Tuesday, February 15, 2022

The Ottoman Empire ( part 2)

 The Ottoman Empire ( part 2) 

The Ottoman Empire ( part 2)

سلطنت عثمانیہ کا عروج و زوال پاڑٹ ٹو

تو کہاں تھے ہم۔۔۔ ہم تھے بروصہ کے پاس جہاں عثمانی ترک سلطنت کے بانی عثمان غازی کا بیٹا سلطان اورحان تخت نشین ہو چکا تھا۔ فورٹینتھ سنچری چوھدویں صدی میں اناطولیہ میں صورتحال یہ تھی کہ کئی چھوٹی بڑی ریاستیں ایک دوسرے کے مقابلے پر تھیں۔ ہر ایک کے پاس صرف دو چوائسز تھی، ایک یہ کہ وہ اپنے ارگرد کی ریاستوں پر قبضہ کر لے۔

دوسری کہ خود کسی بڑی ریاست کے قبضے میں آ کر ختم ہو جائے۔ یہی چیلنج اورحان کو بھی درپیش تھا اور وہ بھی دو اطرف سے۔ ایک مشرق میں اپنے ہم مذہب ہم قوم مسلمان ترکوں سے۔ جن کی دو طاقتور ریاستیں کیراسی اور قرمانیہ وجود میں آ چکی تھیں۔ اور ان ریاستوں کو خاص طور پر قرمانیہ کو مسلمانوں کی اس وقت کی سب سے بڑی حکومت، مملوک سلطنت کی بھی حمایت حاصل تھی۔

مملوک سلطنت اس وقت آج کے اسرائیل، فلسطین، سعودی عرب اور مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ تو اورحان کا ایک چیلنج ہو گیا مسلم ترک ریاستیں جو مشرق اور جنوب میں تھیں

اور دوسرا چیلنج، رومیوں کی بیظنٹائن ایمپائر جو مغرب میں تھی، بہت طاقتور تھی، یورپ کے ممالک اور عیسائی اس کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ جس وقت کی ہم بات کر رہے ہیں اس وقت سلطان اورحان عملاً ان دونوں سے حالت جنگ میں بھی تھا۔

تو پھر یہ کیسے ہوا کہ ایک سلطنت جو دونوں طرف سے دشمنوں سے گھری ہوئی تھی اس نے رومیوں کو دونوں طرف سے گھیر لیا تو اناطولیہ سے بازنطینی سلطنت کا اقتدار بڑی حد تک ختم ہو چکا تھا۔

لیکن اناطولیہ کے شمالی علاقے بیتھینیا میں اب بھی کئی چھوٹے چھوٹے شہر اور قلعے ان کے قبضے میں تھے۔ اورحان سلطان ان شہروں پر بھی قبضہ کرنا چاہتا تھا تا کہ رومیوں کا اناطولیہ سے مکمل صفایہ کر کے اپنی سلطنت کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔

سو اس نے بیتھینیا کے ان شہروں کو گھیرنا شروع کر دیا۔ اناطولیہ کے اس علاقے بیتھینا میں رومی قلعوں کے محاصرے شروع ہو گئے۔ جب بازنطینی شہنشاہ کو اس کی خبر ملی کہ اس کے رہے سہے قلعے بھی عثمانی ترک ہتھیا رہے ہیں تو اس نے اپنے شہروں کے تحفظ کے لیے لشکر تیار کرنا شروع کیا۔

تیرہ سو اٹھائیس، تھرٹین ٹونٹی ایٹ میں۔۔ وہ چار ہزار سپاہیوں کی ایک فوج لے کر اپنے گھیرے میں آئے شہروں کی مدد کیلئے نکل پڑا۔

جب رومی شہنشاہ فوج لے کر نکلا تو ہر طرف خبر پھیل گئی کہ شہنشاہ خود فوج لے کر عثمانیوں کے مقابلے کے لیے آ رہا ہے۔ ایسا چونکہ پہلی بار ہو رہا تھا کوئی رومی شہنشاہ عثمانیوں کے مقابلے میں خود لشکر کی قیادت کر رہا ہو، اس لیے خبر چار سو پھیل گئی۔

سلطان اورحان کو بھی علم ہو گیا۔ سو وہ بھی لشکر لے کر رومی شہنشاہ کو راستے ہی میں روکنے کے لیے چل پڑا۔ وہ نیکومیڈیا شہر جسے اب ازمیت یا ازمت بھی کہا جاتا ہے کے قریب مالٹیپے کے علاقے میں ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں اسے سٹریٹیجک ایڈوانٹیج حاصل تھا۔

یہ ایک اونچی پہاڑی تھی جہاں سے رومی شہنشاہ کا لشکر آتے ہوئے دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔ ترکی گھڑ سوار جو دوڑتے گھوڑوں سے تیراندازی کے ماہر تھے، رومی شہنشاہ کے راستے میں ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گئے۔ جب رومی لشکر اپنے شہنشاہ کی قیادت میں وہاں پہنچا تو گھات میں بیٹھے گھڑسوار تیر اندازوں نے خوفناک حملہ کر دیا۔

رومی فوج میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس پر مزید یہ کہ پھر وہی ہو گیا جو اس سے پہلے ایک رومی شہنشاہ کے ساتھ ہو چکا تھا۔ یعنی شہنشاہ کے مرنے کی افواہ پھیل گئی یا پھیلا دی گئی۔

یہ خبر سچ نہیں تھی مگر اس سے رومیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور عیسائی لشکر قسطنطنیہ کے قلعے کی طرف واپس بھاگ گیا۔ شہنشاہ بھی کسی نہ کسی طرح جان بچا کر واپس قسطنطنیہ پہنچ گیا۔ عام حالات میں تو یہ ایک جھڑپ کی شکست تھی۔ کوئی باقاعدہ جنگ یا مہم جوئی نہیں تھی لیکن اس ہار نے رومیوں پر خوفناک نفسیاتی اثر ڈالا۔

رومی فوج اور عوام عثمانیوں کو ایک معمولی قبائلی گروہ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ اور خود کو وہ دنیا کی بہترین تریبت یافتہ منظم فوج سمجھتے تھے جو کہ وہ تھے بھی۔ ظاہر ہے سلطنت روم کی ایک ہزار سالہ شاندار تاریخ اس بات کی گواہ بھی تھی۔ سو اتنی بڑے زعم سے آنے والا رومی لشکر جب اپنے شہنشاہ کی موجودگی میں عثمانیوں سے ہارا تو یہ ان کے لیے اعصاب شکن ثابت ہوا۔

اس ہار سے وہ اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ انھوں نے اناطولیہ میں موجود اپنے ہی ان شہروں یا قلعوں کو سپلائی تک پہنچانا چھوڑ دی جن کے اندر خود ان کی اپنی فوج موجود تھی اور ان کا گھیرا عثمانی افوج کر چکی تھیں۔ تو ظاہر ہے اب گھیرے میں آئی فوج، جسے باہر سے بھی کسی مدد کی امید نہ ہو کب تک مقابلہ کر سکتی تھی۔

ایک ایک کر کے بتھینیا کے سب قابل ذکر علاقے عثمانی ترکوں کے قبضے میں آ گئے۔ عثمانیوں کی اس فتح نے جہاں رومیوں کے حوصلے توڑے وہیں اس نے ایک اور کام بھی کیا۔ وہ یہ کہ رومیوں کے ایک بہت اہم جرنیل کانٹیکازینس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ عثمانی فوج کتنی زبردست لڑاکا فورس ہے۔

اس نے ایک شاطر انسان کی طرح عثمانیوں سے لڑنے کے بجائے انھیں اپنی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس لیے کہ کانٹیکازینس خود شہنشاہ بننا چاہتا تھا۔ لیکن ظاہر ہے وہ نہ بادشاہ کا بیٹا تھا نہ بھائی۔ اگر اسے خود بادشاہ بننا تھا تو اسے بغاوت کرنا تھی۔ جس کے لیے اسے قسطنطنیہ کے قلعے کے اندر بھی اپنی حمایت میں فوج چاہیے تھی جو کہ اس کے پاس موجود تھی۔ اور باہر سے بھی مدد چاہیے تھی تا کہ جب اندر لڑائی ہو رہی ہو تو باہر سے کوئی اس کے خلاف لشکر لے کر نہ آ جائے۔

یہ مددگار اس کی نظر میں عثمانی ترکوں سے بہتر کوئی اور نہیں ہو سکتے تھے۔ سو اس نے عثمانی سلطان اورحان غازی سے خفیہ رابطے شروع کر دئیے۔ یعنی اب ترکوں کے سب سے بڑے دشمن، رومن باظنٹائن ایمپائر کا سب سے اہم جرنیل ترک سلطان سے مل چکا تھا۔ اس نے سلطان اورحان سے مدد کی درخواست کی اور بدلے میں بہت سے پرکشش فائدے دینے کا وعدہ کیا جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اگر سلطان اس کی مدد کرنے کا وعدہ کرے تو وہ اپنی بیٹی سے کی شادی اس سے کر دے گا۔

سلطان نے یہ پیش کش قبول کر لی۔ اس گٹھ جوڑ کا امتحان کچھ ہی دیر میں شروع ہو گیا۔ ہوا یوں کہ تیرہ سو اکتالیس میں جب رومی شہنشاہ کا انتقال ہوا اور اس کی جگہ اس کا نو سالہ بیٹا جان فائیو تخت پر بٹھایا گیا تو اِسی جرنیل کانٹیکازینس نے بغاوت کر دی۔ اس نے مطالبہ کیا کہ اسے بھی شریک شہنشاہ بنایا جائے ورنہ وہ اپنی ریاست سے جنگ کرے گا۔

ادھر نو سالہ شہنشاہ کو تو کچھ سمجھ نہیں تھی لیکن مدر کوئن، اس کی والدہ جو اس کی سرپرستی کر رہی تھی وہ سمجھ گئی کہ جرنیل کس بل بوتے پر یہ بغاوت کر رہا ہے۔ سو اس نے بھی ترکوں ہی کے ایک دوسرے انتہائی طاقتور دھڑے کیراسی سلطنت کی مدد مانگ لی۔ یہ اور بات ہے کہ کیراسیوں سے انہیں کوئی زیادہ مدد نہیں مل سکی۔

اب رومی سطلنت میں کھل کر خانہ جنگی ہوئی۔ جس میں ایک طرف عثمانی ترک اور رومی جرنیل کیٹاکیوزنس ایک ساتھ تھے۔ جبکہ دوسری طرف رومی شہنشاہ، سربیا اور بلغاریہ وغیرہ ایک ساتھ تھے۔ اور کیراسی ترک سلطنت بھی۔ چھے سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد کانٹیکازینس کو قسطنطنیہ کا شریک شہنشانہ بنا لیا گیا۔

یعنی وہ جنگ جیت گیا۔ لیکن اس خانہ جنگی نے بازنطینی سلطنت کے مزید ٹکڑے کر دیئے۔ سربیا آزاد ہو گیا۔ بلغاریہ نے تھریس کے کئی حصوں پر قبضہ کر لیا۔ اور بانطینی سلطنت صرف قسطنطنیہ اور کچھ ساحلی شہروں تک محدود ہو کر رہ گئی۔ اس جنگ کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ عثمانیوں کا اثرورسوخ اپنی سب سے بڑی دشمن سلطنت کے اندر تک ہو گیا

بلکہ عثمانی سلطان کا سسر رومیوں کا شریک شہنشاہ بن گیا۔ عثمانیوں کے لیے یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ اور اس پر مزید یہ کہ اب وہ اپنے مغرب میں واقع ان کیراسی ترکوں پر بھی حاوی ہو گئے تھے جو ان کے دوسرے بڑے دشمن تھے۔ کیراسی سلطنت آہستہ آہستہ عثمانیوں کے آگے گھنٹے ٹیکتے ٹیکتے ختم ہو گئی۔

کیونکہ اب ان کے ساتھ کوئی بڑا اتحادی نہیں رہا تھا۔ کیراسی سلطنت پر قبضے کی وجہ سے عثمانی ترک سمندر کے اس حصے ڈارڈینلز یا در انیال کے قریب آ گئے تھے جہاں سے وہ یورپ میں داخل ہو سکتے تھے۔ کیونکہ اناطولیہ سے یورپ میں داخلے کے دو ہی راستے تھے۔ ایک یہ کہ رومی سلطنت کا انتہائی مضبوط قلعہ قسطنطنہ فتح کر کے اس راستے سے یورپ میں داخل ہوا جائے جو کہ اس وقت بہت مشکل تھا۔

دوسرا راستہ یہی درہ دانیال کا تھا جو آپ نقشے میں دیکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی یورپ میں داخل ہونا اور یورپ کو فتح کرنا ترکوں کے لیے ایک خواب تھا۔ یہ خواب ان کے بانی غازی عثمان بے نے دیکھا تھا۔ اور اب وہ اس خواب کے کنارے پر تھے لیکن درمیان میں ایک سمندر حائل تھا۔ چھوٹا سا کم چوڑائی والا سمندر، لیکن تھا تو سمندر ناں۔

اور دوسری طرف یورپ کی طاقتور فوج بھی جو کسی صورت انھیں درہ دانیال کے پار آتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ لیکن ناممکن کو ممکن کرنے کے لیے قدرت کے کارخانے میں واقعات جنم لیتے رہتے ہیں ان کا انتظار کرنا چائیے۔ فورٹینتھ سینچری کے مڈ میں کانٹیکازینس نے اپنے بیٹے کو اپنی جگہ بادشاہ بنانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف بھی بغاوت ہو گئی۔ کانٹیکازینس نے ایک بار پھر وہی کیا جو پہلے کیا تھا، یعنی سلطان اورحان سے مدد مانگ لی۔ اب تو ویسے بھی وہ سلطان اورحان کا سسر تھا۔

لیکن اب سلطان اورحان نے ایک اور شرط بھی رکھ دی۔ اس نے کہا کہ اگر میں تمہاری مدد کرتا ہوں تو مجھ یورپ اور ایشیا کے درمیان حائل پتلا سا سمندر درہ دانیال پار کر کے دوسری طرف گیلی پولی میں ملٹری بیس قائم کرنے دی جائے۔ کانٹیکازینس کو اورحان کی فوجی مدد ہی چاہیے تھی اور یورپ میں ہی چاہیے تھی اس لیے وہ مان گیا۔ اور یوں عثمانی ترک بغیر ایک قطرہ خون بہائے یورپ میں داخل ہو گئے۔ عارضی طور پر ہی سہی لیکن داخل ہو گئے۔

سلطان اورحان نے اپنے بیٹے سلیمان کو ایک بڑی فوج کے ساتھ گیلی پولی بھیج دیا۔ عثمانی فوج کے مدد کو آ جانے سے کانٹیکازینس کی پوزیشن مضبوط ہو گئی۔ لیکن ساتھ ہی اس کے لیے ایک مسئلہ بھی کھڑا ہو گیا۔

وہ یہ کہ ترکوں کی روایت تھی کہ وہ غازہ کرتے تھے۔ یعنی عسیائی علاقوں کو اپنی سلطنت کا حصہ بنانے کے لیے جہاد کرتے تھے۔ جسے وہ غازہ کا نام دیتے تھے اور غازہ کرنے والوں کو غازی کہا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ترک حکمرانوں کو غازی بھی لکھا جاتا ہے جیسا کہ عثمان غازی، اورحان غازی۔ تو سلطان اورحان غازی کے بیٹے سلیمان غازی نے یورپ میں صرف ملٹری بیس بنانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے پیشقدمی شروع کر دی

اور یورپ میں رومی سلطنت کے قلعے قسطنطنیہ کے مغرب میں، اس علاقے تھریس پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ قبضہ شروع ہوا تو رومیوں کی دل و دماغ میں خطرے کی گھںٹیاں بجنے لگیں۔ کیونکہ اب طاقتور عثمانی ترک جو رومی سلطنت کے مشرق تو تھے ہی، اب مغرب میں بھی پھیل رہے تھے۔ اور یہ سب کچھ رومی شہنشاہ کانٹیکازینس کی وجہ سے ہو رہا تھا۔ تو کیٹا کیوزنس کو رومیوں کی طرف سے شدید تنقید اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے اپنی عزت بچانے کے لیے فوری طور پر سلطان اورحان کو پیغام بھیجوایا کہ وہ یورپی علاقوں پر قبضے نہ کرے

فقط اپنی ملٹری بیس تک محدود رہے یا واپس چلا جائے۔ لیکن اسے جواب ملا کہ کفار کے جو علاقے مسلمانوں کی ریاست کا حصہ بن چکے ہیں واپس نہیں ہوں گے۔ چنانچہ گیلی پولی اور تھریس کا مشرقی علاقہ جہاں انھوں نے رومی شہنشاہ کی مدد کے لیے عارضی بیس بنائی تھی، مستقل طور پر سلطنت عثمانیہ میں شامل ہو گیا۔

اور یہ علاقہ آج بھی ترکی کا حصہ ہے۔ بہرحال کانٹیکازینس کی وجہ سے چونکہ یہ سارا معاملہ ہوا تھا تو قسطنطنیہ میں اس کی بادشاہت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ رومی سلطنت کو نیا شہنشہا مل گیا جو اب سلطان اورحان غازی کا ساتھی نہیں کھلا دشمن تھا۔ جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا تھا۔ کانٹیکازینس کی باشاہت ختم ہوئی تو تیرہ سو باسٹھ میں سلطان اورحان غازی کا بھی انتقال ہو گیا۔

لیکن اپنے انتقال تک اورحان اپنے باپ سے ملی ریاست کو ایک سلطنت بنا چکا تھا۔ جو پہلے سے دگنی ہو چکی تھی اور اناطولیہ سے نکل کر یورپ تک پھیل گئی تھی۔

لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ سلطان اورحان کے تین بیٹے تھے اور سلطنت کسی ایک کو ملنا تھی۔ سلیمان، مراد یا خلیل میں سے کسی ایک کو۔ یا پھر سلطنت کے تین ٹکڑے کیے جانے تھے۔ تو ان تینوں میں سے ایک سلیمان جس نے یورپ میں اپنے باپ کے حکم سے پہلا ملٹری بیس بنایا تھا ۔ وہ مقابلے سے ہی آوٹ تھا کیونکہ وہ پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔

باقی بچے دو۔ مراد غازی اور خلیل غازی۔ تو مراد غازی نے خلیل غازی کو قتل کر دیا۔

سلطان غازی مراد اول اب عثمانی سلطنت کا نیا حکمران تھا۔ تو غازی مراد اول نے تخت پر بیٹھتے ہی ترکوں کی غازہ روایت کو آگے بڑھایا۔ لیکن اس نے فوج میں ایک نیا اضافہ کیا۔ یہ نیا اضافہ تھا غلاموں کی فوج کا۔

یہ غلاموں کی فوج کیا تھی؟ اور تاریخ میں اتنی مشہور کیوں ہے؟

یہ سب کچھ آپ پڑھے گے آٹومین ایمپائر کی اگلی قسط میں۔۔۔

اگر اپ نے اس سریز کا پہلا حصہ ابھی تک نہیں پڑھا تو ادھر کلک کریں

The Ottoman Empire ( part 1)


No comments:

Post a Comment