جنگ میں سلطان مراد اول کا ایک بیٹا بایزید موجود تھا۔ اسے 

اور دوسرے کچھ لوگوں کو علم تھا کہ سلطان مراد اول اب نہیں رہے۔ تو اس نے پہلا کام تو یہ کیا کہ اس خبر کو راز میں رکھا۔


اس کا دوسرا بھائی یعقوب اناطولیہ میں فوج جمع کر رہا تھا، جہاں اسے اس کے باپ ہی نے چھوڑا تھا۔ چنانچہ اسے جنگ 

کے حالات کی کچھ خبر نہیں تھی۔ سو بایزید نے اپنے چند وفاداروں کو اپنے بھائی یعقوب کے پیچھے بھیجا۔ اور ترکوں کی 

غیر اعلانیہ روایت کے مطابق یعقوب کو گلا دبا کر ہلاک کر دیا۔ صرف عثمانی ترکوں ہی میں نہیں بلکہ اس دور کی دوسری 

بادشاہتوں میں بھی یہی طریقہ رائج تھا۔


کہ ہر نیا بادشاہ، بادشاہت کے دوسرے امیدواروں سے جان چھڑانا پہلا فرض سمجھتا تھا۔ تا کہ ریاست میں آرڈر کو برقرار 

رکھا جا سکے۔ کیونکہ جب تک سلطانی کے دوسرے دعوے دار بھی رہیں گے محلاتی سازشیں بند نہیں ہوں گی۔ تو اسی 

مفروضے کے تحت ہر نیا سلطان بھی اپنے بھائیوں سمیت ہر متوقع امیدوار کو گلا دبا کر ہلاک کروا دیتا تھا۔


اب بایزید، سلطنت عثمانیہ کا نیا سلطان بن چکا تھا اور اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صلیبی جنگیں نہیں تھیں۔ بلکہ خود 

اس کے اپنے ترک قبیلے اور ان کا سب سے بڑا مددگار ۔۔۔ امیر تیمور اصل چیلنج تھے۔ امیر تیمور نے کس طرح سلطنت 

عثمانیہ کو گھٹںے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور ایسا کیوں ہوا کہ ایک سلطنت جو کل تک رومیوں سے جزیہ لیتی تھی اسے 

جزیہ دینا پڑ گیا؟

 یہ سب ٓاپ پڑھے  گے لیکن سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کی اگلی قسط میں ۔۔۔

اگر اپ سلطنت عثمانیہ  کا حصہاول  پڑھنا چاھتے ہو تو ادھر کلک کریں

عظیم الشان سلطنت کی داستان کا پہلا حصہ ’’خوابوں کے بیج‘‘ 

اگر اپ سلطنت عثمانیہ  کا حصہ  دوم پڑھنا چاھتے ہو تو ادھر کلک کریں

No comments:

Post a Comment