Wednesday, February 2, 2022

Battle for Sindh Muhammad Bin Qasim and Raja Dahir( PART ONE)

              ‏‏محمد‏‌بن ‏‏‍قاسم
Battle for Sindh Muhammad Bin Qasim and Raja Dahiتیرہ سو برس پہلے کی سپرپاور اموی سلطنت کی سرحدیں شمالی افریقہ سے بلوچستان کے ساحل مکران تک پھیلی ہوئ تھیں۔اموی سلطنت کی سرحد پر اس کے ہمسائے میں تھی ایک چھوٹی سی ریاست سندھ۔  اتنی بڑی اموی سلطنت کیلئے یہ 
معمولی اس گورنر نے سندھ فتح کرنے کے لیے خزانوں کے منہ کھول دئیےسی لیکن امویوں کا ایک گورنر اسے غیر اہم نہیں سمجھتا   تھا ریاست بظاہر غیر اہم تھی ۔ آخر کیوں؟  سندھ اموی سلطنت کے مرکز سے بے حد فاصلے پر واقع تھااس لیے وہاں فوج بھیجنا اور چین آف سپلائی کو برقرار رکھنا مشکل کام تھا۔ پھر بھی اموی گورنر نے اس مشکل کام کے لیے اس وقت عرب اور سندھ کا حال کیا تھا؟ ایک نوجوان سالار ہی کو کیوں چنا؟ آٹھویں صدی، یعنی سات سو سے آٹھ سو عیسوی کے درمیان کاوقت،تاریخ کے اس دور میں شامل ہے جب ریاستوں اور سلطنتوں کے رقبے کسی عالمی قانون کے پابند نہیں ہوتےتھے۔ سلطنتوں کی حدود طاقت کے زور پر طے کی جاتی تھیں بڑی بڑی سلطنتوں کے ہمسائیے میں موجود، چھوٹی ریاستوں کے پاس دو ہی راستے ہوتے تھے بڑی بڑی سلطنتوں کے ہمسائیے میں موجود، چھوٹی ریاستوں کے پاس دو ہی راستے ہوتے تھے،وہ یا تو بڑی ریاست کی اطاعت قبول کر لیں یا پھر جنگ کے لیے تیار رہیں۔

 تو آٹھویں صدی میں اموی سلطنت ایک سپر پاور کا درجہ حاصل کر چکی تھی۔ اس کی حدود موجودہ بلوچستان کے علاقے مکران تک پھیلی تھیں۔ مکران ہی وہ علاقہ تھا جہاں سے سندھ کی سرحد شروع ہوجاتی تھی۔ امویوں کے پاس ایک طاقتور فوج تھی جو کسی بھی بڑی فوجی مہم کیلئے تیار رہتی تھی سندھ کا علاقہ عربوں کی فتوحات کے بالکل شروع دور سے ہی حملوں کی زد میں تھا۔ آٹھویں صدی میں سندھ پر راجہ داہر کی حکومت تھی۔ راجہ داہر سے پہلے بھی سندھ پر چودہ حملے عربوں کی طرفسے ہو چکے تھے۔ لیکن یہ حملے سرحدی جھڑپوں تک ہی محدود رہے تھے، انھیں بڑی فوجی مہمات یا لشکر کشی نہیں کہا جا سکتا۔

 اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب حکمران سندھ جیسے دور دراز علاقے میں فوجیوں اور خزانے کا نقصان برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اسی طرح جب امویوں نے عرب سلطنت کی باگ ڈوراپنے ہاتھ میں لی تو انہوں نے بھی سندھ پر کسی بڑے حملے کی پلاننگ نہیں کی۔ ایسے میں راجہ داہر کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ طاقتور ہمسایہ ریاست یعنی عرب سلطنت کے حکمرانوں سے اچھے تعلقات قائم کرتا۔ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرتا اور اپنی سلطنت میں آرام سے ان کا اتحادی بن کر رہتا وہ اموی خلیفہ کے دربار میں اپنا سفیر اور تحفے تحائف بھیج کر بھی امویوں کی ہمدردی حاصل کر سکتا تھا۔ مگر راجہ داہر نے اموی خلیفہ کو اپنا دوست بنانے کے بجائے الٹا کچھ ایسے کام کیے جو اموی حکمرانوں کو ناراض کرنے کا باعث بنے۔ اس نے امویوں کے ایک دشمن عرب جنگجو سردار محمد علافی اور اس کے پانچ سو ساتھیوں کو پناہ دے 

دی۔ راجہ داہر کا یہ اقدام طاقتور ہمسایہ ریاست کو چیلنج کرنے والی بات تھی۔ مگر امویوں نے اب بھی سندھ کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی۔ اس کی وجہ ایک بار پھر وہی تھی کہ سندھ کا علاقہ امویوں کے مرکز دمشق سے بہت دور تھا۔ اس 
لئے وہ بھی سابق حکمرانوں کی طرح یہاں کسی بڑی فوجی مہم پر پیسہ اور وقت برباد کرنے پر تیار نہیں تھے۔ یہ تو بات تھی 
اموی خلیفہ کی حد تک یعنی اس کے مائنڈ سیٹ تک۔ لیکن اموی سلطنت میں ایک گورنر حجاج بن یوسف بہت مہم جو قسم کا 
انسان تھا۔ حجاج عراق کا گورنر تھا۔ اور اس کے زیر کنٹرول علاقوں کی سرحد سندھ کے ساتھ ملتی تھی۔ اسے اپنے دور میں 
ایک ایسا موقع ملا جس سے اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور کسی بھی چیز کی پروا کیے بغیر سندھ پر حملے کا فیصلہ کر 
لیا۔ یہ موقع کیا تھا؟ مشہور ہے کہ سندھ کی بندرگاہ دیبل میں رہنے والی مید قوم کے بحری ڈاکوؤں نے سری لنکا کے آٹھ
بحری جہاز لوٹ لئے تھے۔
 ان جہازوں میں سری لنکا کے راجہ نے اموی خلیفہ کیلئے تحائف بھیجے تھے۔ مسلم مورخین کے مطابق یہ جہاز راجہ داہر کے حکم پر لوٹے گئے تھے۔ یعنی راجہ داہر ڈاکوؤں کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ ان ڈاکوؤں نے جہازوں میں سوار مسلمان عورتوں کو بھی قیدی بنا لیا اور ساحل کے قریب ہی کہیں دیبل کی جیل میں بند کر دیا۔ ان میں قبیلہ بنی عزیر کی ایک عورت نے بے بسی کے عالم میں اموی گورنر حجاج کو پکارتے ہوئے کہا ’اے حجاج میری مدد کو پہنچ۔‘ جب ان جہازوں سے بچ جانے والے کچھ لوگوں کی زبانی حجاج کو اس عورت کی پکار کا علم ہوا تو اس نے بیقرار ہو کر کہا میں حاضر ہوں۔ پھر حجاج نے راجہ داہر کو خط لکھ کر مسلمان قیدی رہا کرنے اور ڈاکوؤں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا راجہ داہر نے 
جواب میں لکھا کہ مسلمانوں کو اغوا کرنے والے سمندری ڈاکو ہیں ان سے زیادہ طاقتوراس علاقے میں کوئی نہیں، اور وہ 
میری اطاعت بھی نہیں کرتے۔ سو میں کچھ نہیں کر سکتا۔ راجہ کا یہی کچھ نہ کرنا یا انکار حجاج بن یوسف کو غضبناک کر 
گیا اور اس نے دیبل پر چڑھائی کا حکم دے دیا۔ یوں سندھ پر نئے حملوں کا آغاز ہو گیا۔ دوستو سری لنکن جہازوں کے دیبل 
میں لٹنے کا یہ قصہ مشہور تو بہت ہے مگر اس میں تین واضح جھول موجود ہیں۔
 
پہلا جھول یہ ہے کہ جہازوں کو لوٹنے کا الزام عرب فاتحین کی لکھی ہوئی تاریخ جیسے کہ چچ نامہ اور اس جیسی کتابوں میں لگایا گیا ہے۔ لیکن اس واقعے کا اس کے علاوہ دوسرا کوئی ریفرنس نہیں۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قصہ سچ بھی ہو سکتا ہے اور محض اپنے حملے کو اخلاقی جواز فراہم کرنے کی ایک کوشش بھی۔ دوسرا جھول یہ ہے کہ اس بارے میں راجہ داہر کا پوائنٹ آف ویو تاریخ میں موجود ہی نہیں ہے۔ یعنی سندھ میں اس دور میں ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی جس میں یہ بتایا جائے کہ راجہ داہر اس واقعے کے بارے میں خود کیا کہتا تھا؟ وہ اس واقعے میں ملوث تھا یا نہیں؟ یا اس کی نظر میں سندھ پر عربوں کے حملے کی اصل وجوہات کیا تھی؟وغیرہ۔۔۔ یہ سب تاریخ میں موجود نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں تیسرا جھول یہ ہے کہ حجاج بن یوسف تو بذات خود ایک بے حد ظالم انسان تھا۔ اتنا بے رحم اور سفاک تھا کہ اس نے مکہ مکرمہ کا سات ماہ تک محاصرہ کیا، خانہ کعبہ پر بمباری کر کے اس کی دیواریں گرا دیں یہاں تک کہ حجر اسود کے تین ٹکڑے ہو گئے تھے۔ اموی سلطنت میں ہزاروں مسلمان اس کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے یا قیدی بنا لئے گئے تھے۔ ایسے میں یہ مان لینا کہ وہ صرف رہم دلی کے جذبے سے سرشار ہو کر ایک عورت کو قید سے آزاد کروانے کے لیے اتنا بڑا لشکر بھیجنے پر تیار ہو گیا کافی مشکل لگلتا ہےکہ اس پر اعتبار کیا جائے۔ اگر یہ سب کچھ نہیں تھا تو پھرسوال پیدا ہوتا ہے حجاج نے سندھ پر حملہ کیوں کیا تھا؟

 اس بارے میں نامور تاریخ دان مبارک علی لکھتے ہیں کہ حجاج ایک چالاک سیاستدان تھا وہ اپنے فیصلے فائدہ اور نقصان دیکھے بغیر نہیں کرتا تھا۔ اس کے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ چنانچہ اس نے سندھ پر حملے کا فیصلہ بے بس عورتوں اور بچوں کی مدد کیلئے نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی فوائد حاصل کرنے کیلئے کیا تھا۔ مسلم دنیا میں تو حجاج بن یوسف کا ظلم و ستم کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ لیکن اس کے مقابلے میں راجہ داہر کی ایک مختلف تصویر سامنے پیش کرتا ہے۔ راجہ داہر اپنے دشمنوں سے بھی اچھے سلوک کیلئے مشہور تھا۔ اس بات کی گواہی سندھ کی فتح پر سب سے مشہور کتاب فتح نامہ سندھ نے بھی دی ہے اور اس کتاب کو ان لوگوں نے لکھا تھا جو محمد بن قاسم کے لشکر میں شامل تھے۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ راجہ داہر نے رمل کے راجہ کو شکست دینے کے بعد اپنے وزیر کے مشورے پر دشمن کے ہزاروں قیدیوں کو معاف کر دیا تھا اسی طرح راجہ داہر کا بھائی دہرسینہ اس کے خون کا پیاسا تھا مگر جب داہر کو اس کی موت کی خبر ملی تو وہ بھائی کے خیمے میں گیا اور اپنی پگڑی پھاڑ کر اس کی موت کا ماتم کرتا رہا۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر راجہ داہر اتنا ہی رحم دل تھا تو وہ بحری ڈاکوؤں سے قیدیوں کو چھڑا کیوں نہیں رہا تھا؟ مسلمانوں کی فتوحات پر لکھی کتاب فتوح البلدان کے مطابق راجہ داہر کا جواب یہ تھا کہ ’جہاز ڈاکوؤں نے لوٹے ہیں، جو میری دسترس سے،میری پہنچ سے باہر ہیں۔‘ یعنی راجہ داہر نے معذوری ظاہر کردی۔

 لیکن سندھ کے ممتاز رہنما جی ایم سید اپنی کتاب سندھ کے سورما یا ہیروز آف سندھ میں لکھتے ہیں کہ ہو سکتا ہے بحری قزاقوں نے واقعی لوٹ مار کی ہو لیکن راجہ داہر کوان کا ساتھ دینےسے بھلا کیا مل سکتا تھا؟ وہ لکھتے ہیں کہ جہاز لوٹنے کا واقعہ الزام تراشی ہے ورنہ اس سے قبل عربوں نے جو سندھ پر چودہ بار حملے کئے ان کا جواز کیا تھا؟ بہرحال تاریخ کے یہ دونوں ورژن بہت متنازعہ ہیں اور دونوں پر آج بھی بحث ہوتی ہے کہ جہازوں کو لوٹنے کا یہ واقعہ راجہ داہر کے حکم پر تھا یا اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہم نے یہ دونوں ورژن دیانتداری سے آپ کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔ اب حقیقت جو بھی ہو لیکن واقعہ یہ تھا کہ حجاج بن یوسف کے حکم پر اس کے دو سپہ سالاروں عبیداللہ بن نہبان اور بُدیل ابن طہفتہ نے دیبل پر حملہ کر دیا۔ عربوں کے یہ دونوں حملے بری طرح ناکام رہے۔ان حملوں میں حجاج بن یوسف کے یہ دونوں عرب سپہ سالار بھی مارے گئے۔ حجاج کو اپنے سپہ سالاروں میں سے بُدیل بہت زیادہ عزیز تھا۔ کہتے ہیں جب حجاج کو اس کے مارے جانے کی اطلاع ملی تو اس نے غصے میں اطلاع دینے والے کو بھی سزا سنا دی۔ اس کے بعد اس نے کوفے کے امام مسجد سے کہا کہ تم جب بھی اذان دو تو مجھے بُدیل کا قتل یاد دلاتے رہنا تاکہ میں انتقام لے سکوں اس واقعے سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ حجاج بن یوسف سندھ پر حملے کے لیےمزید بے چین ہو گیا تھا۔ حجاج کی اسی بے چینی کو دیکھتے ہوئے اس کے ایک کمانڈر عامر بن عبداللہ نے پیغام بھیجا کہ سندھ فتح کرنے کا موقع اسے دیا جائے۔ 

لیکن حجاج بن یوسف اس کمانڈر کی صلاحتیوں سے زیادہ متاثر نہیں تھا چنانچہ اس نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور سوچو بچار کرنے لگا۔ سوچو بچار کے بعد وہ نجومیوں کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے ایک زائچہ بنوایا اور خود فال نکالی۔ زائچے اور فال دونوں سے جو اسےاشارے ملے ان کے مطابق سندھ کو ایک ہی شخص فتح کر سکتا تھا اور وہ تھا عماد الدین محمد بن قاسم یہ واقعہ فتح نامہ سندھ میں لکھا ہے۔ مگر مبارک علی کے نزدیک محمد بن قاسم کو سندھ کی فتح کیلئے بھیجنے کی وجہ علمِ نجوم یا کوئی فال نہیں تھی بلکہ کچھ اور تھی۔ ان کے نزدیک ایک وجہ تو یہ تھی کہ محمد بن قاسم فوجی معاملات میں ناتجربہ کار تھا اور حجاج کو یقین تھا کہ وہ اس مہم کے دوران حجاج کی اتھارٹی کو بلکل چیلنج نہیں کرے گا بلکہ اس کا ہر حکم من و عن تسلیم کرے گا۔ اور یہی حجاج بن یوسف چاہتا تھا اس کا کوئی حکم سو فیصد حرف با حرف مانتے ہوئے اس کا کوئی جنرل سندھ پر حملہ کرے دوسری وجہ یہ تھی کہ محمد بن قاسم، حجاج کا رشتے دار تھا اور حجاج اس کی تربیت کر کے اپنے خاندان اور قبیلے کی طاقت بڑھانا چاہتا تھا۔ سو اب سندھ فتح کرنے والی فوج کی کمان محمد بن قاسم کو سونپ دی گئی۔ بلکہ ساتھ میں حجاج بن یوسف نے اسے یعنی محمد بن قاسم کو پہلے ہی سندھ کا گورنر بھی مقرر کر دیا۔ تو جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ حجاج بن یوسف محمد بن قاسم کی فوجی تربیت کرنا چاہتا تھا اسی تربیت کے لیے محمد بن قاسم کو ایرانی شہر شیراز میں بیجھا گیا تھا۔ وہاں سے محمد بن قاسم نے کسی دوسرے کام سے ایران کے شہر ’رے‘ جانا تھا۔

 اس وقت ایک ریفرنس کے مطابق اس کی عمر سترہ برس اور دوسرے کے مطابق اٹھائیس سال تھی عمر جو بھی ہو لیکن جب اسے شیراز میں حجاج بن یوسف کا پیغام ملا کہ اسے سندھ پر حملے کے لیے ایک فوج کی قیادت کرنا ہے تو وہ رے شہر نہیں گیا بلکہ شیرازہی میں ٹھہر گیا۔ کیونکہ جس فوج کی اسے قیادت کرنا تھی اس کے پہنچنے میں ابھی کچھ دیر تھی سو وہ اتنظار کرنے لگا۔ محمد بن قاسم کا انتظار چھے ماہ بعد ختم ہوا اور چھے ہزار شامی گھڑ سواروں کی تربیت یافتہ فوج شیراز پہنچ گئی۔ ساتھ میں تین ہزار اونٹ بھی تھے جن پر سندھ کے لمبے سفر کے لیے ضرورت کا ہر سامان موجود تھا۔ سامان بھیجتے ہوئے حجاج نے فوج کی ایک ایک ضرورت کا بھرپور خیال رکھا تھا۔ یہاں تک کہ سامان میں سرکہ بھی موجود تھا کہ کیونکہ عرب فوج ہندوستانی کھانوں کی عادی نہیں تھی۔ اس لیے امکان تھا کہ وہ وہاں کے کھانے کھا کر بیمار پڑ جائیں گئے۔ اس لیے بطور خوراک سرکہ بھی ساتھ میں تھا۔سرکے کو محفوظ رکھنے کیلئے اسے روئی میں بھگو کر خشک کر لیا گیا تھا۔ عرب سپاہی جب چاہتے روئی کو پانی میں بھگو کر سرکہ نکال سکتے تھے اور استعمال کر سکتے تھے۔ تیر تلوار نیزے تو ظاہر ہے تھے ہی، مگر راستے میں پھٹے کپڑے سینے کے لیے درزیوں کا بھی بھرپور انتظام تھا۔ پھر راستے کے ضروری اخراجات کیلئے تیس ہزار دینار کی رقم الگ سے ساتھ تھی۔ حجاج نے تیاریوں کے اعتبار سے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھا تھا۔ فوج کے نکل جانے کے بعد بھی وہ سامان اور احکامات بھیجنے میں سستی نہیں کر رہا تھا۔ لیکن اس سارے بندوبست میں ایک مسئلہ تھا۔ 

وہ یہ کہ ان تیاریوں کی وجہ سے شاہی خزانے پر بہت زیادہ بوجھ پڑ رہا تھا۔ اموی خلیفہ ولید بن عبدالمالک اتنی لمبی مہم پر اتنے زیادہ پیسے خرچ کرنے کو تیار نہیں تھا۔ مگر حجاج نے اموی خلیفہ سے وعدہ کیا کہ وہ سندھ کی مہم پر خرچ ہونے والی رقم کا تین گنا واپس خزانے میں جمع کرائے گا۔ یہ سن کر خلیفہ کسی حد تک مطمئن ہو گیا۔ ادھر محمد بن قاسم نے بھی شیراز سے سندھ کے بارڈر مکران کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ سات سو گیارہ عیسوی کے آس پاس محمد بن قاسم مکران پہنچا تو یہاں اسے مزید چھے ہزار اونٹ سواروں کی ایک اورکمک ایک اور امداد مل گئی اس کے علاوہ مکران کے گورنر محمد بن ہارون نے بھی اس کی فوجی مدد کی۔ اس ساری فوج کے علاوہ حجاج بن یوسف نے دیبل کی دیواریں توڑنے کیلئے پانچ منجنیقیں خصوصی طور پر بحری جہازوں کے ذریعے دیبل روانہ کر دی تھیں۔ ہر منجنیق کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کے لیے پانچ سو آدمی موجود تھے۔ ان میں ایک منجنیق کا نام عروس ، دلہن برائیڈ تھا۔ اب یوں تھا کہ دو راستوں سے عرب لشکر سندھ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ زمینی راستے سے محمد بن قاسم اور سمندر سے منجنیقیں لانے والا لشکر جو چھوٹا تھا۔ اس سارے انتظام کے باوجود بھی حجاج بن یوسف کے ذہن میں اپنے انتہائی قابل جرنیلوں کا انجام بھی تھا۔ سو وہ کسی صورت اس بار یہ شکست نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ سو اس نے ایک اور کام یہ کیا کہ جنگ کی کمان بھی اپنے ہاتھ میں پوری طرح سے لے لی۔ اور اس کے لیے اس نے تیز رفتار پیغام رسانی، کمیونیکیشن کا ایک نظام تشکیل دیا۔ اس نظام میں تیز رفتار گھڑسوار قاصد، ہارس رائیڈرز اور بحری جہاز شامل تھے۔

 یہ نظام محمد بن قاسم تک حجاج بن یوسف کے پیغامات فوری پہنچاتا تھا اور محمد بن قاسم کی خبریں حجاج بن یوسف تک جلد سے جلد لے آتا تھا۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس دور میں آج کل کی طرح کچھ دنوں کی جلدی جلدی والی جنگ نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ یہ جنگیں مہینوں اور سالوں کی کیمپینز ہوا کرتی تھیں۔ اس لیے سیکڑوں میل دور بیٹھاایک شخص چند دن کے فرق سے اطلاعات وصول کر سکتا تھا اور خبریں وصول کر کے نئے احکامات بھی جاری کرسکتا تھا تاکہ مناسب وقت پر ان پر عمل سکے۔ ہاں جب بالکل تیر تلوار سے جنگ شروع ہو جاتی تھی، اس وقت البتہ وہ بے بس ہوتا تھا۔ ڈاکٹر مبارک لکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم کی ناتجربہ کاری کو دیکھتے ہوئے حجاج بن یوسف نے اسے سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے تجربہ کار کمانڈرز کے مشورے کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھائے۔ محمد بن قاسم نے دیبل جانے سے پہلے بلوچستان کے موجودہ شہر پنجگور اور پھر ارمابیل کو بھی فتح کر لیا۔ ان دونوں شہروں کو فتح کرنے اور فوج کو تازہ دم کرنے میں تقریباً اسےایک سال اور لگ گیا۔ اور سات سو بارہ عیسوی میں سمندر کے راستے بھیجی ہوئی منجنیقیں دیبل پہنچ گئیں۔ جمعے کے روز محمد بن قاسم بھی اپنے لشکر کے ساتھ پہنچ گیا۔ اس نے نماز جمعہ کا خطبہ بھی پڑھا اور منجنیقیں قلعے کے سامنے نصب کر دیں۔ اب محمد بن قاسم دیبل پر حملے کیلئے بالکل تیار تھا۔ بس انتظار تھا تو حجاج بن یوسف کے حکم کا۔ حجاج بن یوسف نے دیبل کے حوالے سے محمد بن قاسم کو ایک خاص ہدایت کی تھی۔ 

اس نے کہا تھا کہ جب تم دیبل پہنچو تو ایک آدمی کو ہمیشہ قرآن پاک کی تلاوت پر لگائے رکھنا۔ جب ضرورت پڑے تو لاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم کا وظیفہ پڑھنا۔ دیبل کے پاس اپنے کیمپ کے گرد چوبیس فٹ چوڑی اور اٹھارہ فٹ گہری خندق کھودنا اور اس خندق کے کناروں کو مٹی کے ذریعے اٹھارہ فٹ اونچا کر دینا۔ دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئےخاموش رہنا۔ چاہے دشمن نعرے لگائیں اور بیہودہ بکواس کریں اور چاہے وہ تیار ہو جائیں مگر جب تک میں حکم نہ بھیجوں جنگ نہ شروع کرنا۔ محمد بن قاسم نے حکم پر پورا پورا عمل کیا۔ دیبل کے پاس کیمپ لگا کر اس کے گرد خندق کھود لی گئی۔ جیسا کہ حجاج بن یوسف نے کہا تھا۔ اُدھر حجاج بن یوسف فتح کیلئے صدقات اور خیرات بھی کرتا جا رہا تھا۔ عرب لشکر پہنچنے کے آٹھویں روز حجاج بن یوسف نے حملے کا حکم دے دیا۔ یہ حملہ ہوا لیکن اس حملے میں دیبل فتح نہ ہو سکا۔ کیوں؟ آخر ایسا کیا ہوا کہ محمد بن قاسم کے لشکر کی منجنیق کاٹنا پڑ گئی راجہ داہر نے عرب لشکر کا مقابلہ کیسے کیا؟ کیا راجہ داہر کی بیٹیوں نے محمد بن قاسم سے انتقام لیا تھا؟ محمد بن قاسم جب عرب لوٹا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟ 


یہ سب آپ کو محمد بن قاسم کے دوسرے حصے میں یہاں ملے گا۔

No comments:

Post a Comment