Thursday, February 3, 2022

Battle for Sindh Muhammad Bin Qasim and Raja Dahir ( PART TOW)

                                          ‏‏محمد‏‌بن ‏‏‍قاسم
Battle for Sindh Muhammad Bin Qasim and Raja Dahi ( PART TOW)
سندھ کا ساحلی شہر دیبل عرب لشکر کے گھیرے میں تھا پانچ منجنیقیں شہر پر پتھروں کی بار ش کر رہی تھیں۔ مگر شہر کے محافظ ہار نہیں مان رہے تھے۔ ایک وجہ یہ تھی کہ انھیں ایک طلسم ایک میجیک پر اندھا یقین تھا۔ ان کا عقیدہ بن چکا تھا کہ جب تک شہر ایک جادو کے حصار میں ہے یہ فتح نہیں ہو سکتا۔ لیکن ایک ماہر نے ایسا تاک کر نشانہ مارا کہ ذہنوں میں قائم یہ طلسم، نظروں کے سامنے ٹوٹ گیا۔ یہ کیسے ہوا؟ فتح سندھ کے آخری معرکے کی کہانی کیا تھی؟ میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی کہانی معرکہ سندھ کے دوسرے اور آخری حصے میں ہم آپ کو یہی سب دکھا رہے ہیں دیبل شہر کے درمیان میں بدھ مت کا ایک سو بیس فٹ اونچا مندر تھا جس پر ایک گنبد بھی قائم تھا۔ اس گنبد کے نیچے کمرے بنے تھے جن میں مورتیاں رکھی ہوئیں تھیں۔ ان میں سب سے بڑی مورتی مہاتما بدھ کی تھی۔ مندر پر چار پٹیوں والا سرخ پرچم لہرا رہا تھا۔ کہتے ہیں اس پرچم کے نیچے ایک تعویذ بھی بندھا ہوا تھا۔ شہر کے لوگ مانتے تھے کہ اس پرچم اور تعویذ کی وجہ سے ان کا شہر جادو کے ایک حصار میں محفوظ ہے اور کسی بھی بیرونی حملے کا شکار نہیں ہو سکتا۔ ان کے خیال میں یہی وجہ ہے کہ عربوں کے پہلے لشکر کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ یہی راز تھا جو محافظوں کو لڑنے کا حوصلہ دیئے رکھتا تھا۔ لیکن پھر شہر میں رہنے والے ایک برہمن نے محمد بن قاسم کو یہ راز بتا دیا۔ 

اس نے کہا اگر تم دیبل فتح کرنا چاہتے ہو تو مندر پر لگا پرچم اور مندر کا گنبد توڑ ڈالو۔ محمد بن قاسم نے منجنیق کے ماہر جعونہ سلمی سے کہا اگر تم یہ مندر توڑ دو تو میں تمہیں دس ہزار درہم دوں گا۔ جواب میں جعونہ نے کہا اگر میں تین پتھروں سے مندر نہ توڑ سکا تو میرے ہاتھ کاٹ دینا۔ قاسم نے سر ہلا دیا۔ جعونہ نے عرب لشکر کی بہترین منجنیق عروس کو دو گز تک کاٹ کر چھوٹا کیا تاکہ اس سے مندر کی چوٹی کا درست نشانہ لیا جا سکے۔ پھر اس نے نشانہ باندھا اور دو پتھروں میں مندر کا پرچم بھی گرا دیا اور گنبد بھی توڑ ڈالا۔ مندر کا گنبد کیا ٹوٹا شہر والوں کی امیدیں، حوصلے اور لڑنے کا جذبہ بھی ٹوٹ گیا۔ انہوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے۔ عرب لشکر اندر داخل ہو گیا۔ دیبل کا قید خانہ توڑ کر مسلمان قیدی آزاد کرائے لیے گئے اور چار ہزار مسلمانوں کو شہر میں بسا دیا گیا۔ راجہ داہر چاہتا تو وہ دیبل کی مدد کیلئے فوج لے کر آ سکتا تھا مگر اس نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس کی وجہ وہ عرب تھے جنہوں نے راجہ داہر کے پاس پناہ لے رکھی تھی۔ 

ہم نے پچھلی پہلی قسط میں دکھایا تھا کہ ایک عرب محمد علافی اور اس کے ساتھیوں نے راجہ داہر کے پاس پناہ لے رکھی تھی۔ تو انہی عربوں نے راجہ داہر کو مشورہ دیا کہ وہ محمد بن قاسم کے لشکر کا مقابلہ نہ کرے کیونکہ اس لشکر میں بڑے بڑے عرب بہادر جنگجو موجود ہیں اور لشکر میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جو صرف راجہ داہر کو قتل کرنے کے لیے تیاری کر کے آیا ہے۔ یہ بات سمجھ کر راجہ داہر نے دیبل کی طرف بڑھنے کا ارادہ ملتوی کر دیا ترک کر دیا اور محمد بن قاسم کو سندھ میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ دیبل کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نیرون کوٹ یعنی موجودہ حیدر آباد کی طرف بڑھا۔ اس قلعے کے لوگ محمد بن قاسم کے لشکر کے دیبل پہنچے سے بھی پہلے حجاج بن یوسف کو ایک خفیہ پیغام بھیج کر اس کی اطاعت قبول کر چکے تھے۔ انہوں نے نیرون کوٹ کے دروازے محمد بن قاسم کیلئے کھول دیئے۔ دیبل اور نیرون کوٹ کی فتح سندھ کے تمام طاقتور سرداروں کیلئے ایک بڑا واضح پیغام تھی۔

 ان لوگوں نے جب دیکھا کہ محمد بن قاسم سندھ میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا آ رہا ہے اور راجہ داہر اس کے مقابلے پر آنے سے کترا رہا ہے تو انہیں یقین ہو گیا کہ عرب ضرور سندھ پر چھا جائیں گے۔ چنانچہ ان کی بڑی تعداد محمد بن قاسم کے پاس آ کر اس کی اطاعت کرنے لگی۔ اس بارے میں مورخین لکھتے ہیں کہ راجہ داہر کی رعایا کا ایک حصہ اس سے خوش نہیں تھا۔ کیونکہ راجہ نے بدھ مت کے پیروکاروں سے حکومت چھینی تھی اور ان سے سختی کرتا تھا اسی لیے بدھوں نے راجہ کے خلاف نیرون کوٹ جیسے علاقوں میں محمد بن قاسم کی مدد کی۔ بہت سے ہندو بھی راجہ داہر سے ناراض تھے کیونکہ اس نے ہندو روایات کے خلاف جا کر اپنی بہن سے شادی کر لی تھی یہ شادی اس وجہ سے ہوئی تھی کیونکہ توہم پرست راجہ کو ایک نجومی نے بتایا تھا کہ اس کی بہن اروڈ کے قلعے سے باہر نہ جائے گی، اور اس کی بہن کا رشتہ ایک راجہ طلب کرے گا، جو پھر ہندوستان کا بادشاہ بنے گا اور یہ لڑکی اس کی بیوی ہو گی۔ سوتوہم پرست راجہ نے رسمی طور پر اپنی بہن سے خود ہی شادی کر لی۔ رعایا نے راجہ کے اس اقدام کو اس کام کو بہت ناپسند کیا۔ 

تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ راجہ داہر کا سلوک چھوٹی ذات کے ہندوؤں سے اچھا نہیں تھا۔ خاص طور پر جاٹوں کے ساتھ تو راجہ جانوروں جیسا سلوک کرتا تھا۔ حتیٰ کہ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ جب بھی جاٹ گھر سے نکلیں وہ اپنے ساتھ کتا رکھیں تا کہ دور سے پہچانے جائیں۔ لیکن اس تاریخ کا ایک دوسرا ورژن بھی ہے جو مشہور مورخ مبارک علی نے لکھا ہے۔ وہ اپنی کتاب ان دا شیڈو آف ہسٹری میں لکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم کا ساتھ چھوٹی ذات کے ہندوؤں نے نہیں بلکہ بڑی ذات کے ہندوؤں، زمینداروں اور ایلیٹ کلاس نے دیا۔ ان کے مطابق سندھ کے زمینداروں اور ایلیٹ کلاس نے اپنی طاقت کو محفوظ رکھنے کیلئے فاتح عرب فوج کی مدد کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ برہمنوں نے پیش گوئیاںکر دی تھیں کہ مقدس کتابوں کے مطابق عربوں کو ہی فتح ملے گی۔ ان پیش گوئیوں کی وجہ سے ایک طرف تو ایلیٹ کلاس کو پارٹی بدلنے کا بہانہ مل گیا۔ دوسری طرف مقامی آبادی نے بھی بدلتے ہوئے حالات کو تقدیر کا لکھا سمجھا اورجہاں ان کے بڑے جا رہے تھے لیڈرز جا رہے تھے خود بھی اسی سائیڈ پر ہو گئے یعنی مبارک علی کے خیال میں سندھ کے عوام نے محمد بن قاسم کو اپنا مسیحا سمجھ کر اس کی اطاعت نہیں کی بلکہ صرف ایک نئے حکمران کے طور پر سلامتی کے لیے اسے قبول کر لیا۔ 

اس نئی حکومت میں نظام وہی پرانا قائم رہا کیونکہ برہمنوں اور پرانے سرداروں کو ہی نئے انتظام میں اعلیٰ عہدے دے دیئے گئے۔ ہوتے ہوتے محمد بن قاسم نے جلد ہی سندھ کے بڑے حصے پر کنٹرول کر لیا۔ لیکن ابھی تک راجہ داہر سے اس کی کھلی جنگ نہیں ہوئی تھی۔ راجہ داہر اپنی فوج کے ساتھ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر راواڑ کے قلعے میں ٹھہرا ہوا تھا جو موجودہ شہداد پور یا اس دور کے برہمن آباد کے نزدیک ہی کہیں واقع تھا۔ جبکہ محمد بن قاسم کا لشکر دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر نیرون کوٹ یعنی حیدر آباد میں ٹھہرا ہوا تھا۔ دریا کے مغربی کنارے پر جنگ تقریباً ختم ہو چکی تھی اور لوگ محمد بن قاسم کے پاس آ کر اس کی اطاعت قبول کر رہے تھے۔ لیکن ادھر سندھ سے ہزاروں کلومیٹر دور بصرہ میں حجاج بن یوسف جو کہ اصل میں اس جنگ کی کمان کر رہا تھا۔ بہت بے چین تھا۔ اسے حیرت تھی کہ محمد بن قاسم راجہ داہر سے فیصلہ کن جنگ کے بجائے سست کیوں پڑ گیا ہے؟ حجاج کو درحقیقت محمد بن قاسم کی طرف سے مالِ غنیمت کا انتظار تھا تاکہ وہ اموی خلیفہ سے اپنے وعدے کے مطابق فوجی اخراجات کا تین گنا شاہی خزانے میں جمع کرا سکے۔ چنانچہ حجاج نے محمد بن قاسم کو ایک سخت خط لکھا اور دھمکی دی کہ اگر تم نے لوگوں کو امان دینے کا سلسلہ بند نہ کیا تو جنگ کے اخراجات پورے کرنے کیلئے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ حجاج بن یوسف کے اس دھمکی نما خط کے بعد محمد بن قاسم نے جنگ دوبارہ شروع کر دی۔ اس نے کشتیوں کا ایک پل تیار کر کے رات کے وقت دریائے سندھ عبور کر لیا۔ 

جس وقت محمد بن قاسم کی فوج دریا پار کر رہی تھی تو اسے روکنے کیلئے راجہ داہر وہاں موجود نہیں تھا۔ وہ دور اروڑ کے قلعے کے پاس اپنے کیمپ میں سو رہا تھا۔ البتہ اس کے کچھ سپاہیوں نے عرب فوج کو دریا پار کرنے سے روکنے کی کوشش کی مگر عربوں نے تیروں کی ایسی بارش کی کہ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبورہو گئے محمد بن قاسم دریا پار کرنے کے بعد اپنی فوج کے ساتھ جس مقام پر ٹھہرا تھا اسے جے ور کہتے تھے۔ یعنی فتح کی جگہ۔ جب راجہ داہر کے ایک وزیر کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے کہا یہ برا شگون ہے اب عربوں کو فتح ملے گی۔ مگر راجہ داہر اب بھی جھکنے پر تیار نہیں تھا اس نے وزیر کی بات سن کر حقارت سے کہا محمد بن قاسم جے ور میں نہیں ہڈ باری میں اترا ہے جہاں صرف ہڈیاں پہنچتی ہیں۔ اس نے اپنی فوج کو تیار ہونے کا حکم دیا کیونکہ اب اسے ہر حال میں جنگ ہی کرنا تھی۔ عرب لشکر کے دریا پار کرنے کے بعد بھی کئی روز تک کھلی جنگ نہیں ہوئی بلکہ چھوٹی چھوٹی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ راجہ داہر نے اپنے بیٹے جیسینیہ سمیت کچھ سرداروں کو وقفے وقفے سے محمد بن قاسم کے لشکر سے لڑنے کے لیےبھیجا مگر ان سب کو شکست ہوئی۔ یہ حالت دیکھ کر راجہ داہر کے وزیر نے اس سے کہا کہ وہ کسی دوسرے راجہ سے مدد طلب کر لے۔ لیکن راجہ داہر نے اسے جھڑک دیا۔ اس نے کہا میں یہ بات برداشت نہیں کروں گا کہ کسی کے دروازے پر جا کر صدا لگاؤں اس سے پوچھوں کہ کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے؟ میں اپنے مخالف کا مقابلہ خود کروں گا۔ اگرجیت گیا تو میری بادشاہت مضبوط ہو گی۔ اگر قتل ہو گیا مارا گیا تو عرب اور سندھ کی کتابوں میں یہ لکھاجائے گا کہ سندھ کے راجہ نے اپنے ملک کی خاطر جان قربان کر دی۔ پھر راجہ اپنی فوج لے کر آگے بڑھا اور عرب لشکر سے تین میل کی دوری پر اپنا کیمپ لگا لیا فتح نامہ سندھ کے مطابق دونوں لشکروں میں رمضان کی دس تاریخ کو جمعرات کے روز جنگ ہوئی۔ 

راجہ داہر ایک سفید ہاتھی پر سوار ہو کر میدان میں اترا۔ جس گدی پر وہ بیٹھا تھا اس کے پیچھے جنگ کے دیوتا سیارہ زہرہ، وینس کی سونے کی ایک پینٹنگ نصب تھی کیونکہ نجومیوں کا ماننا تھا کہ سیارہ زہرہ راجہ کے پیچھے ہو گا تو اس کی فتح ہو گی۔ راجہ داہر ایک ہاتھی پر پر پالکی میں بیٹھا تھا اور پالکی کے گرد لوہے کا حصار بنایا گیا تھا تاکہ راجہ تیروں کی بارش سے محفوظ رہے۔ پالکی میں راجہ کیلئے ایک مضبوط کمان اور بہت سے تیر رکھ دیئے گئےتھے راجہ کے پاس شکنجے جیسا گول ہتھیار بھی تھا جس کے اندر کی طرف تیزدار چھریاں یا ہنجرلگے ہوئے تھے۔ اس ہتھیار کے ساتھ ایک رسی بندھی تھی جسے راجہ کمند کی طرح کسی کی گردن میں پھنسا کر اس کا سر دھڑ سے الگ کر سکتا تھا۔ پالکی میں راجہ کے ساتھ دو کنیزیں بھی تھیں جن میں سے ایک راجہ کو تیر پکڑاتی تھی اور دوسری پان کی گلوریاں بنا کرپیش کرتی تھی۔ ایسی حالت میں تپتی دھوپ میں دونوں لشکر ٹکرا گئے۔ کہتے ہیں یہ جنگ اتنی شدید تھی کہ تلواریں آپس میں رگڑنے سے تکڑانے سےچنگاریاں بلند ہوتی رہی۔ لڑتے لڑتے دونوں طرف کے بہت سے سپاہیوں کے ہتھیار بھی ٹوٹ گئے اور وہ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوکر لڑنے لگے۔ راجہ داہر لڑائی میں پوری طرح شریک تھا وہ اپنے تیروں سے عربوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ اگر کوئی عرب لڑتا ہوا ہاتھی کے قریب چلا جاتا تو راجہ اپنے شکنجے سے اس کی گردن اڑا دیتا۔ یہ منظر دیکھ کر ایک عرب سوار شجاع حبشی نے راجہ کو للکارا اور اس کے ہاتھی پر حملہ کر کے اس کی سونڈ زخمی کر دی راجہ نے غضبناک ہو کر ایک دو شاخہ تیر نکالا، اسے کمان پر چڑھایا اور ایسا تاک کر نشانہ لگایا کہ شجاع حبشی کا سر کٹ گیا۔ ایک مشہور عرب سوار کا جنگجو کا راجہ کے ہاتھوں یہ حشر دیکھ کر راجہ کی فوج کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے ایسا زبردست حملہ کیا کہ عرب میدان جنگ سے بھاگنے لگے۔ محمد بن قاسم یہ منظر دیکھ کرتھوڑا گھبرا گیا اس نے جلدی سے پانی کے چند گھونٹ پیے اور پھر پکار کر کہا مجھے دیکھو، میں تمہارا امیر محمد بن قاسم یہاں موجود ہوں کھڑا ہوں۔ 

کدھر بھاگتے ہو؟ ڈھالیں سنبھالو اور صبر کرو کیونکہ کافر شکست کھا چکے ہیں، فتح ہماری ہے محمد بن قاسم کی پکار سن کر عرب لشکر اس کے گرد جمع ہو گیا۔ لڑائی پھر تیز ہو گئی اور اس بار عرب لشکر کا پلہ بھاری ہونے لگا۔ لیکن جب تک راجہ زندہ تھا اس کی فوج کو شکست دیناممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ چنانچہ محمد بن قاسم کے حکم پر تیراندازوں نے راجہ کے ہاتھی پر جلتے ہوئے تیرپھینکنا شروع کر دیئے۔ ایک تیر ہاتھی کی پالکی کے حصار کو توڑ کر اندر داخل ہو گیا اور پالکی میں آگ لگ گئی۔ ہاتھی بے قابو ہو کر دریائے سندھ میں گھس گیا۔ ہاتھی پانی میں بیٹھ گیا اور تب تک بیٹھا رہا جب تک آگ بجھ نہیں گئی۔ اس دوران ایک تیر راجہ کے سینے میں بھی لگا۔ مگر راجہ اس تیر سے مرا نہیں، زخمی ہو کر ہاتھی سے اتر آیا۔ ایک عرب عمرو بن خالد اس کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے راجہ داہر کے سر پر تلوار ماری جس سے راجہ داہر وہیں ڈھیر ہو گیا۔ راجہ کی موت کے ساتھ ہی عربوں نے یہ تاریخ کی یہ اہم ترین جنگ جیت لی۔ راجہ کا سر کاٹ کر حجاج بن یوسف کے پاس عراق بھیج دیا گیا۔ لیکن کیا جنگ یہاں ختم ہو گئی۔ نہیں راجہ کی موت پر لڑائی ختم نہیں ہوئی تھی۔ کیوں؟ راجہ داہر کی موت کے بعد اس کا لشکر بھاگ کر راواڑ کے قلعے میں پہنچ گیا اور قلعے کے دروازے بند کر لئے گئے ان لشکریوں کی تعداد پندرہ ہزار کے قریب تھی قلعے میں راجہ داہر کی بیوی رانی بائی بھی موجود تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ راجہ داہر کی وہی بہن تھی جس سے اس نے رسمن پر شادی کی ہوئی تھی۔ رانی بائی کئی روز تک عرب حملہ آوروں کا مقابلہ کرتی رہی۔ مگر عربوں کی منجنیقوں نے قلعے کی دیواریں توڑ دیں تو رانی بائی نے راجہ داہر کے حرم کی دیگر عورتوں کے ساتھ خود کو آگ لگا کر خودکشی کر لی۔ رانی بائی کی موت کے بعد راجہ داہر کے خاندان کی مزاحمت جلد ہی دم توڑ گئی۔ راجہ داہر کا بیٹا جیسینہ، چتوڑ کی طرف بھاگ گیا۔

 کے بعد محمد بن قاسم نے برہمن آباد اور راجہ داہر کے مرکز اروڑ کے قلعےکو بھی فتح کر لیا۔ یوں سندھ، اموی سلطنت میں شامل ہو گیا۔ سندھ میں ہر جگہ محمد بن قاسم کا ایک فاتح کی حیثیت سے استقبال ہونے لگا وہ جہاں جاتا لوگ پھولوں کے ہار لے کر ڈھول بجاتے ہوئے اس کے استقبال کو نکل آتے۔ محمد بن قاسم سات سو پندرہ تک یعنی تقریباً تین، ساڑھے تین سال سندھ ہی میں ٹھہرا رہا۔ اس دوران اس نے ملتان پر بھی ایک بڑا حملہ کیا، ملتانیوں نے عربوں کے خلاف مزاحمت تو بہت کی لیکن عربوں نے ملتان شہر کا پانی بند کر دیا۔ جس کے کچھ دیر بعد یہ شہر فتح ہو گیا۔ ملتان محمد بن قاسم کی فتوحات کی آخری حد ثابت ہوا۔ اس کے بعد وہ مزید فتوحات نہ کر سکا۔ کیونکہ اموی خلافت میں کچھ بڑی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔ ایک تو یہ کہ سات سو چودہ میں محمد بن قاسم کا سرپرست حجاج بن یوسف انتقال کر گیا۔ اس واقعے کے ایک برس کے اندر اموی خلیفہ ولیدبن عبدالملک کی بھی موت ہو گئی جو کہ حجاج اور اس کے خاندان کا ہمدرد تھا۔ ولید کی موت کے بعد اس کا بھائی سلیمان خلیفہ بنا۔ سلیمان اپنے بھائی ولید کے دور کے بہت سے جرنیلوں اور گورنرز کو بلکل پسند نہیں کرتا تھا بلکہ ان سے دشمنی رکھتا تھا اور انہیں سخت سزائیں دینا چاہتا تھا۔ ان گورنرز میں جن سے وہ دشمنی رکھتا تھا حجاج بن یوسف بھی شامل تھا۔ جب سلیمان خلیفہ بنا تو حجاج تو مر چکا تھا مگر سلیمان نے اس کے رشتہ دار محمد بن قاسم سے بدلہ لیا۔ 

سلیمان نے خلیفہ بننے کے بعد یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا والی مقرر کیا۔ یزید نے سندھ پہنچ کر محمد بن قاسم کو گرفتار کر لیا۔ قاسم کو مجرموں کی طرح ٹاٹ کے کپڑے پہنائے، ہاتھ میں ہتھکڑی اور پیروں میں بیڑیاں ڈال کر عراق کے نئے گورنر کے پاس بھیج دیا۔  کو عراق میں واسط کے جیل خانے میں قید کیا گیا تھا۔ یہاں جیل میں اسے بدترین تکلیفیں دی گئیں انہیں اذینتوں سہتے سہتے سات سو پندرہ میں محمد بن قاسم کی روح پرواز کر گئی۔ کہتے ہیں محمد بن قاسم نے اپنی گرفتاری کے وقت ایک شعر پڑھا تھا جس کا اردو میں مطلب کچھ یوں تھا کہ لوگوں نے مجھے ضائع کر دیا اور دیکھو کس جوان کو ضائع کیا، وہ جوان جو مصیبت کے وقت کام آتا ہےاور وہ جوان جو سرحدوں کے دفاع کیلئے بہترین ہو۔ محمد بن قاسم کے بارے میں ایک غلط روایت مشہور ہے کہ راجہ داہر کی دو بیٹیوں نے خلیفہ ولید سے شکایت کی تھی کہ محمد بن قاسم نے ان کی عزت لوٹی ہے۔ چنانچہ ولید کے حکم پر محمد بن قاسم نے خود کو بیل کے چمڑے میں سلوا کر ایک صندوق میں بند کر لیا اور وہاں دم گھٹنے سے چل بسا۔ لیکن یہ روایت غلط ہے کیونکہ محمد بن قاسم کی موت ولید کے دور میں نہیں بلکہ سلیمان کے دور میں ہوئی تھی۔ سندھ میں اب بھی محمد بن قاسم کی یادگاریں باقی ہیں۔ سندھ کا پرانا دارالحکومت اروڑ اب ایک چھوٹی سی بستی میں بدل چکا ہے۔ 

یہاں محمد بن قاسم پبلک سکول بھی قائم ہے۔ آبادی کے باہر ایک مسجد کے چند ستون اب بھی قائم ہیں اورروایت ہےکہ اسے محمد بن قاسم نے تعمیر کروایا تھا۔ دوسری طرف قوم پرست سندھی راجہ داہر کو سندھ کا ہیرو مانتے ہیں۔ راجہ داہر کا مجسمہ نصب کروانے کیلئے سوشل میڈیا پر بحثیں آپ دیکھتے ہوں گئے تو دوستویہ محمد بن قاسم اور راجہ داہر کی تاریخی لڑائی کی کہانی آپ نے دیکھی لیکن تاریخ کے بارے میں بالکل بھی جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ کوئی بھی واقعہ تاریخ کا کوئی بھی واقعہ بس ایک ورژن ہوتا ہے جیتنے والے کا اپنا اور ہارنے والا کا اپناورژن۔ ہم کبھی بھی ماضی میں جا کر ایک ایک بات کی سو فیصد تصدیق نہیں کر سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ اس وقت سے قریب ترین جو کتابیں یا آثار موجود ہوں یا کچھ مخطوطات سکرپیچرز دریافت ہو چکے ہوں دستیاب ہوں سے جو منطقی لوجیکل بات سمجھ آئے اسے بطور تاریخ ریفرنس کے ساتھ پیش کر دیا جائے۔ 

No comments:

Post a Comment